BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 May, 2007, 07:10 GMT 12:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈکٹیشن نہیں لیں گے: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کے باہر کشیدگی(فائل فوٹو)
سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر حکومتی مؤقف کے مخالف وکلاء کا احتجاج
غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی سماعت کرنے والے بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید بٹر نے کہا ہے کہ وہ کسی سے ڈکٹیشن لینے کے عادی نہیں ہیں۔

یہ بات انہوں نے حکومتی موقف کے حامی وکلاء کے جارحانہ رویے کے ردِ عمل میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ اس آئینی درخواست کی سماعت کے طریقۂ کار کا تعین پانچ رکنی بینچ خود کرے گا۔

جسٹس جاوید بٹر نے کہا کہ انہیں ایسا لگتا ہے کہ یہ سب کچھ کسی سے متاثر ہو کر کیا جا رہا ہے۔

اعتراضات
 بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید بٹر کی بہن غیر فعال چیف جسٹس کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں میں شرکت کر رہی ہیں جبکہ بینچ میں شامل ایک اور جج غیر فعال چیف جسٹس کے ہم زلف ہیں۔ انہوں نے بینچ کے ایک رکن حامد علی مرزا پر ایڈہاک جج ہونے کا اعتراض کیا
مولوی اقبال حیدر
اس سے پہلے جب غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی سماعت شروع ہوئی تو صدر مشرف کے وکیل شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ انہوں نے اس پانچ رکنی بینچ کی تشکیل پر اعتراض کیا تھا لیکن ان کی درخواست کو اس اعتراض کے ساتھ واپس کر دیا گیا کہ اس کے ساتھ بیان حلفی نہیں لگایا گیا۔

مسٹر شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ یہ ایک اہم کیس ہے اور اس کی سماعت سپریم کورٹ کے تمام ججوں پر مشتمل فل کورٹ میں ہونی چاہیے۔

سماعت کے دوران عدالت میں ماحول اس وقت قدرے کشیدہ ہوگیا جب حکومتی موقف کے حامی وکیل مولوی اقبال حیدر نے بڑے جارحانہ انداز میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ میں شامل تین ججوں پراعتراضات کرنا شروع کر دیے۔

مولوی اقبال حیدر نے کہا کہ بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید بٹر کی بہن غیر فعال چیف جسٹس کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں میں شرکت کر رہی ہیں جبکہ بینچ میں شامل ایک اور جج غیر فعال چیف جسٹس کے ہم زلف ہیں۔ انہوں نے بینچ کے ایک رکن حامد علی مرزا پر ایڈہاک جج ہونے کا اعتراض کیا۔

غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی ابتدائی سماعت کے دوران عدالت کا ماحول کشیدہ رہا اور حکومتی موقف کے حامی دو وکلاء مولوی اقبال حیدر اور احمد رضا قصوری نے اپنے دلائل کے دوران خاصا
جارحانہ رویہ اپنائے رکھا۔

غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی سماعت کرنے والا پانچ رکنی بینچ جسٹس جاوید بٹر، جسٹس ناصر الملک، جسٹس راجہ فیاض، جسٹس اعجاز احمد اور جسٹس حامد علی مرزا پر مشتمل ہے۔

جسٹس افتخار’جسٹس کیس‘
سپریم کورٹ سے جی ٹی روڈ کا سفر تاریخوں میں
جسٹس صبیح’جج اور صحافی برابر‘
ججوں کو بھی دھمکیاں ملتی ہیں: جسٹس وجیہ
وکلاء احتجاججسٹس کیس
جسٹس افتخار کی پیشی، وکلاء سڑکوں پر
اسی بارے میں
جسٹس کیس: کب کیا ہوا؟
05 May, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد