BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 April, 2007, 09:48 GMT 14:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاپتہ افراد: عدالت پالیسی بنائےگی

لاپتہ افراد کے لواحقین
لاپتہ افراد کے لواحقین گزشتہ کئی ماہ سے سپریم کورٹ کے سامنے احتجاج کر رہے ہیں
سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ جب تک لوگوں کے پراسرار طور پر لاپتہ ہونے کے خلاف کوئی باقاعدہ قانون نہیں بنتا سپریم کورٹ ایک ایسی پالیسی یا گائیڈ لائنز بنائے گی جو لوگوں کو تحفظ فراہم کرے۔

جمعہ کو لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کے موقع پر انہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ یہ بات دہرائی اور لاپتہ افراد کے ورثاء اور وکلاء سے کہا کہ وہ جذباتی نہ ہوں اور صبر سے کام لیں۔

جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں قائم اس دو رکنی بینچ میں دوسرے رکن جسٹس شاکراللہ جان شامل تھے۔

مقدمے کی گزشتہ سماعت پر عدالت عظمی نے داخلہ اور دفاع کے وفاقی سیکریٹریوں، اٹارنی جنرل آف پاکستان اور وفاقی محکمہ داخلہ کے کرائسس منجمینٹ سیل کے سربراہ بریگیڈئر (ر) جاوید اقبال چیمہ کو عدالت میں پیش ہونے اور لاپتہ افراد کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

جمعہ کو سیکریٹری داخلہ سید کمال شاہ اور اٹارنی جنرل مخدوم علی خان پیش نہیں ہوئے۔

 اس طرح ماورائے قانون کارروائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ کوئی جنگل کا قانون تو نہیں ہے، جب قانون موجود ہے تو پھر کیوں قانون کے مطابق کارروائی نہیں کی جاتی
جسٹس جاوید اقبال
سیکریٹری داخلہ کی علالت کا سرٹیفیکیٹ پیش کیا گیا جبکہ سیکریٹری دفاع کامران رسول، جاوید اقبال چیمہ اور حکومت کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل چوہدری افراسیاب پیش ہوئے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی جانب سے جن 148 لاپتہ افراد کی فہرست دی گئی ہے ان میں سے 56 افراد کا پتہ چل گیا ہے۔

بریگیڈئر (ر) چیمہ نے عدالت کو بتایا کہ ان 56 افراد میں زیادہ تر لوگ آزاد ہیں جن کی تعداد 45 ہے جبکہ 3 افراد کے خلاف مقدمات زیرسماعت ہیں، ایک سزا یافتہ ہے، ایک فوجی بھگوڑا ہے اور 6 زیر حراست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے ایک شخص ذوالفقار ملک پاکستان سیکیورٹی ایکٹ کے تحت زیرحراست ہے۔

جسٹس جاوید اقبال نے ان سے کہا کہ باقی لوگوں کا کیا ہوا۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل اور بریگیڈئر (ر) چیمہ نے عدالت سے کہا کہ انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے لاپتہ افراد کی جو فہرست دی گئی ہے ان میں زیادہ تر کے کوائف درج نہیں ہیں جس کی وجہ سے حکومت کو ان افراد کا پتہ چلانے میں مشکل پیش آرہی ہے۔

انسانی حقوق کمیشن کی چئرپرسن عاصمہ جہانگیر نے عدالت سے کہا کہ وہ ایسے افراد کے پتے اور دیگر تفصیلات جمع کررہے ہیں اور آئندہ شنوائی پر عدالت میں پیش کردیں گے۔

 وزارت داخلہ کی جانب سے 56 افراد کی فہرست میں جن افراد کو رہا اور زیر حراست بتایاگیا ہے ان کی حراست کی وجوہات اور حالات کے بارے میں کوئی تذکرہ نہیں ملتا
فخرالدین جی ابراہیم
انسانی حقوق کمیشن کی نمائندگی کرنے والے سینئر قانون دان فخرالدین جی ابراہیم نے کہا کہ حکومت کوائف کی عدم دستیابی کو بہانہ بنا رہی ہے۔ ”انہیں تو یہ دیکھنا ہے کہ کیا فلاں شخص جو فلاں صوبے یا شہر کا ہے ان کی حراست میں ہے یا نہیں اور اگر ہے تو کیوں ہے۔،،

انہوں نے کہا کہ ”ہم نےتو لسٹ میں وہ تاریخ بھی دی ہیں جب ان افراد کو حراست میں لیا گیا۔،،

انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے 56 افراد کی فہرست میں جن افراد کو رہا اور زیر حراست بتایاگیا ہے ان کی حراست کی وجوہات اور حالات کے بارے میں کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔ انہوں نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی کہ ان کے مؤکل کو زیرحراست افراد سے ملاقات کرنے کی اجازت دی جائے۔

جسٹس جاوید اقبال نے سیکریٹری دفاع کامران رسول اور بریگیڈئر (ر) چیمہ سے سوال کیا کہ کیا خفیہ ایجنسیاں وزرات داخلہ یا وزارت دفاع کو جوابدہ ہیں اور اگر نہیں تو پھر ان کی کارروائیوں میں قانونی تقدس کو کیسے برقرار رکھا جاتا ہے۔

سیکریٹری دفاع نے کہا کہ ان کی وزارت کا خفیہ ایجنسیوں پر صرف انتظامی کنٹرول ہے ’آپریشن کمانڈ چین، ان کے پاس نہیں۔

جسٹس جاوید اقبال نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی میں خفیہ ایجنسیوں کو شہریوں کو اس طرح نہیں اٹھانا چاہیے۔

 کوئی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہ دوسرے سے زیادہ محب وطن ہے ہر شخص کو اپنے وطن سے محبت ہے یہ غلط ہے کہ صرف چند لوگ ہی محب وطن ہیں
جسٹس جاوید اقبال
”اس طرح ماورائے قانون کارروائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ کوئی جنگل کا قانون تو نہیں ہے، جب قانون موجود ہے تو پھر کیوں قانون کے مطابق کارروائی نہیں کی جاتی۔،،

انہوں نے کہا کہ کیا ضروری ہے کہ ملکی اور غیرملکی سطح پر اپنا امیج خراب کرایا جائے۔

ایک موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ ”کوئی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہ دوسرے سے زیادہ محب وطن ہے ہر شخص کو اپنے وطن سے محبت ہے یہ غلط ہے کہ صرف چند لوگ ہی محب وطن ہیں۔،،

عاصمہ جہانگیر نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ افراد میں ایک 9 سالہ بچہ بھی شامل ہے جسے تربت میں فرنٹئر کور نے اپنی حراست میں رکھا ہوا ہے اور وفاقی وزیر زبیدہ جلال نے بھی ایک اخباری بیان میں اسکی تصدیق کی تھی۔

جسٹس جاوید نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ وہ اس بچے کو پیر تک رہا کرائیں اور اسکی رپورٹ پیش کریں۔

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ عدالت حکومت سے معلوم کرے کہ خفیہ ایجنسیاں کس قانون کے تحت کام کرتی ہیں۔

جسٹس جاوید نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب سیاسی پارٹیاں جب اقتدار میں تھیں تو انہوں نے ان ایجنسیوں کو کنٹرول میں کرنے کے لئے کوئی قانون نہیں بنایا۔ ”اگر آپ نے اچھے قانون بنالیے ہوتے اور ایجنسیز کو کنٹرول کرلیا ہوتا تو آج یہ مشکل پیش نہ آتی۔،،

ڈپٹی اٹارنی جنرل اور بریگیڈئر چیمہ نے تمام لاپتہ افراد کے بارے میں معلومات جمع کرنے کے لئے مہلت طلب کی جس پر عدالت نے آئندہ جمعہ 4 مئی تک سماعت ملتوی کردی۔

شاہی قلعہابتداء پنڈی کیس سے
پاکستان میں سیاسی گمشدگیوں کی تاریخ
وہ کہاں گئے؟
گمشدہ بلوچ کارکنوں کا معمہ حل نہ ہو سکا
احتجاجاسلام آباد میں مظاہرہ
لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کے احتجاج کی تصاویر
شیرپاؤ’رابطہ کریں‘
لاپتہ افراد کی تلاش کر رہے ہیں: آفتاب شیرپاؤ
’آزاد‘ کشمیر میں لاپتہ۔۔۔لاپتہ ’آزاد‘ کشمیری
’چار ماہ سے ابو کی شکل نہیں دیکھی‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد