BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 May, 2007, 08:15 GMT 13:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’شرارت کرو گے تو جج بنا دوں گا‘

سپریم کورٹ میں سماعت دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی سماعت کے لیے بنائے گئے تیرہ رکنی بینچ کے سربراہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں ججوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے اگر جاری رہا تو لوگ اپنے بچوں کو یہ کہہ کر ڈرایا کریں گے کہ ’جج بنا دوں گا اور زیادہ (شرارت) کروگے تو چیف جسٹس بنا دوں گا‘۔

مقدمے کی سماعت کے دوران جب وفاقی حکومت کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری وقت سے پہلے ہی سپریم کورٹ میں درخواست لے کر پہنچ گئے ہیں، تو بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن نے کہا وفاقی حکومت کے وکیل انتہائی خطرناک بات کر رہے ہیں۔

جسٹس خلیل الرحمن نے کہا کہ سادہ الفاظ میں وفاقی حکومت کے وکیل کے دلائل کا مطلب یہ ہوا کہ پہلے سپریم جوڈیشل کونسل کو چیف جسٹس کے خلاف کارروائی کرنے دی جائے اور اس کے بعد وہ عدالت سے رجوع کریں جس پر عدالت کوئی حکم جاری کرے۔

جسٹس خلیل الرحمن نے کہا کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل نےچیف جسٹس کے خلاف کوئی فضول حکم جاری کر دیا تو اس حکم کے خلاف کوئی اپیل بھی دائر نہیں کی جا سکے گی۔

اس پر وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ بھی اتنا ہی فضول حکم جاری کر دے تو اس کے خلاف بھی کو ئی اپیل نہیں ہو سکتی۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست تو دائر کر جا سکتی ہے۔
وفاقی حکومت کے وکیل کی طرف سے پانچ روز کے مسلسل دلائل دینے کے بعد جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل اعتزاز احسن نے اپنے دلائل شروع کیے۔

سپریم کورٹ میں سماعت
 جو حال عدلیہ کا کیا جا رہا ہے اسپر والدین اپنے شرارتی بچوں کو ڈرائیں گے کہ اگر شرارت کی تو جج بنا دوں گا اور زیادہ کرو گے تو چیف جسٹس بنا دوں گا۔
جسٹس خلیل الرحمان رمدے

جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل نے کہا کہ وفاقی حکومت کے وکیل پانچ روز سے یہ دلائل دے رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا جبکہ انہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو چیلنج ہی نہیں کیا ہے اور یہاں تک کہ انہوں نے صدرارتی ریفرنس کی کاپی بھی اپنی درخواست کے ساتھ نہیں لگائی ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ انہوں نےعدالت کے سامنے قانونی نکتے اٹھائے ہیں جن میں سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل، اس کے اختیارات، اس کی کارروائی کے طریقہ کار سے متعلق آئینی سوالات شامل ہیں۔

اعتزاز احسن نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل (جسٹس افتخار محمد چودھری) کی درخواست میں مفاد عامہ سے متعلق انتہائی اہمیت کے حامل نکات ہیں اور وہ قابل سماعت ہیں۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ایک ایسا ادارہ ہے جو ججوں کو تحفظ دینے کے لیے بنایا گیا تھا نہ کہ ججوں کو نکالنے کے لیے۔

اعتزاز احسن نے کہا آئین میں عدلیہ سے متعلق دفعات کو اس انداز میں تشریح کی جاتی ہے کہ اس سے عدلیہ کی آزادی میں اضافہ ہو نہ کہ اسے کمزور کیا جائے۔

سپریم کورٹ کےمشہور مقدمے الجہاد کا حوالہ دیتے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ججوں کی تعیناتی سے متعلق شقوں کو اس طرح تشریح کی تھی کہ اس سے عدلیہ کی آزادی میں اضافہ ہوا تھا۔

اعتزاز احسن نے جب ایک ایسے مقدمے کا حوالہ دیا جس میں یہ قرار دیا گیا تھا کہ نیشنل اکانٹیبٹلی بیورو( نیب) کا سربراہ ایک ریٹائرڈ جج ہونا چاہیے لیکن فوجی جرنیلوں نے ماننے سے انکار کر دیا تو بینچ کے سربراہ خلیل الرحمن نے کہا ججوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد نوکریوں دینے کے رجحان عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے۔

دونوں طرف سے کئی وکلاء پیش ہو رہے ہیں

جسٹس خلیل الرحمن نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر، وفاقی محتسب جسیے عہدوں پر ریٹائرڈ ججوں کی تیعناتی عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ججوں کو ہٹانے کے لیے نہیں بلکہ ان کو انتظامیہ کے خبط سے بچانے کے لیے بنایا گیا تھا۔

اعتزاز احسن کے دلائل جاری تھے کہ عدالت کل تک کے برخاست ہو گئی۔

بدھ کے کارروائی شروع ہوتے ہی عدالت میں تلخی کا ماحول پیدا ہو گیا۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ وفاقی حکومت کے وکیل نے منگل کے روز وعدہ کیا تھا کہ وہ بدھ کے روز ایک گھنٹے میں اپنے دلائل سمیٹ لیں گے۔

وفاقی حکومت کے وکیل ملک قیوم نے کہا کہ وہ اپنے دلائل ایک گھنٹے میں مکمل کرنے کی کوشش کریں گے لیکن وہ کسی وکیل کی ہدایت نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کل جب علی احمد کرد نے کہا تھا کہ وفاقی حکومت کے وکیل عدالت کا وقت ضائع کر رہے ہیں تو اس بات کو اخبارات میں شہ سرخیوں کے ساتھ چھاپا گیا ہے۔

ملک قیوم نے کہا کہ پہلے رشید قریشی کو ان پر ’چھوڑا‘ گیا پھر علی احمد کرد کی باری آگئی اور اب اعترزاز احسن سامنے آ گئے ہیں۔

اس موقع پر جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل اعتزاز احسن نے جذباتی انداز میں عدالت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ریفرنگ اتھارٹی ( صدر جنرل پرویز مشرف) مقدمے کے بارے میں بیانات دے رہے ہیں۔

چیف جسٹس افتخار حسین کے بیانات
 جسٹس افتخار محمد چودھری نے نو مارچ کے بعد ایک بیان بھی نہیں دیا ہے اور انہوں نے تمام بار ایسوسی ایشنوں کے اجلاس میں لکھی ہوئی تقاریر پڑھی ہیں
اعتزاز احسن

انہوں نے صدر مشرف کے حالیہ بیان جس میں صدر نے کہا تھا کہ’اگر جھوٹ جیت گیا تو وہ رونے کا دن ہو گا‘ کا حوالہ دیتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ اس سے عدالت کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ مقدمہ کے ایک اہم گواہ حماد رضا کو قتل کروا دیا گیا ہے جبکہ ایک کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جسٹس افتخار چودھری کے وکلاء کو دھمکیاں مل رہی ہیں اور اس کے باوجود انہوں نے عدالت کےوقار کا خیال رکھتے ہوئے ان واقعات کو عدالت کے سامنے اٹھانے سے گریز کیا تھا۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ ان کے مؤکل نے نو مارچ کے بعد ایک بیان بھی نہیں دیا ہے اور انہوں نے تمام بار ایسوسی ایشنوں کے اجلاس میں لکھی ہوئی تقاریر پڑھی ہیں۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ سب کچھ ہونے کے باوجود وفاقی حکومت کے وکیل یہ کہہ رہے ہیں کہ ان پر فلاں شخص کو ’چھوڑا‘ گیا۔

اس موقع صدر مشرف کے وکلاء کی ٹیم کے ایک ممبر احمد رضا قصوری بھی اپنی نشست سے اٹھ کر روسٹرم پر آ گئے۔

تیرہ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے احمد رضا قصوری کو سختی سے کہا کہ وہ اپنی نشست پر تشریف رکھیں اور ملک قیوم کو کہا کہ وہ اپنے دلائل شروع کریں۔

وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ اعتزاز احسن پریشر میں نظر آتے ہیں اس لیے ان کو غصہ آ رہا ہے۔

اس موقع پر جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا ’اپنا اپنا سب کو پتہ ہے کہ وہ کتنے پریشر سے گزر رہا ہے اور سب نماز پڑھ کر استقامت کی دعا کرا کریں‘۔

ملک قیوم نے کہا کہ سپریم کورٹ اور سپریم جوڈیشل کونسل دونوں آئین کی پیداوار ہیں اور دونوں کے اپنے اپنے دائرہ اختیار ہیں۔

ملک قیوم نے کہا کہ ججوں کے درمیان ایک شائستگی کا رشتہ ہوتا ہے اور ایک جج دوسرے کے خلاف حکم جاری نہیں کرتے۔

اس موقع پر بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے پوچھا کہ کیا اس کا مطلب یہ لیا جا سکتا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں بیٹھے جج چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں دیں گے؟

وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا قیام ہی ججوں کا احتساب کرنا ہے اور اس کو اپنے کام کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔

وفاقی حکومت کے وکیل نے جب سابق چیف جسٹس یقعوب علی خان کا حوالہ دینا چاہا تو سپریم کورٹ بینچ کے سربراہ خلیل الرحمن نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کو ہر وقت ڈرانے کی کوشش کیوں کرتے ہیں‘۔

پاکستان کے تیسرے فوجی حکمران جنرل ضیاالحق نے وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو کا تختہ الٹنے کے سب سے پہلے چیف جسٹس یعقوب علی خان کو ان کے عہدے ہٹایا تھا۔ بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے، جسٹس یعقوب علی خان کے داماد ہیں۔

ملک قیوم نے کہا کہ جب انہوں نے میاں شہباز شریف کی وطن واپسی کے لیے درخواست دائر کی تھی تو سپریم کورٹ نے ان کی درخواست ماننے سے انکار کر دیا تھا اور ان کی پیٹیشن یہ کہہ کر خارج کر دی تھی کہ وہ درخواست دینے کے اہل نہیں ہیں۔

ملک قیوم نے کہا ’ ان درخواست گزاروں کے ساتھ بھی وہی سلوک روا رکھا جائے جو میرے ساتھ رکھا گیا تھا۔‘

جب ملک قیوم نے اپنے دلائل ختم کر لیے تو وفاقی حکومت کے دو اور وکلاء کھڑے ہو گئے اور مطالبہ کیا کہ انہیں بھی دلائل دینے کا موقع دیا جائے۔

اس موقع پر بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل مخدوم علی خان کو کہا کہ’وفاقی حکومت ہمارے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہتی ہے‘ جسٹس خلیل الرحمن نے کہا کہ پچھلے چھ روز سے وفاقی حکومت کے وکیل دلائل دے رہے ہیں اور ابھی اور وکلاء بھی دلائل دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک وفاقی حکومت کے کتنے وکیل ہوں گے۔

عدالت نے کہا کہ وفاقی حکومت کے کسی اور وکیل کو عدالت کے دائرہ کار سے متعلق مزید دلائل کے لیے وقت نہیں دیا جا سکتا اور جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل اعتزاز احسن کو کہا کہ وہ اپنے دلائل شروع کریں۔

 کیا سید شریف الدین پیرزادہ صدر مشرف کی کرسی بچا سکتے ہیں؟’آپ تو ڈرا رہے ہیں‘
حکومتی وکلاء اور ملائیشیا کی مثال
کراچیکراچی تشدد
کون معصوم ہے اور کون قصور وار
رب جانے یا مشرف
’جسٹس ریلی حکومتی ریلیوں کے بیچ سینڈوچ‘
وکلاء احتجاج مصور کی آنکھ سے ’جوبچا تھامقتل میں‘
وکلاء کا احتجاج مُصوّر کی آنکھ سے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد