BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تحقیقات پبلک سیفٹی کمیشن سے

کراچی تشدد
’شاہراہ فیصل کو پولیس نے نہیں بلکہ متحدہ قومی موومنٹ اور دیگر سیاسی جماعتوں نے بند کیا تھا‘
وفاقی حکومت نے کراچی میں 12 مئی کو ہونے والے پرتشدد واقعات کی تحقیقات وفاقی پبلک سیفٹی کمیشن سے کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سیکریٹری داخلہ سندھ بریگیڈئر (ر) غلام محمد محترم نے جمعرات کو یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی سیفٹی کمیشن نے اس سلسلے میں سندھ حکومت سے ان واقعات کی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ ان واقعات کے ذمہ دار کون لوگ ہیں اور تحقیقات کی رپورٹ آنے کے بعد اسکی سفارشات کی روشنی میں کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ 12 مئی کو کراچی میں امن و امان کے لیے پولیس کی 13 ہزار اور رینجرز کی 8 ہزار نفری تعینات کی گئی تھی، حزب اختلاف اور حکمران جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے اس دن ریلیاں نکالنے کا اعلان کیا تھا اور دونوں ہی اپنے پروگرام منسوخ کرنے پر رضامند نہیں تھے جبکہ تمام وفاقی ایجنسیوں کا کہنا تھا کہ اگر ریلیاں نکلیں تو خون خرابہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اسی بناء پر انہوں نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو خط لکھ کر چیف جسٹس کا دورہ ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی تاہم انہیں اسکا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ شاہراہ فیصل کو پولیس نے نہیں بلکہ متحدہ قومی موومنٹ اور دیگر جماعتوں نے بند کیا تھا جس کے بعد پولیس نے صرف شاہراہ فیصل کو جانے والے راستوں کی ناکہ بندی کی تھی تاکہ ٹریفک اس طرف نہ جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ 12 مئی کو پولیس نے خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا اور اس سے اسلحہ واپس لے لیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ اقدامات حکمت عملی کے تحت کیے جاتے ہیں اگر صورتحال میں پولیس کے پاس زیادہ اسلحہ ہو تو پھر صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت پورے ملک میں لوگوں کے پاس بڑی تعداد میں غیرقانونی اسلحہ موجود ہے اس سے قبل بھی اس حوالے سے ایک آپریشن کیا گیا تھا جو ناکام ہوگیا تھا تاہم انہوں نے کہا کہ غیرقانونی ہتھیاروں کی برآمدگی کے لیے آپریشن کی تجویز زیرغور ہے۔

کراچیکراچی تصویروں میں
احتجاج اور سوگ کے ساتھ تشدد کا دوسرا دن
’آج‘ ٹی وی پر حملہ
’آج‘ ٹی وی کی بلڈنگ، مسلح افراد کا نشانہ
کراچیلمحہ بہ لمحہ
مختلف علاقے میں موجود ہمارے رپورٹرز سے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد