BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 May, 2007, 08:47 GMT 13:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
متحدہ کے کارکنوں کیخلاف شکایت

فائل فوٹو
بارہ مئی کو جسٹس افتخار کی کراچی آمد پر ہنگامے پھوٹ پڑے تھے
کراچی پولیس نے 12 مئی کو سٹی کورٹ آنے والے وکلاء پر فائرنگ، تشدد اور حبس بے جا میں رکھنے کی ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کردیا اور صرف روزنامچہ میں شکایت درج کرنے پر اکتفا کیا ہے۔

یہ شکایت ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کراچی کے سکریٹری جنرل نعیم قریشی کی مدعیت میں تھانہ سٹی کورٹ کے روزنامچہ میں درج کی گئی ہے۔

رپورٹ درج کرنے والے روزنامچہ محرر نورالدین نے تحریر کیا ہے کہ مدعی نعیم قریشی تین سو وکلاء کے ساتھ سولہ مئی کو تھانے آئے اور انہوں نے شکایت درج کرائی کہ بارہ مئی کو چیف جسٹس کے بار سے خطاب میں شرکت کے لیے جانے والے وکلاء کے جلوس پر مسلح افراد نے چاروں جانب سے فائرنگ اور پتھراؤ کیا جس سے متعدد وکلاء زخمی ہوگئے جن میں خواتین بھی شامل تھیں۔

مدعی کے دعوے کے مطابق یہ مسلح افراد گاڑیوں پر سوار تھے جن پر متحدہ قومی موومنٹ کے جھنڈے آویزاں تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’بعد میں متحدہ قومی موومنٹ کے شرپسندوں نے کراچی بار میں محصور وکلاء کو گھیرے میں لیکر فائرنگ کی، انہیں زدوکوب کیا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ اس دوران شرپسندوں نے خواتین وکلاء کے بار روم کو بھی آگ لگا دی جس سے فرنیچر جل گیا اور خواتین وکلاء نے انتہائی مشکل حالات میں اپنی جان بچائی۔‘

مدعی نے مزید کہا ہے کہ اس دوران ڈسٹرکٹ اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز اور سندھ بار کونسل کے ارکان جو کراچی بار کے اندر محصور تھے مسلسل اپنی جان بچانے کے لیے تھانہ سٹی کورٹ کے ایس ایچ او، صوبائی انتظامیہ، گورنر سندھ اور پولیس کے اعلیٰ افسران سے رابطے کرتے رہے لیکن شام پانچ بجے تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ’شرپسندوں نے سندھ بار کونسل کی رکن نور ناز آغا کو اسلحے کے زور پر یرغمال بناکر ڈینسو ہال کی ایک عمارت میں لے جاکر محصور کردیا تھا۔‘

مدعی نے رپورٹ میں استدعا کی ہے کہ ’ان واقعات میں ملوث متحدہ قومی موومنٹ کے ذمہ داران، پولیس اور حکومت سندھ کے متعلقہ افسران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔‘

کراچی پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی نے رابطہ کرنے پر پولیس رپورٹ سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا: ’میں اس رپورٹ کے بارے میں معلوم کرتا ہوں۔ اگر کوئی قابل دست اندازی جرم بنتا ہے تو اسے ایف آئی آر میں تبدیل کیا جائےگا ورنہ نہیں۔‘

’نظریاتی ٹکراؤ نہیں ہے‘
 وکلاء اگر اپنی دانست میں عدلیہ کی بحالی کے لیے کوشش کر رہے ہیں تو وہ سر آنکھوں پر کیونکہ ہم بھی اسی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جس سے وکلاء کی اکثریت کا تعلق ہے اور ہمارا اور ان کا کوئی نظریاتی ٹکراؤ نہیں ہے
فیصل سبزواری

نعیم قریشی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کردیا تھا اور صرف روزنامچہ میں ان کی شکایت درج کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ جمعہ کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں اس رپورٹ کو ایف آئی آر میں تبدیل کرانے کے لیے درخواست داخل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ روزنامچہ میں درج کی جانے والی رپورٹ کی قانونی حیثیت ایف آئی آر کے مساوی ہی ہوتی ہے کیونکہ مدعی اسے عدالت کے ذریعے اسے ایف آئی آر میں تبدیل کراسکتا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی فیصل سبزواری نے کہا کہ یہ الزامات کسی غلط فہمی یا کسی بھڑکاوے کا نتیجہ ہیں۔

انہوں نے کہا: ’وکلاء سے نہ ہمارا کوئی تصادم ہے نہ ہی کوئی ٹکراؤ ہے۔ وکلاء اگر اپنی دانست میں عدلیہ کی بحالی کے لیے کوشش کر رہے ہیں تو وہ سر آنکھوں پر کیونکہ ہم بھی اسی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جس سے وکلاء کی اکثریت کا تعلق ہے اور ہمارا اور ان کا کوئی نظریاتی ٹکراؤ نہیں ہے۔‘

فیصل سبزواری نے کہا: ’سیاسی عزائم رکھنے والے بعض وکلاء دوسرے وکلاء پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن امید ہے کہ بہتر سوچ کا مظاہرہ کیا جائے گا۔‘

دیکھئیےسخت سیکورٹی
جسٹس کی آمد سے پہلے کراچی ائرپورٹ محفوظ
کراچیکراچی میں قتل
شہر میں تشدد: خصوصی ضمیمہ
دیکھئیےملک بھر میں ہڑتال
کراچی میں ہلاکتوں کے بعد مظاہرے
فوجی اہلکار ائرپورٹ ڈیوٹی پرکراچی خاموش
چیف جسٹس کی آمد پر حفاظتی انتظامات
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد