حکومتی وکلاء اور ملائیشیا کی مثال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے نو مارچ 2007 کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ’غیر فعال‘ بنا کرشاید سوچا تھا کہ ایک’ ناقابل بھروسہ‘ چیف جسٹس کو ناکارہ بنا کر وہ ایک مرتبہ پھر باآسانی پانچ سال کے لیے باوردی صدر ’منتخب‘ ہو جائیں گے۔ پچھلے بہتر (72) روز جنرل مشرف کے سارے دور اقتدار کے شاید سب سے زیادہ ہنگامہ خیز دن رہے ہیں اور صدر جنرل پرویز مشرف کی آخری امید چوراسی سالہ سید شریف الدین پیرزادہ ہیں۔ سید شریف الدین جو اکسٹھ سال سے وکالت کر رہے ہیں، سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی بینچ کو باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایسے جج جو چیف جسٹس کو واپس سپریم کورٹ میں لانے کی خواہش رکھتے ہیں، انہیں ملائیشیا کی مثال سامنے رکھنی چاہیے جہاں جب سپریم کورٹ کے ان تمام ججوں کو معطل کر دیا گیا تھا جنہوں نے چیف جسٹس تن صالح عباس کے خلاف تادیبی کارروائی روکنے کے لیے حکم جاری کیا تھا۔
پاکستان کی سپریم کورٹ کی تیرہ رکنی فل کورٹ بھی ملک کے چیف جسٹس کی اس استدعا پر غور پر کر رہی ہے کہ انہیں چیف جسٹس آف پاکستان کےطور پر کام کرنے کا حکم جاری کیا جائے۔ حکومتی وکلاء سپریم کورٹ کی اس تیرہ رکنی فل کورٹ کو انیس سال پہلے ملائیشیا میں آنے والے عدالتی بحران کے مضمرات سے آگاہ کر رہے ہیں۔ حکومتی وکلاء نے سپریم کورٹ کی تیرہ رکنی فل کورٹ کے سامنے ملائیشیا کے عدالتی بحران سےمتعلق جو فیصلے عدالت کے سامنے رکھے ان کا خلاصہ کچھ یوں ہے۔ ملائیشیا کی ایک ہائی کورٹ نے ڈاکٹر مہاتر محمد کے سیاسی حریف تینگو رضالے کی ایماء پر جب انتخابی دھاندلی کے الزام کو مانتےہوئے ملائیشیا کے کچھ انتخابی عمل کو ختم کیا تو ڈاکٹر مہاتر محمد نے عدلیہ پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ ملک کے جج انتظامیہ کے دائرہ اختیار میں گھسنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ملائیشیا کی آزاد عدلیہ نے وزیراعظم مہاتر محمد کی تنقید کا سخت برا منایا اور ملک کے چیف جسٹس تن صالح عباس نے ججوں سے صلاح مشورے کے بعد ملک کے بادشاہ کو ایک خفیہ خط لکھا جس میں وزیراعظم مہاتر محمد کی شکایت کی کہ وہ عدلیہ کو غیرضروری تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
چیف جسٹس تن صالح عباس نے اپنے خلاف ہونے والی کارروائی کو رکوانے کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا لیکن ہائی کورٹ نے ٹرائیبونل کی کارروائی روکنے کی درخواست کو مسترد کر دیا تو انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ سپریم کورٹ آف ملائیشا کی پانچ ججوں پر مشتمل فل کورٹ نے چیف جسٹس تن صالح عباس کےخلاف کارروائی کو روکنے کا حکم امتناعی جاری کر دیا۔ چیف جسٹس تن صالح عباس کے وکیل جب عدالت کا حکم لے کر پارلیمنٹ ہاؤس میں واقع ٹرائیبونل کے دفتر جانے لگے تو پولیس نے پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارت کو تالا لگا دیا گیا اور چیف جسٹس کے وکلاء کو ٹرائیبونل کے پاس نہیں پہنچنے دیا گیا۔ اسی دوران وزیراعظم مہاتر محمد نے سپریم کورٹ کے ان پانچ ججوں کو بھی معطل کر دیا جنہوں نے چیف جسٹس کے حق میں حکم جاری کیا تھا۔ پانچ ججوں کی معطلی کے بعد سپریم کورٹ میں کوئی بھی جج نہ بچا جو چیف جسٹس کے خلاف جاری کارروائی کو روکنے کا حکم جاری کر سکے۔ اسی دوران ٹرائیبونل نے چیف جسٹس تن صالح عباس کو ’بد عملی‘ کی سزا میں چیف جسٹس کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ صادر کیا اور وزیراعظم ڈاکٹر مہاتر محمد نےسپریم کورٹ کے معطل ججوں میں تین کو بحال کر دیا جبکہ دو کو ہمشیہ کے لیے سپریم کورٹ سےنکال دیا۔
عدلیہ کے ساتھ لڑائی میں ڈاکٹر مہاتر محمد کی ’فتح‘ کے بعد ملائیشیا کی آزاد عدلیہ کا یہ عالم ہوگیا کہ ڈاکٹر مہاتر محمد نے اپنے وزیر خزانہ انور ابراہیم پر اغلام بازی کا الزام لگا کر جیل میں پھینک دیا تو ملائیشیا میں کوئی ایسی عدالت نہیں بچی تھی جو اس انتہائی متنازعہ فیصلے پر کوئی آزادانہ فیصلہ کر سکتی اور انور ابرہیم اس وقت تک جیل میں رہے جب تک ڈاکٹر مہاتر محمد وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہے۔ صدر پرویز مشرف کے وکیل سید شریف الدین پیرزادہ نے ملائیشیا کے سپریم کورٹ کے فیصلے کی کاپیاں جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی سماعت کرنےوالے تیرہ رکنی بینچ کے حوالے کیں کہ وہ اس سے پڑھیں اور سبق سیکھیں۔ وفاقی حکومت کے وکیل ملک عبد القیوم نےجمعرات کے روز اس فیصلے سے ایک ایک لائن پڑھ کر عدالت کو سنائی اور سمجھائی۔ سرکاری وکیل نے جب عدالتے فیصلے کی ریڈنگ ختم کی تو تیرہ رکنی بینچ کے سربراہ خلیل الرحمن رمدے نے کہا: ’ آپ تو ہمیں ڈرا رہے ہیں۔‘ |
اسی بارے میں صدر عدالت کو جوابدہ نہیں: وکیل16 May, 2007 | پاکستان وفاق، سندھ توہینِ عدالت کی زد میں16 May, 2007 | پاکستان تحقیقات پبلک سیفٹی کمیشن سے17 May, 2007 | پاکستان تہمینہ کے وارنٹ گرفتاری17 May, 2007 | پاکستان الطاف حسین پر عمران کےالزامات19 May, 2007 | پاکستان ’بینظیر، نواز شریف نہیں آسکتے‘18 May, 2007 | پاکستان سینیٹ کی کارروائی پِھر ٹھپ18 May, 2007 | پاکستان ’الطاف پر الزامات کا جائزہ لیں گے‘19 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||