فل کورٹ میں سماعت آج سے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے جج جسٹس فلک شیر کی طرف سے جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست سننے سے انکار کے بعد سپریم کورٹ کا تیرہ رکنی نیا بینچ آج سے تئیس ایسی درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے جن میں سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کو چیلنج کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کےچودہ رکنی بینچ نے سوموار کو جب ان درخواستوں پر سماعت شروع کرنی چاہی تھی تو جسٹس فلک شیر نے کہا کہ وہ پاکستان کے سب سے سینئر جج ہیں لیکن سپریم کورٹ کی سینیارٹی لسٹ میں ان کو آٹھ ججوں سے نیچے رکھا گیا ہے جن میں بعض تو ان سے نو سال جونئیر ہیں۔ انہوں نے کہا چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت آٹھ جونیئر جج ان سے سینئر تصور کیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا یہ نامناسب بات ہے کہ وہ اس فرد کا مقدمہ سنیں جس کے ساتھ ان کا تنازعہ ہے۔ جسٹس فلک شیر نے کہا کہ ان کے خیال میں کسی بھی جج کو وہ مقدمہ نہیں سننا چاہیے جس میں اس کو ذرہ سا بھی شائبہ ہو کہ وہ انصاف نہیں کر سکے گا۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ ان کے مؤکل کی طرف سے ان پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن اگر وہ بینچ پر نہیں بیٹھنا چاہتے تو یہ ان کے ضمیر کی آواز ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر دوسرے جج بھی اتنے ہی حساس ہوتے تو شاید معاملات اتنے زیاد ہ خراب نہ ہوتے۔ جسٹس فلک نے کہا:’مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ مجھ سے کبھی کوئی خوش نہیں رہا ہے۔‘ اس سے پہلے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر ملک اور پاکستان بار کونسل کے رکن ماجد رضوی نے عدالت کی توجہ بارہ مئی کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے کراچی کے دورہ پر پیدا ہونے والی صورتحال کی طرف دلائی۔ وکلاء نے کہا کہ چیف جسٹس کو نو گھنٹے تک کراچی ایئر پورٹ پر حراست میں رکھا گیا۔ اس موقع پر صدر پرویز مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری نے اونچی آواز میں کہنا شروع کر دیا کہ یہ لوگ عدالت کو سیاسی اکھاڑا بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور جو کچھ وکلاء کہے رہے ہیں وہ ’نان سینس‘ ہے ۔ جب سپریم کورٹ بار کے صدر منیر ملک نے صدر مشرف کے وکیل کو چپ ہونے کو کہا تو احمد رضا قصوری کو غصہ آ گیا اور دونوں وکیلوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی۔ چودہ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ آج جتنی تشویشناک صورتحال ہے شاید پہلے کبھی نہ تھی۔ جسٹس خلیل الرحمن نے کہا کہ اگر فل بینچ بھی ناکام ہو گیا تو نہ جانے کیا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ صورتحال کو بہتر کرنے کی ذمہ داری صرف چودہ ججوں کی نہیں ہے بلکہ وکلاء پر بھی ہے اور ان کو کوشش کرنی چاہیے کہ ایسے حالات پیدا ہوں جہاں عدالت کی کارروائی اچھے انداز میں چل سکے۔ فل کورٹ بینچ فل کورٹ کی سربراہی جسٹس خلیل الرحمن رمدے کر رہے تھے جبکہ اس کے باقی اراکین میں جسٹس محمد نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس میاں شاکر اللہ جان، جسٹس ایم جاوید بٹر، جسٹس تصدیق حسین جیلانی، جسٹس سید سعید اشہد، جسٹس ناصر الملک، جسٹس راجہ فیاض، جسٹس چودھری اعجاز احمد، جسٹس سید جمشید علی، جسٹس حامد علی مرزا اور جسٹس غلام ربانی شامل تھے۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے سات مئی کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو روک دیا تھا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنی درخواست میں الزام عائد کر رکھا ہے کہ نو مارچ کو جب انہوں نے مستعفیٰ ہونے سے انکار کر دیا تھا تو ان کو راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف ہاؤس میں حراست میں لے لیا گیا اور اس وقت تک ان کو وہاں سے جانے کی اجازت نہیں دی گئی جب تک قائم مقام چیف جسٹس کو حلف نہیں دے دیا گیا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا موقف ہے کہ چیف جسٹس کے بغیر سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل نا مکمل ہے۔ | اسی بارے میں ’کوریج میں احتیاط، میڈیا کو ہدایت‘14 March, 2007 | پاکستان جسٹس کیس: کب کیا ہوا؟05 May, 2007 | پاکستان فل کورٹ کی ہیئت کیا ہوسکتی ہے؟07 May, 2007 | پاکستان جوڈیشل کونسل کی کارروائی معطل07 May, 2007 | پاکستان نشریات کے تعطل پر واک آؤٹ08 May, 2007 | پاکستان پیمرا کا ’آج‘ ٹی وی کو نوٹس23 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||