وکلاء کا احتجاج اور عدالتی بائیکاٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے حق میں جمعرات کے روز بھی مظاہروں کا سلسہ جاری رہا اور کراچی اور لاہور میں جلوس نکالے گئے اور عدالتوں کا بائیکاٹ ہوا۔ بارہ مئی کے واقعات اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی برطرفی کے خلاف وکلا نے کراچی میں جمعرات کو تمام عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور اس جلوس میں شریک ہونے کے لیے وکلاء تنظیموں نے سیاسی جماعتوں کو بھی دعوت دی تھی مگر ان کی شرکت نہ ہونے کے برابر تھی، صرف جماعت اسلامی اور جمعیت علماء پاکستان کے دو درجن کے قریب کارکن شر یک تھے۔ پریس کلب کے باہر کراچی بار کے صدر افتخار جاوید قاضی، نعیم قریشی، یاسین آزاد، محمود الحسن ، ساتھی اسحاق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنرل مشرف وردی کو اپنی کھال قرار دیتے ہیں مگر انہیں یاد رکھنا چاہئیے کہ جسم سے کھال بھی اترجاتی ہے۔
نیشنل پارٹی کے رہنما حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ بار بار یہ کہا جاتا ہے کہ ایم کیو ایم لسانی تنظیم بننے کی طرف جارہی ہے۔ لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ متحدہ قومی موومنٹ لسانی جماعت ہے اور اس کی بنیاد یہ ہی تھی اگر وہ اس سے ہٹ گئی تو ختم ہوجائیگی۔ لاہوروکلاء اور سیاسی جماعتوں نے پنجاب اسمبلی تک پرامن جلوس نکالا۔ وکلاء کا جلوس ایوان عدل سے روانہ ہوا اور ہائی کورٹ کے سامنے ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کا جلوس بھی اس میں شامل ہوگیا۔اس موقع پر سیاسی جماعتوں، ڈاکٹروں، اساتذہ، طلبہ ، انسانی حقوق اور سول سوسائٹی کی مختلف تنظیموں نے بھی اس میں شرکت کی۔
جلوس میں پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف، خاکسار تحریک، استقلال پارٹی ،لیبر پارٹی ،جعیت علماء اسلام اور جمہوری وطن پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے علاوہ جلوس میں خواتین محاذ عمل ، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ،پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن ، پنجاب ٹیچرز ایسوسی ایشن ،پنجاب یونیورسٹی اکیڈیمک اسٹاف سمیت سول سوسائٹی کی تنظیموں کے رہنما شریک ہوئے ۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور لاہور ہائی کورٹ کے سابق ججوں نے بھی شرکت کی۔ مظاہرین پر گل باشی بھی کی گئی۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے سیکرٹری جنرل چودھری غلام عباس اور وکلاء رہنماؤں کی قیادت میں وکلا کی ٹولی نےگورنر ہاؤس تک مارچ کیا جہاں انہوں نے دھرنا دیا اور حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔ جلوس خواتین وکلاء بھی شامل تھیں ۔ پنجاب اسمبلی کے سامنے عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وکلاء ایک نکتہ پر اکھٹے ہوسکتے ہیں تو پھر سیاست دان کیوں اکھٹے نہیں ہوسکتے۔
اس موقع پر صدر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن احسن بھون اور لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر سید محمد شاہ سمیت دیگر وکلا رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ وکلاء نے ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں کا بھی بائیکاٹ کیا اور مقدمات پر سماعت نہ ہوسکی۔ لاہور کے علاوہ پنجاب کے دیگر شہروں سے بھی مظاہروں کی اطلاعات ملی ہیں۔ وکلاء نے عدالتوں میں ہڑتال کی اور پیش نہیں ہوئے جبکہ عدالتوں میں علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ بھی لگائے گئے۔ | اسی بارے میں وکلاء، سیاسی جماعتوں کا احتجاج14 May, 2007 | پاکستان وکلاء کا احتجاج مصور کی آنکھ سے18 May, 2007 | پاکستان کراچی ہلاکتیں، ایوانوں کا بائیکاٹ14 May, 2007 | پاکستان الطاف کے خلاف مقدمے کا مطالبہ15 May, 2007 | پاکستان ’آزادعدلیہ چاہیےتو سیاست بند کرو‘12 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||