BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 May, 2007, 11:52 GMT 16:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وکلاء کا احتجاج اور عدالتی بائیکاٹ

وکلاء احتجاج
آمریت کے خاتمے اور عدلیہ کی آزادی تک جنگ جاری رہے گی: بار رہنما
پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے حق میں جمعرات کے روز بھی مظاہروں کا سلسہ جاری رہا اور کراچی اور لاہور میں جلوس نکالے گئے اور عدالتوں کا بائیکاٹ ہوا۔

بارہ مئی کے واقعات اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی برطرفی کے خلاف وکلا نے کراچی میں جمعرات کو تمام عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور
بار کے دفتر سے احتجاجی جلوس نکالا۔

اس جلوس میں شریک ہونے کے لیے وکلاء تنظیموں نے سیاسی جماعتوں کو بھی دعوت دی تھی مگر ان کی شرکت نہ ہونے کے برابر تھی، صرف جماعت اسلامی اور جمعیت علماء پاکستان کے دو درجن کے قریب کارکن شر یک تھے۔

پریس کلب کے باہر کراچی بار کے صدر افتخار جاوید قاضی، نعیم قریشی، یاسین آزاد، محمود الحسن ، ساتھی اسحاق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنرل مشرف وردی کو اپنی کھال قرار دیتے ہیں مگر انہیں یاد رکھنا چاہئیے کہ جسم سے کھال بھی اترجاتی ہے۔

سیاسی معاملہ
 اگر وکلاء ایک نکتہ پر اکھٹے ہوسکتے ہیں تو پھر سیاست دان کیوں اکھٹے نہیں ہوسکتے۔ چیف جسٹس کے معاملہ کو آئینی یا قانونی قرار دینا درست نہیں ہے کیونکہ جہان آئین کی بات ہوگی وہ معاملہ سیاسی ہوگا۔
عمران خان
جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی محمد حسن محنتی کا کہنا تھا کہ جسے انصاف کرنا تھا وہ کٹہرے میں کھڑا ہے اور جسے کٹہرے میں کھڑا ہونا چاہیے وہ باہر ہیں ۔ ان کا کہنا تھا وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ اتنا واویلا نہیں کرسکے اور ایسی تحریک نہیں چلا سکے جیسی وکلاء نے چلائی ہے۔

نیشنل پارٹی کے رہنما حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ بار بار یہ کہا جاتا ہے کہ ایم کیو ایم لسانی تنظیم بننے کی طرف جارہی ہے۔ لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ متحدہ قومی موومنٹ لسانی جماعت ہے اور اس کی بنیاد یہ ہی تھی اگر وہ اس سے ہٹ گئی تو ختم ہوجائیگی۔

لاہوروکلاء اور سیاسی جماعتوں نے پنجاب اسمبلی تک پرامن جلوس نکالا۔

وکلاء کا جلوس ایوان عدل سے روانہ ہوا اور ہائی کورٹ کے سامنے ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کا جلوس بھی اس میں شامل ہوگیا۔اس موقع پر سیاسی جماعتوں، ڈاکٹروں، اساتذہ، طلبہ ، انسانی حقوق اور سول سوسائٹی کی مختلف تنظیموں نے بھی اس میں شرکت کی۔

مظاہرین نے صدر جنرل مشرف کا پتلا نذر آتش کیا جبکہ جلوس کے راستے میں حکومت کی حمایت میں لگے بینز جلا دیئے۔

جلوس میں پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف، خاکسار تحریک، استقلال پارٹی ،لیبر پارٹی ،جعیت علماء اسلام اور جمہوری وطن پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے علاوہ جلوس میں خواتین محاذ عمل ، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ،پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن ، پنجاب ٹیچرز ایسوسی ایشن ،پنجاب یونیورسٹی اکیڈیمک اسٹاف سمیت سول سوسائٹی کی تنظیموں کے رہنما شریک ہوئے ۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور لاہور ہائی کورٹ کے سابق ججوں نے بھی شرکت کی۔ مظاہرین پر گل باشی بھی کی گئی۔

پیپلز پارٹی پنجاب کے سیکرٹری جنرل چودھری غلام عباس اور وکلاء رہنماؤں کی قیادت میں وکلا کی ٹولی نےگورنر ہاؤس تک مارچ کیا جہاں انہوں نے دھرنا دیا اور حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔ جلوس خواتین وکلاء بھی شامل تھیں ۔

پنجاب اسمبلی کے سامنے عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وکلاء ایک نکتہ پر اکھٹے ہوسکتے ہیں تو پھر سیاست دان کیوں اکھٹے نہیں ہوسکتے۔

عمران خان
عمران خان
ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کے معاملہ کو آئینی یا قانونی قرار دینا درست نہیں ہے کیونکہ جہان آئین کی بات ہوگی وہ معاملہ سیاسی ہوگا۔

اس موقع پر صدر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن احسن بھون اور لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر سید محمد شاہ سمیت دیگر وکلا رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

وکلاء نے ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں کا بھی بائیکاٹ کیا اور مقدمات پر سماعت نہ ہوسکی۔ لاہور کے علاوہ پنجاب کے دیگر شہروں سے بھی مظاہروں کی اطلاعات ملی ہیں۔ وکلاء نے عدالتوں میں ہڑتال کی اور پیش نہیں ہوئے جبکہ عدالتوں میں علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ بھی لگائے گئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد