’دعوت ملی تو پھر کراچی جائیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ اگر سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے چیف جسٹس افتخار کو دعوت دی تو وہ پھر کراچی جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کسی ایک جماعت کا شہر نہیں ہے بلکہ سندھی، پنجابی، پٹھان اور اردو بولنے والوں کا شہر ہے۔ انہوں نےکہا کہ کراچی پاکستان کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے لوگوں کا شہر ہے لیکن کچھ ’لاڈلے‘ اس کا امن خراب کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ متحدہ قومی موومنٹ کی ’منت‘ کریں گے کہ چیف جسٹس کے دورے کےدوران امن عامہ کی صورتحال خراب نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا حکومت جسٹس افتخار کے ساتھ ہونےوالی زیادتی پر عوامی ردعمل پر بوکھلا گئی ہے اور جب وہ بارہ مئی کو جب چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی دعوت پر کراچی گئے تو انہیں دس گھنٹے تک ائرپورٹ پر محبوس رکھا گیا۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ جسٹس افتخار اس سے پہلے راولپنڈی، سکھر، حیدرآباد، پشاور اور لاہور گئے اور وہاں لاکھوں لوگ ان کا استقبال کرنے آئے لیکن ایک بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ جب چیف جسٹس بارہ مئی کو کراچی گئے تو کچھ ’لاڈلوں‘ نے کسی کے کہنے پر ان کے راستے میں روکاوٹیں کھڑی کیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کچھ اخبارات میں پڑھا ہے کہ صدر جنرل مشرف نے مسلم لیگ (ق) کے ممبران سے ملاقات کے دوران کہا کہ کراچی میں ہونے والی اموات کی ذمہ داری جسٹس افتخار اور اعتزاز احسن پر عائد ہوتی ہے۔ اعتزاز احسن نےکہا کہ جنرل مشرف نے ان پر جھوٹا الزام لگایا ہے اور وہ فوجی حکمران کے خلاف دو ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہرجانے کے دعوے میں واضح لکھیں گے کہ رقم کی ادائیگی سرکاری خزانے سے نہیں بلکہ پرویز مشرف کی ذاتی جائیداد بیچ کر کی جائے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر وہ کامیاب ہوگئے تو ہرجانے کی رقم کراچی کے عوام کی نظر کردیں گے۔ |
اسی بارے میں تشدد کی ذمہ دار حکومت ہے: اعتزاز12 May, 2007 | پاکستان پولیس نے استقبالیہ کیمپ اکھاڑ دیے10 May, 2007 | پاکستان جوڈیشل کونسل پرحکم امتناعی 15 May, 2007 | پاکستان ’حکومت کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں‘09 May, 2007 | پاکستان ’اعتزاز کو ملنے دیا جائے‘15 March, 2007 | پاکستان صدارتی ریفرنس، درخواستیں مسترد12 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||