’ کونسل میں مداخلت نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی بنچ نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست پر سماعت منگل کے روز بھی جاری رکھی جس میں سرکاری وکلا کے پینل میں شامل سابق جج ملک قیوم نے اپنے دلائل دوسرے روز بھی جاری رکھے۔ سرکاری وکیل ملک قیوم کے دلائل مکمل ہوجانے کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن اپنے دلائل پیش کریں گے۔ سپریم کورٹ، جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی اہمیت کے پیش نظر ہفتے میں چار دن سماعت کر رہی ہے جبکہ سپریم کورٹ نے موسم گرما کی اپنی تعطیلات بھی منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ روز وفاقی ملک قیوم نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ایک آزاد عدالت ہے اور سپریم کورٹ اس کے معاملات میں مداخلت کرنے کی مجاز نہیں ہے۔ وفاقی حکومت کے وکیل جسٹس (ریٹائرڈ ) ملک قیوم سارا دن عدالت کو قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل ججوں کے احتساب کا آزاد ادارہ ہے اور کوئی عدالت اس کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ ملک قیوم نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 211 میں واضح طورپر لکھا ہے کہ سپریم جوڈیشل کی کارروائی اور اس کی رپورٹ کو کسی عدالت میں زیر غور نہیں لایا جا سکتا۔ تیرہ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ایک کونسل ہے جس کو صدر سے ’ہدایت‘ ملتی ہے، اور وہ صدر کو ’سفارش‘ کرنے کی مجاز ہے اس کو سپریم کورٹ کے مقابلے کی عدالت کیسے مان لیا جائے۔ عدالت کی طرف سے ایک سوال کے جواب میں وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ صدر پاکستان سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش کو رد کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے جب دلائل کے دوران آئین میں اسلامی دفعات کا ذکر کیا تو بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن نے کہا کہ حکومتیں اسلام کے نام پر بھی ہیرا پھیری کرنے سے باز نہیں آتیں اور اسلام کے نام پر بنائی جانے والی فیڈرل شریعت کورٹ میں ججوں کو او ایس ڈی بنا کر بیکار بنا دیا جاتا ہے۔ سرکاری وکلاء پانچ روز سے سپریم کورٹ کے سامنے یہ دلائل دے رہے ہیں کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی درخواست سماعت کے قابل نہیں ہے اورعدالت کو اسے رد کر دینا چاہے۔ سماعت کے پانچویں روز کے اختتام پر وفاقی حکومت کے وکیل ابھی دلائل دے رہے تھے کہ سماعت کا وقت ختم ہو گیا۔ |
اسی بارے میں چیف جسٹس سپریم کورٹ میں سائل18 April, 2007 | پاکستان ’فل کورٹ بینچ کا مطالبہ بدنیتی ہے‘03 May, 2007 | پاکستان تشدد کی ذمہ دار حکومت ہے: اعتزاز12 May, 2007 | پاکستان فل کورٹ کی ہیئت کیا ہوسکتی ہے؟07 May, 2007 | پاکستان ڈکٹیشن نہیں لیں گے: سپریم کورٹ07 May, 2007 | پاکستان ’دعوت ملی تو پھر کراچی جائیں گے‘16 May, 2007 | پاکستان فل کورٹ میں سماعت آج سے14 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||