ڈکٹیشن نہیں لیں گے: سپریم کورٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی سماعت کرنے والے بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید بٹر نے کہا ہے کہ وہ کسی سے ڈکٹیشن لینے کے عادی نہیں ہیں۔ یہ بات انہوں نے حکومتی موقف کے حامی وکلاء کے جارحانہ رویے کے ردِ عمل میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ اس آئینی درخواست کی سماعت کے طریقۂ کار کا تعین پانچ رکنی بینچ خود کرے گا۔ جسٹس جاوید بٹر نے کہا کہ انہیں ایسا لگتا ہے کہ یہ سب کچھ کسی سے متاثر ہو کر کیا جا رہا ہے۔
مسٹر شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ یہ ایک اہم کیس ہے اور اس کی سماعت سپریم کورٹ کے تمام ججوں پر مشتمل فل کورٹ میں ہونی چاہیے۔ سماعت کے دوران عدالت میں ماحول اس وقت قدرے کشیدہ ہوگیا جب حکومتی موقف کے حامی وکیل مولوی اقبال حیدر نے بڑے جارحانہ انداز میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ میں شامل تین ججوں پراعتراضات کرنا شروع کر دیے۔ مولوی اقبال حیدر نے کہا کہ بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید بٹر کی بہن غیر فعال چیف جسٹس کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں میں شرکت کر رہی ہیں جبکہ بینچ میں شامل ایک اور جج غیر فعال چیف جسٹس کے ہم زلف ہیں۔ انہوں نے بینچ کے ایک رکن حامد علی مرزا پر ایڈہاک جج ہونے کا اعتراض کیا۔ غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی ابتدائی سماعت کے دوران عدالت کا ماحول کشیدہ رہا اور حکومتی موقف کے حامی دو وکلاء مولوی اقبال حیدر اور احمد رضا قصوری نے اپنے دلائل کے دوران خاصا غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی سماعت کرنے والا پانچ رکنی بینچ جسٹس جاوید بٹر، جسٹس ناصر الملک، جسٹس راجہ فیاض، جسٹس اعجاز احمد اور جسٹس حامد علی مرزا پر مشتمل ہے۔ |
اسی بارے میں فُل بینچ تشکیل دیں: مشرف وکلاء02 May, 2007 | پاکستان صدر کی درخواست نظر انداز04 May, 2007 | پاکستان جسٹس کیس: کب کیا ہوا؟05 May, 2007 | پاکستان ’فل کورٹ بینچ کا مطالبہ بدنیتی ہے‘03 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||