BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 May, 2007, 13:17 GMT 18:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سڑکوں پر خون بہہ رہا ہے اور ۔۔۔‘

اعتزاز احسن
اعتزاز احسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں عدالتوں نے ہمیشہ ایسے مقدموں کو سنا ہے جن میں لوگوں کا مفاد وابستہ ہو
سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی فل کورٹ کے سربراہ نے کہا ہے کہ سڑکوں پر خون بہہ رہا ہے اور عدالت کو قائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی درخواست سماعت کے قابل نہیں ہے۔

سپریم کورٹ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست سمیت چوبیس ایسی درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے جن میں چیف جسٹس افتخار چودھری کو بطور چیف جسٹس کام کرنے سے روک کر جبری چھٹی پر بھیجنے اورسپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کو چیلنج کیا گیا ہے۔

جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل اعتزاز احسن نے اپنےدلائل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں عدالتوں نے ہمیشہ ایسے مقدموں کو سنا ہے جن میں لوگوں کا مفاد وابستہ ہو۔ انہوں نےکہا کہ پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں کے متعدد فیصلوں کے بعد یہ بے معنی ہو چکا ہے کہ صدر کے کسی فیصلے پر کسی عدالت میں سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔

اعتزاز احسن نے صدر پرویزمشرف کے وکیل سید شریف الدین پیرزادہ کی طرف سے مختلف مقدمات میں دیئےگئے دلائل پڑھ کر عدالت کو سنائے جن میں ان کا موقف تھا کہ عدالتوں کے دائرہ اختیار پر کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔

مولا جٹ کا ڈائیلاگ
 سماعت کے دوران ایک موقع پر اعتزاز احسن نے کہا کہ پنجاب کے سابق گورنر مصطفیٰ کھر نے کہا ہے کہ اعتزاز احسن اور انہیں مروا دیا جائےگا۔ اعتزاز احسن نے مشہور پنجابی فلم مولا جٹ کا ایک ڈائیلاگ بولا جس میں فلم کا ہیرو کہتا ہے’ مولے نوں مولا نہ مارے تے مولا نہی مردا‘ تو عدالت کے سربراہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وکیل کتنی اعلیٰ بحث کرتے ہوئے کہاں پہنچ گئے ہیں

اعتزاز احسن نے کہا کہ ماضی میں عدالتوں نے ایسے کئی مقدمات سنے ہیں جن کے بارے میں آئین میں واضح طور پر درج تھا کہ ان پر کسی عدالت میں سوال نہیں اٹھایا جا سکتا لیکن پاکستان کی اعلی عدالتوں نے ان مقدمات کو سنا اور فیصلے صادر کیے۔

چیف جسٹس کے وکیل نے 1988 میں قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے سے متعلق حاجی سیف اللہ مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین میں لکھا ہے کہ صدر کی طرف سے آرٹیکل (2) 58 کے تحت تحلیل کی جانی والی اسمبلیوں کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا لیکن ان کو چیلنج کیا گیا اورعدالتوں نےان پر اپنے فیصلے صادر کیے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ 1988 کی اسمبلیاں بحال کرنےلگی تھی لیکن اس وقت کے آرمی چیف نے سپریم کورٹ کو ایسا کرنے سے روک دیا تھا۔

اس موقع پر وفاقی حکومت کے وکیل ملک قیوم نے کہا کہ وہ تیرہ رکنی بینچ کے سربراہ خلیل الرحمن رمدے اس بات کے گواہ ہیں کہ وسیم سجاد اسلم بیگ کا پیغام لے کر سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس نسیم حسن شاہ کے پاس گئے تھے۔

ملک قیوم نے کہا کہ وہ اور جسٹس خلیل الرحمن رمدے اس وقت پنجاب حکومت کے وکیل تھے۔اس موقع پر بینچ کے سربراہ نے کہا کہ:’میں انکار کرتا ہوں‘۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے انکار کیا ہے تردید نہیں کی ہے۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا اگر وہ زندہ رہے تو سپریم کورٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ اس معاملے پر کچھ لکھنے کی کوشش کریں گے۔

اعتزاز احسن نے آئین کے آرٹیکل 270 اے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس آرٹیکل میں جنرل ضیا الحق کے آئین سے ماورا اقدام کو تحفظ دیا گیا اور اس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ اسے کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا لیکن عدالتوں میں چیلنج کیا گیا۔

سماعت کے دوران ایک موقع پر اعتزاز احسن نے کہا کہ پنجاب کے سابق گورنر مصطفیٰ کھر نے کہا ہے کہ اعتزاز احسن اور انہیں مروا دیا جائےگا۔ اعتزاز احسن نے مشہور پنجابی فلم مولا جٹ کا ایک ڈائیلاگ بولا جس میں فلم کا ہیرو کہتا ہے’ مولے نوں مولا نہ مارے تے مولا نہی مردا‘ تو عدالت کے سربراہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وکیل کتنی اعلیٰ بحث کرتے ہوئے کہاں پہنچ گئے ہیں۔

مقدمے کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

جسٹس افتخار’جسٹس کیس‘
سپریم کورٹ سے جی ٹی روڈ کا سفر تاریخوں میں
دو ہاتھیوں کی لڑائی
چیف جسٹس کی آمد پر عسکری طاقت کا مظاہرہ
جسٹس صبیح’جج اور صحافی برابر‘
ججوں کو بھی دھمکیاں ملتی ہیں: جسٹس وجیہ
چیف جسٹس افتخار چودھریجسٹس چودھری
آئینی درخواستوں کی سماعت کے لیے پانچ رکنی بینچ
قانونی نکات
جسٹس افتخار کی پیٹیشن کے قانونی نکات
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد