BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 May, 2007, 12:04 GMT 17:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جسٹس کو دوبارہ مدعو کریں گے‘

ہماری جماعت وکلاء کے کاز کی حمایت کرتی ہے: الطاف حسین
سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ابرار حسن نے کہا کہ وہ چیف جسٹس کو دوبارہ کراچی مدعو کریں گے اور اس سلسلے میں دو دن بعد اسلام آباد جا کر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے ملاقات کریں گے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ابھی اس سلسلے میں کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی ہے۔

ابرار حسن نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ میں اپنے ایک کیس کی شنوائی کے سلسلے میں اسلام آباد جا رہے ہیں جہاں وہ چیف جسٹس سے ملاقات کریں گے اور انہیں سپریم کورٹ کی پچاس سالہ تقریبات سے خطاب کرنے کے لیے دوبارہ کراچی آنے کی دعوت دیں گے۔ ابرار حسن نے کہا کہ ’میں چیف جسٹس سے ان کے دلی جذبات معلوم کروں گا اور یہ بھی کہ وہ کب کراچی آسکتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ اگر چیف جسٹس کراچی آمد پر رضامند ہوں گے تو پھر وہ واپس آ کر بار کی منیجنگ کمیٹی کا اجلاس بلائیں گے جس میں دورے کی تاریخ طے کی جائے گی۔

اس کے علاوہ ابرار حسن کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے ان سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ اور ان کی جماعت عدلیہ کی آزادی اور دستور کی بالادستی کے لئے وکلاء کی جدوجہد میں برابر کے شریک ہیں تاہم انہوں نے اس بات پر اعتراض کیا کہ وکلاء کی جدوجہد میں سیاسی جماعتیں شریک نہ ہوں۔‘

ایم کیو ایم کے رہنما نے یہ باتیں ابرار حسن سے ٹیلی فون پر گفتگو میں کہی۔

ابرارحسن نے کہا کہ انہوں نے الطاف حسین کو کہا کہ ’ کروڑوں عوام وکلاء کے ساتھ کھڑے ہیں اس لیے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کونسی سیاسی پارٹی ہمارے ساتھ آئے یا نہ آئے۔ لیکن بارہ مئی کو جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا وہ قیامت سے کم نہیں تھا اس لیے کہ ججز اور وکلاء کی گاڑیوں پر ڈنڈے اور گھونسے برسائے گئے اور گالیاں دی گئیں اور وکلاء کا راستہ روکا گیا۔ ہائی کورٹ اور دوسری عدالتوں کو جانے والے تمام راستے بند کردیے گئے۔ ہم چیف جسٹس کو لانے کے لیے ائرپورٹ نہیں جاسکے حالانکہ ان سب باتوں کا علم حکومت سندھ کو تھا۔‘

ابرار حسن کے مطابق الطاف حسین نے ان واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں شرمناک قرار دیا۔

ابرار حسن نے کہا کہ الطاف حسین سے رابطہ کرنے کا مقصد یہی تھا کہ وکلاء کو یہ باور کرایا جائے کہ وہ اور ان کی جماعت وکلاء کے اس کاز کی حمایت کرتے ہیں کہ عدلیہ کی آزادی اور بالادستی قائم ہو۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت چیف جسٹس کے آئندہ دورہ کراچی پر بوکھلاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گی۔

معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری’اوپن ٹرائل کریں‘
معطل چیف جسٹس کا پہلا انٹرویو
چیف جسٹس افتخار چودھریجسٹس چودھری
آئینی درخواستوں کی سماعت کے لیے پانچ رکنی بینچ
مشرف’موزوں چیف جسٹس‘
مشرف کیلیے جسٹس افتخار بہتر: ملک قیوم
’اے کلاس قیدی‘
’جسٹس افتخار کو قیدی کی طرح رکھا جا رہا ہے‘
 جسٹس افتخارفیصلے کے محرکات
آخر جنرل مشرف نے ایسا کیوں کیا؟
اسی بارے میں
فل کورٹ میں سماعت آج سے
14 May, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد