لاپتہ افراد: عدالت پالیسی بنائےگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ جب تک لوگوں کے پراسرار طور پر لاپتہ ہونے کے خلاف کوئی باقاعدہ قانون نہیں بنتا سپریم کورٹ ایک ایسی پالیسی یا گائیڈ لائنز بنائے گی جو لوگوں کو تحفظ فراہم کرے۔ جمعہ کو لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کے موقع پر انہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ یہ بات دہرائی اور لاپتہ افراد کے ورثاء اور وکلاء سے کہا کہ وہ جذباتی نہ ہوں اور صبر سے کام لیں۔ جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں قائم اس دو رکنی بینچ میں دوسرے رکن جسٹس شاکراللہ جان شامل تھے۔ مقدمے کی گزشتہ سماعت پر عدالت عظمی نے داخلہ اور دفاع کے وفاقی سیکریٹریوں، اٹارنی جنرل آف پاکستان اور وفاقی محکمہ داخلہ کے کرائسس منجمینٹ سیل کے سربراہ بریگیڈئر (ر) جاوید اقبال چیمہ کو عدالت میں پیش ہونے اور لاپتہ افراد کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ جمعہ کو سیکریٹری داخلہ سید کمال شاہ اور اٹارنی جنرل مخدوم علی خان پیش نہیں ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی جانب سے جن 148 لاپتہ افراد کی فہرست دی گئی ہے ان میں سے 56 افراد کا پتہ چل گیا ہے۔ بریگیڈئر (ر) چیمہ نے عدالت کو بتایا کہ ان 56 افراد میں زیادہ تر لوگ آزاد ہیں جن کی تعداد 45 ہے جبکہ 3 افراد کے خلاف مقدمات زیرسماعت ہیں، ایک سزا یافتہ ہے، ایک فوجی بھگوڑا ہے اور 6 زیر حراست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے ایک شخص ذوالفقار ملک پاکستان سیکیورٹی ایکٹ کے تحت زیرحراست ہے۔ جسٹس جاوید اقبال نے ان سے کہا کہ باقی لوگوں کا کیا ہوا۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل اور بریگیڈئر (ر) چیمہ نے عدالت سے کہا کہ انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے لاپتہ افراد کی جو فہرست دی گئی ہے ان میں زیادہ تر کے کوائف درج نہیں ہیں جس کی وجہ سے حکومت کو ان افراد کا پتہ چلانے میں مشکل پیش آرہی ہے۔ انسانی حقوق کمیشن کی چئرپرسن عاصمہ جہانگیر نے عدالت سے کہا کہ وہ ایسے افراد کے پتے اور دیگر تفصیلات جمع کررہے ہیں اور آئندہ شنوائی پر عدالت میں پیش کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم نےتو لسٹ میں وہ تاریخ بھی دی ہیں جب ان افراد کو حراست میں لیا گیا۔،، انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے 56 افراد کی فہرست میں جن افراد کو رہا اور زیر حراست بتایاگیا ہے ان کی حراست کی وجوہات اور حالات کے بارے میں کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔ انہوں نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی کہ ان کے مؤکل کو زیرحراست افراد سے ملاقات کرنے کی اجازت دی جائے۔ جسٹس جاوید اقبال نے سیکریٹری دفاع کامران رسول اور بریگیڈئر (ر) چیمہ سے سوال کیا کہ کیا خفیہ ایجنسیاں وزرات داخلہ یا وزارت دفاع کو جوابدہ ہیں اور اگر نہیں تو پھر ان کی کارروائیوں میں قانونی تقدس کو کیسے برقرار رکھا جاتا ہے۔ سیکریٹری دفاع نے کہا کہ ان کی وزارت کا خفیہ ایجنسیوں پر صرف انتظامی کنٹرول ہے ’آپریشن کمانڈ چین، ان کے پاس نہیں۔ جسٹس جاوید اقبال نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی میں خفیہ ایجنسیوں کو شہریوں کو اس طرح نہیں اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کیا ضروری ہے کہ ملکی اور غیرملکی سطح پر اپنا امیج خراب کرایا جائے۔ ایک موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ ”کوئی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہ دوسرے سے زیادہ محب وطن ہے ہر شخص کو اپنے وطن سے محبت ہے یہ غلط ہے کہ صرف چند لوگ ہی محب وطن ہیں۔،، عاصمہ جہانگیر نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ افراد میں ایک 9 سالہ بچہ بھی شامل ہے جسے تربت میں فرنٹئر کور نے اپنی حراست میں رکھا ہوا ہے اور وفاقی وزیر زبیدہ جلال نے بھی ایک اخباری بیان میں اسکی تصدیق کی تھی۔ جسٹس جاوید نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ وہ اس بچے کو پیر تک رہا کرائیں اور اسکی رپورٹ پیش کریں۔ فرحت اللہ بابر نے کہا کہ عدالت حکومت سے معلوم کرے کہ خفیہ ایجنسیاں کس قانون کے تحت کام کرتی ہیں۔ جسٹس جاوید نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب سیاسی پارٹیاں جب اقتدار میں تھیں تو انہوں نے ان ایجنسیوں کو کنٹرول میں کرنے کے لئے کوئی قانون نہیں بنایا۔ ”اگر آپ نے اچھے قانون بنالیے ہوتے اور ایجنسیز کو کنٹرول کرلیا ہوتا تو آج یہ مشکل پیش نہ آتی۔،، ڈپٹی اٹارنی جنرل اور بریگیڈئر چیمہ نے تمام لاپتہ افراد کے بارے میں معلومات جمع کرنے کے لئے مہلت طلب کی جس پر عدالت نے آئندہ جمعہ 4 مئی تک سماعت ملتوی کردی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||