BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 April, 2007, 14:20 GMT 19:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سپریم کورٹ:وفاقی سیکریٹری طلب

لاپتہ افراد
لاپتہ افراد کے عزیز کئی بار مظاہرے کر کے اپنے عزیزوں کی بازیابی کا مطالبہ کر چکے ہیں
ڈپٹی اٹارنی جنرل پاکستان راجہ ارشاد نے سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کے مقدمے کے لیے حکومت کی نمائندگی سے معذوری ظاہر کی ہے۔ سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل پاکستان، وفاقی سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری دفاع اور وزارت داخلہ میں قائم کرائسس منیجمنٹ سیل کے سربراہ کو طلب کرلیا ہے اور ان کو ہدایت کی ہے کہ وہ لاپتہ افراد کے بارے میں مفصل رپورٹ پیش کریں۔


جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نےجمعہ کو جب اس مقدمہ کے سماعت شروع کی تو اس کے سامنے حکومت کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ ارشاد پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وزارت داخلہ کے حکام اس مقدمے کے سلسلے معلومات فراہم کرنے میں تعاون نہیں کر رہے ہیں، اس لیے وہ اس معاملے میں عدالت عظمی کی مدد کرنے سے قاصر ہیں اور مقدمے کی پیروی نہیں کرسکتے۔

مقدمے کی گزشتہ سماعت پر عدالت عظمٰی نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ان کی درخواست پر لا پتہ افراد کے بارے میں وزارت داخلہ کی جانب سے تفصیلات پیش کرنے کے لیے ایک ہفتے کے مہلت دی تھی۔

اپنے لاپتہ شوہر کے لیے فکر مند آمنہ مسعود جنجوعہ نے عدالت کے روبرو کہا کہ مقدمے میں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے، اٹارنی جنرل پاکستان بھی عدالت کے بارہا طلب کرنے کے باوجود پیش نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ ’لاپتہ افراد کے ورثاء بہت پریشان ہیں اور اپنے پیاروں کا انتظار کر رہے ہیں اور سپریم کورٹ ہی ہمارے پیاروں کو واپس لاسکتی ہے‘۔

جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں ہے، سب اداروں کو آئین و قانون کے مطابق چلنا ہوگا۔ انہوں نے آمنہ مسعود کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ مایوس نہ ہوں ہم اس معاملے کو سنجیدگی سے تو لے رہے ہیں لیکن یہ مسئلہ پارلیمنٹ میں حل ہونا چاہیے۔

ہر آدمی سپریم کورٹ آنا چاہتا ہے
 پارلیمنٹ 14 کروڑ عوام کی نمائندہ ہے لیکن یہ عجیب رسم چلی ہے کہ ہر آدمی سپریم کورٹ میں آنا چاہتا ہے حالانکہ دوسرے ادارے بھی ہیں

جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ پارلیمنٹ 14 کروڑ عوام کی نمائندہ ہے لیکن یہ عجیب رسم چلی ہے کہ ہر آدمی سپریم کورٹ میں آنا چاہتا ہے حالانکہ دوسرے ادارے بھی ہیں۔

آمنہ مسعود نے کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ پر یقین ہے۔

لاپتہ افراد کے وکلاء نے عدالت سے استدعا کی کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے جس پر جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ انکوائری کمیشن بھی قائم کرسکتے ہیں لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ عدالت عظمٰی اس مقدمے کو چلائے گی۔ انہوں نے لاپتہ افراد کے وکلاء سے کہا کہ وہ جلد بازی نہ کریں اور عدالت کو پہلے متعلقہ حکام کو بلانے دیں، ان سے ہم لاپتہ افراد کے بارے پوچھتے ہیں۔

جسٹس جاوید نے کہا کہ لاپتہ افراد میں جہادی بھی شامل ہیں۔ ’بچوں کو ٹریننگ دے کر باہر بھیجا جاتا ہے اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ایکشن نہیں ہوگا تو یہ اسکی بھول ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ایک دو ہفتوں کے اندر اکثر لاپتہ افراد مل جائیں گے‘۔

جسٹس جاوید نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے میں آئینی، انسانی اور عالمی پہلو بھی ہیں یہ مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہے لیکن ہم اس مسئلے کو حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے عدالت کے روبرو کہا کہ انہوں نے سینیٹ میں یہ مطالبہ کیا تھا کہ حکومت لاپتہ افراد کے بارے میں ارکان کو بریفنگ دے جس پر انہیں بتایا گیا تھا کہ یہ خفیہ معاملہ ہے اس پر بریفنگ نہیں ہوسکتی۔

جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ اگر کوئی ایسا حساس معاملہ ہوتا بھی ہے تو بند کمرے میں بھی اسکی بریفنگ ہوسکتی ہے۔

جہاں نعری بازی ہونی چاہیے
 ’جہاں نعرے بازی ہونی چاہیے وہاں آپ نعرے بازی نہیں کرتے اور یہاں سپریم کورٹ میں آ کر گملے توڑتے ہیں وہاں جاکر گملے کیوں نہیں توڑتے
اس پر پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی چئرپرسن عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ معاملہ حساس ہوسکتا ہے لیکن قانون تو حساس نہیں ہوتا۔

ایک موقع پر جسٹس جاوید نے کہا کہ ’جہاں نعرے بازی ہونی چاہیے وہاں آپ نعرے بازی نہیں کرتے اور یہاں سپریم کورٹ میں آ کر گملے توڑتے ہیں وہاں جاکر گملے کیوں نہیں توڑتے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’صحافی تو جامعہ حفصہ بھی جاتے ہیں اور یہاں پر بھی آجاتے ہیں‘۔

عدالت نے وفاقی سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری دفاع اور وزارت داخلہ میں قائم کرائسس منیجمنٹ سیل کے سربراہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر پیش ہونے اور لاپتہ افراد کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا اور اٹارنی جنرل پاکستان کو بھی ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت پر اپنی حاضری کو یقینی بنائیں۔ بعد ازاں عدالت نے مقدمے کی سماعت 27 اپریل تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ میں زیرسماعت یہ مقدمہ لگ بھگ 210 افراد کی گمشدگی سے متعلق ہے جس میں بعض لاپتہ افراد کے ورثاء، انسانی حقوق کمیشن اور پیپلز پارٹی فریق ہیں جب کہ بعض افراد کے لاپتہ ہونے کا غیرفعال چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ازخود نوٹس لیا تھا۔

شیرپاؤ’رابطہ کریں‘
لاپتہ افراد کی تلاش کر رہے ہیں: آفتاب شیرپاؤ
لاپتہ افراد کے لواحقین
لواحقین کی جدوجہد
احتجاجاسلام آباد میں مظاہرہ
لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کے احتجاج کی تصاویر
احتجاجی دھرنا
’لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے‘
دیکھیئے لاپتہ افراد
اسلام آباد میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ کی بھوک ہڑتال
لاپتہ افراد کے اہل خانہلاپتہ افراد
اسلام آباد میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ کا مظاہرہ
اسی بارے میں
لاپتہ افراد کے لیے مظاہرہ
09 December, 2006 | پاکستان
عمر کوٹ کے ہندو لاپتہ ہیں
28 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد