BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سپریم کونسل کے خلاف اپیل نہیں

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری
چیف جسٹس اپنے آپ کو ہرگز احتساب سے بالا تر نہیں سمجھتے: اعتزاز احسن
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی درخواست کی سماعت کرنے والے تیرہ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن نے کہا ہے کہ اگر کسی جج کو سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کے روشنی میں نکال دیا جائے تو وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا بھی حق نہیں رکھتا۔


جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس خلیل الرحمن نے کہا کہ اگر کسی کلرک یا نائب قاصد کو سروس سے نکال دیا جائے تو وہ بھی اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق رکھتا ہے لیکن اگر سپریم جوڈیشل کونسل کی رپورٹ کی روشنی میں ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے کسی جج کو نکال دیا جائے تو وہ کہیں اپیل دائر کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

بینچ کے سربراہ نے کہا کہ وہ موجودہ مقدمے کے فیصلے میں شاید مقننہ کو یہ سفارش کریں کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی رپورٹ کے روشنی میں نکالے جانے والے جج کو اپیل کا حق دینے کے لیے آئین میں ترمیم کی جائے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ چیف جسٹس اپنے آپ کو ہر گز احتساب سے بالا تر نہیں سمجھتے اور ان کا اعتراض صرف احستاب کرنے والے فورم پر ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار کا موقف ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل ان کے خلاف الزامات کی سماعت کرنے کا اختیار نہیں رکھتی اور یہ اختیار صرف فل کورٹ کے پاس ہے جیسا کہ جسٹس سجاد علی شاہ کے معاملے میں ہوا تھا۔

سپریم کورٹ کا تیرہ رکنی بینچ اس وقت چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست سمیت تئیسں ایسی درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے جن میں سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل اور چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے عمل کو چیلنج کیا گیا ہے۔

صرف فل کورٹ سماعت کر سکتا ہے
 اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار کا موقف ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل ان کا خلاف الزامات کی سماعت کرنے کا اختیار نہیں رکھتی اور یہ اختیار صرف فل کورٹ کے پاس ہے جیسا کہ جسٹس سجاد علی شاہ کے معاملے میں ہوا تھا

حکومتی وکلاء کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ صدر کے کسی فیصلے اور سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی سے متعلق کسی درخواست کی سماعت کرنے کا حق نہیں رکھتی اور چیف جسٹس کے بغیر سپریم جوڈیشل کونسل مکمل نہیں ہو سکتی۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر صدر کے خلاف مواخذہ ہو سکتا ہے، وزیر اعظم کو عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے تو چیف جسٹس کو کیوں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے موکل اپنے اپ کو احتساب سے بالا تر نہیں سمجھتے۔

بینچ کے سربراہ جسٹس جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ وہ اس بات سے خوش نہیں ہیں کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست میں سپریم جوڈیشل کونسل کے ججوں پر متعصب ہونے کا الزام ہے۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ انہیں سپریم کورٹ کے کچھ ججوں پر اعتراضات ہیں اور اگر عدالت نے ان کی آئینی درخواست سننے کا فیصلہ کر لیا تو پھر وہ عدالت کو بتائیں گے کہ انہیں ان ججوں پر کیوں اعتراض ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ انہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کے جن تین ممبران پر اعتراض کیا ہے ان میں سے ایک جج کے تعصب کا تو یہ عالم ہے کہ انہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کی اٹھارہ گھنٹے کی کارروائی کے دوران ایک دفعہ بھی نوٹس لینے کی کوشش نہیں کی اور اس کی تصدیق عدالت میں موجود اٹارنی جنرل سے کی جا سکتی ہے۔

صدرارتی فیصلہ: سرکاری وکلاء
 حکومتی وکلاء کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ صدر کے کسی فیصلے اور سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی سے متعلق کسی درخواست کی سماعت کرنے کا حق نہیں رکھتی

اٹارنی جنرل مخدوم علی خان نے عدالت کو بتایا یہ بات ٹھیک ہے کہ ایک جج نوٹس نہیں لیتے ہیں اور لیکن وہ ایسا کسی ایک کے فریق کے ساتھ نہیں کرتے بلکہ وہ کسی فریق کے دلائل کے دوران نوٹس نہیں لیتے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب جج پر اعتراض کیا گیا تو ان کا جواب تھا کہ ان کی یاداشت اچھی ہے اور انہیں نوٹس لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے بینچ کے ایک ممبر جسٹس نواز عباسی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ججوں پر تعصب کا الزام لگایا گیا ہے لیکن وہ جج عدالت کے سامنے نہیں ہیں اور کسی کو اپنا دفاع کرنے کا موقع دیے بغیر فیصلہ کر دینا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ انہوں نے اپنی آئینی درخواست میں سپریم جوڈیشل کونسل کو فریق بنایا ہے اور سپریم جوڈیشل کونسل نے سپریم کورٹ میں اپنا جواب بھی داخل کیا جس میں وہ فریق مخالف کے طور سامنے آئی اور موقف اختیار کیا کہ چیف جسٹس کی آئینی درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔

جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل نے کہا کہ حکومت کے وکلاء کا موقف تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کا مطلب صرف کونسل کے سامنے ہونے والی کارروائی نہیں بلکہ ریفرنس کو بھیجنے کے عمل کو بھی’ کارروائی‘ کا حصہ تصور کیا جائے۔

وزیراعظم نے فیصلہ بدلوانے کی کوشش کی
 چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک بینچ کے ایک فیصلے نے وزیراعظم کو ناراض کیا اور وہ عدالت کے سامنے ثابت کر سکتے ہیں کہ وزیراعظم نے کوشش کی کہ عدالت اس فیصلے کو بدل دے

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ اگر یہ مان لیا جائے کہ’ کارروائی‘ سے کونسل کی مراد ریفرنس بھیجنے کا عمل بھی ہے تو ریفرنس بھیجنے کے محرکات کو بھی کارروائی کا حصہ تصور کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک بینچ کے ایک فیصلے نے وزیراعظم کو ناراض کیا اور وہ عدالت کے سامنے ثابت کر سکتے ہیں کہ وزیراعظم نے کوشش کی کہ عدالت اس فیصلے کو بدل دے۔

جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی پہلی سماعت اس وقت ہوگئی تھی جب چیف جسٹس گھر میں نظر بند تھے۔

عدالت کے سوال پر اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی مارچ تیرہ سے شروع ہوتی ہے جب پہلی مرتبہ چیف جسٹس سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش ہوئے۔

مقدمے کی سماعت جمعہ کے روز بھی جاری رہے گی۔

مقدمہ اور مقدمے
چیف جسٹس افتخار کا مقدمہ اور مقدمے
پہلا تحریری بیان
جسٹس افتخار جوڈیشل کونسل کے سامنے
افتخار چودھری20 ویں چیف جسٹس
جسٹس افتخار 2011 تک کے لیے چیف جسٹس تھے
چھٹے دن بھی احتجاج جسٹس کی پیشی
جسٹس افتخار کی سماعت پر مظاہرے
’اے کلاس قیدی‘
’جسٹس افتخار کو قیدی کی طرح رکھا جا رہا ہے‘
عام آدمی کا جج
چیف جسٹس افتخار اور چھوٹے مسائل کا حل
جسٹس افتخارچیف جسٹس معطل
جسٹس افتخار کی جگہ جسٹس جاوید کا تقرر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد