ڈکیتی تھی: شیرپاؤ، ٹارگٹ کیا:اقرباء | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار حماد رضا کے قتل کو ڈکیتی کی واردات کا نتیجہ قرار دیا ہے جبکہ سپریم کورٹ نے قتل کو انتہائی حساس معاملہ قرار دیتے ہوئے پولیس کو جلد اور غیر جانبدارانہ تفتیش مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ بدھ کو بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ پولیس کو کچھ مخصوص شواہد ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایڈیشنل رجسٹرار کا قتل ڈکیتی کے دوران ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وہ فی الوقت شواہد کے بارے مزید تفصیلات نہیں بتا سکتے کیونکہ تفتیش پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔ ایک سوال پر آفتاب شیرپاؤ نے بتایا کہ حماد رضا کے گھر سے ڈاکوؤں نے زیوارت اور نقدی بھی لوٹی ہے اور اس بارے میں پولیس مقتول کے اہل خانہ سے بیان لینے لاہور جا رہی ہے جس کے بعد ضمنی ایف آئی آر درج کی جائے گی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ جو ثبوت انہیں ملے ہیں ان کی بنا پر وہ پرامید ہیں کہ جلد ہی قاتلوں کو گرفتار کرلیا جائے گا۔ اس بارے میں جب حماد کے اہل خانہ سے لاہور میں رابطہ کیا تو مقتول کی بیوہ کے قریبی عزیز خالد علی شاہ نے کہا کہ تاحال کوئی ملزم گرفتار ہوا نہ تفتیش مکمل اور ایسے میں وزیر داخلہ کا اس واقعہ کو ڈکیتی قرار دینا معنیٰ خیز ہے۔
’ہم اب بھی اپنی بات پر قائم ہیں کہ حماد کا قتل ٹارگٹ کلنگ ہے اور اب چونکہ سپریم کورٹ اس کیس کی نگرانی کر رہی ہے اس لیے میں اس بارے میں مزید کچھ نہیں کہنا نہیں چاہتا۔‘ جب ان سے پوچھا کہ کیا کسی نے انہیں ڈرایا دھمکایا ہے تو انہوں نے کہا کہ اس وقت وہ کچھ بھی نہیں کہنا چاہتے۔ دریں اثناء ڈسٹرکٹ مینیجمینٹ گروپ کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران کی تنظیم نے بدھ کو حماد رضا کی یاد میں ایک تعزیتی اجلاس منعقد کیا جو کہ اپنی نوعیت کا غیر معمولی واقعہ ہے۔ اجلاس میں افسران نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔ ڈی ایم جی ایسو سی ایشن نے تفتیش سے قبل حماد رضا کے بہیمانہ قتل کو اسلام آباد پولیس کی جانب سے ڈکیتی کی واردات قرار دینے کی شدید مذمت کی۔ سرکاری افسران نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر حماد رضا جیسے ایماندار افسر کے قاتلوں کو سزا نہیں ہوئی تو بیوروکریسی کے لیے اپنے فرائض سرانجام دینا مشکل ہوجائے گا۔ واضح رہے کہ حماد رضا کو چودہ مئی کو فجر کے وقت اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ میں نامعلوم افراد نے گھس کر گولی ماردی تھی۔ مقتول کے والد اور بیوہ نے کہا تھا کہ یہ ’ٹارگٹ کلنگ‘ ہے اور ڈکیتی کی واردات نہیں۔ کیونکہ ان کے بقول قاتلوں نے مقتول کے موبائل فون کے علاوہ کوئی چیز نہیں لوٹی۔ دوسری جانب واقعہ کے فوراً بعد سے پولیس اسے ڈکیتی کی واردات قرار دے رہی ہے۔ حماد رضا کے قتل کے بعد عملی طور پر معطل چیف جسٹس کے وکلاء نے کہا تھا کہ وہ چیف جسٹس کے مقدمے میں ایک اہم گواہ تھے۔ واقعہ کے فوری بعد سپریم کورٹ کے تمام جج اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری مقتول کے گھر گئے تھے اور قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوانداس نے از خود نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ کے دو سینئر ججوں جسٹس جاوید اقبال اور جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو پولیس تفتیش کی نگرانی پر مامور کیا تھا۔ قائم مقام چیف جسٹس نے پولیس کو روزانہ پیش رفت کے بارے میں ہدایت کی تھی کہ وہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو مطلع کریں اور نگرانی کرنے والے جج صاحبان کو کہا تھا کہ وہ جو مناسب سمجھیں دوران تفتیش احکامات جاری کر سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے دونوں ججوں کے سامنے بدھ کو ڈی آئی جی پولیس شاہد ندیم بلوچ، ایس ایس پی ظفر اقبال اور ایس پی تحقیقات اشفاق احمد عدالتی نوٹس پر پیش ہوئے اور عدالت نے انہیں ہدایت کی کہ روزانہ ایک بجے تک تحریری طور پر تفتیش کے بارے میں رپورٹ پیش کیا کریں۔ عدالت نے پولیس حکام سے کہا کہ یہ ایک حساس نوعیت کا کیس ہے اس کی تفتیش مکمل طور پر غیر جانبداری کے ساتھ جلد مکمل کی جائے۔ مقتول کے اہل خانہ کی جانب سے قتل کو ’ٹارگٹ کلنگ، قرار دینے اور حکام کی جانب سے اُسے محض ڈکیتی کی واردات کے دوران قتل قرار دینے سے کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ | اسی بارے میں ’پولیس قاتل بچانے کے لیے وہاں تھی؟‘15 May, 2007 | پاکستان اب نہ بحث نہ تبصرے نہ نعرے،سب توہینِ عدالت09 May, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد کے لیے مظاہرے14 May, 2007 | پاکستان ’جسٹس افتخار دورہ ملتوی کر دیں‘09 May, 2007 | پاکستان فل کورٹ میں سماعت آج سے14 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||