BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 May, 2007, 14:40 GMT 19:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ کونسل میں مداخلت نہیں‘

’جوڈیشل کونسل ججوں کے احتساب کا آزاد ادارہ ہے اور کوئی عدالت اس کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی‘
سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی بنچ نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست پر سماعت منگل کے روز بھی جاری رکھی جس میں سرکاری وکلا کے پینل میں شامل سابق جج ملک قیوم نے اپنے دلائل دوسرے روز بھی جاری رکھے۔

سرکاری وکیل ملک قیوم کے دلائل مکمل ہوجانے کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن اپنے دلائل پیش کریں گے۔

سپریم کورٹ، جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی اہمیت کے پیش نظر ہفتے میں چار دن سماعت کر رہی ہے جبکہ سپریم کورٹ نے موسم گرما کی اپنی تعطیلات بھی منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

گزشتہ روز وفاقی ملک قیوم نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ایک آزاد عدالت ہے اور سپریم کورٹ اس کے معاملات میں مداخلت کرنے کی مجاز نہیں ہے۔

وفاقی حکومت کے وکیل جسٹس (ریٹائرڈ ) ملک قیوم سارا دن عدالت کو قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل ججوں کے احتساب کا آزاد ادارہ ہے اور کوئی عدالت اس کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

ملک قیوم نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 211 میں واضح طورپر لکھا ہے کہ سپریم جوڈیشل کی کارروائی اور اس کی رپورٹ کو کسی عدالت میں زیر غور نہیں لایا جا سکتا۔

تیرہ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ایک کونسل ہے جس کو صدر سے ’ہدایت‘ ملتی ہے، اور وہ صدر کو ’سفارش‘ کرنے کی مجاز ہے اس کو سپریم کورٹ کے مقابلے کی عدالت کیسے مان لیا جائے۔

عدالت کی طرف سے ایک سوال کے جواب میں وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ صدر پاکستان سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش کو رد کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔

وفاقی حکومت کے وکیل نے جب دلائل کے دوران آئین میں اسلامی دفعات کا ذکر کیا تو بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن نے کہا کہ حکومتیں اسلام کے نام پر بھی ہیرا پھیری کرنے سے باز نہیں آتیں اور اسلام کے نام پر بنائی جانے والی فیڈرل شریعت کورٹ میں ججوں کو او ایس ڈی بنا کر بیکار بنا دیا جاتا ہے۔

سرکاری وکلاء پانچ روز سے سپریم کورٹ کے سامنے یہ دلائل دے رہے ہیں کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی درخواست سماعت کے قابل نہیں ہے اورعدالت کو اسے رد کر دینا چاہے۔

سماعت کے پانچویں روز کے اختتام پر وفاقی حکومت کے وکیل ابھی دلائل دے رہے تھے کہ سماعت کا وقت ختم ہو گیا۔

معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری’اوپن ٹرائل کریں‘
معطل چیف جسٹس کا پہلا انٹرویو
چیف جسٹس افتخار چودھریجسٹس چودھری
آئینی درخواستوں کی سماعت کے لیے پانچ رکنی بینچ
مشرف’موزوں چیف جسٹس‘
مشرف کیلیے جسٹس افتخار بہتر: ملک قیوم
’اے کلاس قیدی‘
’جسٹس افتخار کو قیدی کی طرح رکھا جا رہا ہے‘
 جسٹس افتخارفیصلے کے محرکات
آخر جنرل مشرف نے ایسا کیوں کیا؟
اسی بارے میں
فل کورٹ میں سماعت آج سے
14 May, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد