لاپتہ افراد کے لیے مظاہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے علاقہ تربت اور خضدار میں مبینہ طور پر غیر قانوناً غائب کیے گئے افراد کے حوالے سے خواتین نے ماں کے عالمی دن کے موقع پراحتجاجی مظاہرے کیے۔ تربت میں خواتین نے ریلی نکالی اور غیر قانونی طور پر غائب کیے گئے افراد کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا۔ اس ریلی میں لاپتہ افراد کی مائیں اور بہنیں بھی شامل تھیں۔ بلوچ قوم پرست جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق بلوچستان سے بڑی تعداد میں لوگوں کو اٹھایا گیا ہے جن کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔ کوئٹہ پریس کلب میں مری قبیلے کی خواتین نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا کہ گزشتہ ماہ کراچی میں ملیر کے علاقے سے ان کے دو بزرگ بھائیوں شادی خان اور خان محمد کو خفیہ ایجنسی کے اہلکار اٹھا کر لے گئے ہیں جن کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔ دونوں کی عمریں اسی سال اور بہتر سال بتائی گئی ہیں اور دونوں مال مویشی اور سبزی کا کاروبار کرتے ہیں۔ ستر سالہ ماہ بی بی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ عالمی تنظیموں سے اپیل کرتی ہیں کہ ان کے بھائیوں کو یا رہا کیا جائے اور یا انہیں منظر عام پر لایا جائے۔ خضدار سے بلوچستان نیشنل موومنٹ کے رہنماؤں نے بتایا کہ خواتین نے ماں کے عالمی دن کے موقع پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا۔ | اسی بارے میں لاپتہ افراد: عدالت پالیسی بنائےگی27 April, 2007 | پاکستان ’ایسا انوکھا واقعہ پہلے نہیں دیکھا‘26 April, 2007 | پاکستان رپورٹ عدالت میں پیش ہوگی:حکومت24 April, 2007 | پاکستان سپریم کورٹ:وفاقی سیکریٹری طلب20 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||