حماد قتل: تحقیقات ہائی کورٹ کےحوالے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نےحکومت کی طرف سے ایڈیشنل رجسٹرار حماد رضا کے قتل کی تحقیق کے لیے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی سربراہی میں شروع ہونے والی جوڈیشل انکوائری روک کر لاہور ہائی کورٹ کے سینئر جج کی سربراہی میں تحقیقات کروانے کا حکم دیا ہے۔ حکومت نے دو روز پہلےاسلام آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مرزا رفیع الزمان کو حماد امجد رضا کے قتل کی تحقیق کے لیے مقرر کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے جو حماد رضا قتل کی تحقیقات کی نگرانی کر رہا ہے، جمعہ کے روز اپنے حکم میں کہا کہ ڈسٹرکٹ جج سےحماد رضا کے قتل انکوائری کروانا صیح اقدام نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے وزارت داخلہ کو حکم جاری کیا کہ وہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کا بطور انکوائری افسر نوٹیفکیشن منسوخ کردے اور لاہور ہائی کورٹ کے کسی سینیئر جج سے انکوائری کروائی جائے۔ سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا کہ ہائی کورٹ جج کو پندرہ روز کے اندر اپنی رپورٹ عدالت کو پیش کرے۔ ڈسٹرکٹ جج نے جمعرات کے روز انکوائری شروع کر دی تھی اور اسلام آباد میں حماد رضا کی رہائش گاہ کا تفصیلی معائنہ کیا تھا۔ حماد رضا کے ساتھیوں نے ہائی کورٹ کے جج سے تفتیش کا مطالبہ کیا تھا لیکن وزیراعظم کی ہدایت پر بدھ کو حکومت نے اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو عدالتی تحقیقات کے لیے نامزد کردیا تھا۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل اعتزاز احسن کے مطابق حماد رضا کا عہدہ تو ایڈیشنل رجسٹرار کا تھا لیکن وہ عملاً چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے سٹاف افسر تھے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلاء کا کہنا ہے کہ حماد رضا جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف ریفرنس میں اہم گواہ تھے۔ وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ نے بھی’ٹارگٹ کلنگ‘ کے متعلق مقتول کے اہل خانہ کا موقف رد کرتے ہوئے ڈکیتی کے دوران قتل کے پولیس کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا تھا کہ مقتول کے گھر سے زیوارت اور نقدی بھی لوٹی گئی ہے۔ دوسری جانب حماد رضا کے اہل خانہ نقدی اور زیوارت کے لوٹنے کی سختی سے تردید کرچکے ہیں۔ تین بچوں کے والد حماد امجد رضا کا تعلق ڈسٹرکٹ مینیجمنٹ گروپ یعنی ڈی ایم جی سے تھا اور اس گروپ کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران کی تنظیم نے بھی تحقیقات ہائی کورٹ کے جج سے کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ واضح رہے کہ حماد رضا بلوچستان میں تعینات تھے اور انہیں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سپریم کورٹ میں تعینات کیا تھا۔ چیف جسٹس جب اپنے سٹاف افسر کے قتل کے فوری بعد ان کے گھر پہنچے تھے تو حماد رضا کی اہلیہ نے کہا تھا کہ ان کے شوہر کو چیف جسٹس سے تعلق کی وجہ سے قتل کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے عدالت عظمیٰ کے دو سینئر ججوں کو حماد رضا کے قتل کی پولیس تحقیقات کو مانیٹر کرنے پر مامور کیا ہے۔ متعلقہ ججوں نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ روزانہ ایک بجے دوپہر تک پیش رفت کے بارے تحریری طور پر انہیں مطلع کریں۔ |
اسی بارے میں حماد رضا قتل، تحقیقات شروع17 May, 2007 | پاکستان اب نہ بحث نہ تبصرے نہ نعرے،سب توہینِ عدالت09 May, 2007 | پاکستان ’جسٹس افتخار دورہ ملتوی کر دیں‘09 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||