BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 May, 2007, 00:18 GMT 05:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاپتہ افراد کے لیے مظاہرے

لاپتہ افراد: فائل فوٹو
جج نے لواحقین کو بھی مشورہ دیا ہے کہ صبر کا مظاہرہ کریں
بلوچستان کے علاقہ تربت اور خضدار میں مبینہ طور پر غیر قانوناً غائب کیے گئے افراد کے حوالے سے خواتین نے ماں کے عالمی دن کے موقع پراحتجاجی مظاہرے کیے۔

تربت میں خواتین نے ریلی نکالی اور غیر قانونی طور پر غائب کیے گئے افراد کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا۔ اس ریلی میں لاپتہ افراد کی مائیں اور بہنیں بھی شامل تھیں۔

بلوچ قوم پرست جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق بلوچستان سے بڑی تعداد میں لوگوں کو اٹھایا گیا ہے جن کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔

کوئٹہ پریس کلب میں مری قبیلے کی خواتین نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا کہ گزشتہ ماہ کراچی میں ملیر کے علاقے سے ان کے دو بزرگ بھائیوں شادی خان اور خان محمد کو خفیہ ایجنسی کے اہلکار اٹھا کر لے گئے ہیں جن کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔

دونوں کی عمریں اسی سال اور بہتر سال بتائی گئی ہیں اور دونوں مال مویشی اور سبزی کا کاروبار کرتے ہیں۔ ستر سالہ ماہ بی بی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ عالمی تنظیموں سے اپیل کرتی ہیں کہ ان کے بھائیوں کو یا رہا کیا جائے اور یا انہیں منظر عام پر لایا جائے۔

خضدار سے بلوچستان نیشنل موومنٹ کے رہنماؤں نے بتایا کہ خواتین نے ماں کے عالمی دن کے موقع پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد