BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 April, 2007, 16:13 GMT 21:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رپورٹ عدالت میں پیش ہوگی:حکومت

تمام صوبوں سے شہریوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں
حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں لاپتہ افراد کے کوائف جمع کر رہی ہے اور اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں زیرسماعت مقدمے کی آئندہ پیشی کے موقع پر وہ تفصیلات عدالت کے سامنے پیش کرے گی۔

وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ نے منگل کو ایک بریفنگ میں بتایا کہ وفاقی حکومت نے چاروں صوبوں کے پولیس سربراہان اور سیکریٹری داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان لاپتہ افراد کو تلاش کریں جن کا مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور وزارت داخلہ کو 26 اپریل تک اس کی رپورٹ پیش کریں۔

لاپتہ افراد کے مقدمے کی آئندہ سماعت 27 اپریل کو ہونی ہے۔ سپریم کورٹ نے مقدمے کی گزشتہ سماعت پر اٹارنی جنرل پاکستان، داخلہ اور دفاع کے محکموں کے وفاقی سیکریٹریوں اور بریگیڈئر جاوید اقبال چیمہ کو جو وزارت داخلہ کے نیشنل کرائسس منجمینٹ سیل کے سربراہ بھی ہیں، آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہونے اور لاپتہ افراد کے بارے میں مفصل رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

جب بریگیڈئر چیمہ سے دریافت کیا گیا کہ وزارت داخلہ اس سلسلے میں کیا کررہی ہے تو انہوں نے کہا کہ ’میں نے انسانی حقوق کمیشن پاکستان کو ایک خط لکھا ہے جس میں ان سے گذارش کی ہے کہ چونکہ یہ ایک انسانی حقوق کا مسئلہ ہے اور ہم ان لوگوں کو تلاش کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے تو وہ اس ہماری مدد کریں اور اس سلسلے میں ہمیں مزید معلومات فراہم کریں۔‘

 باوجود اس کے کہ ہمارے پاس لوگوں کے پتے اور کوائف موجود نہیں ہیں ہم نے اس سلسلے میں کچھ پیش رفت کی ہے اس وقت میں اس کی تفصیل میں جانا نہیں چاہوں گا۔ انشاء اللہ جب 27 تاریخ کو ہم سپریم کورٹ میں جواب داخل کریں گے تو اس میں یہ ساری تفصیل بتادیں گے۔
بریگیڈیر جاوید اقبال چیمہ
انہوں نے کہا کہ ’باوجود اس کے کہ ہمارے پاس لوگوں کے پتے اور کوائف موجود نہیں ہیں ہم نے اس سلسلے میں کچھ پیش رفت کی ہے اس وقت میں اس کی تفصیل میں جانا نہیں چاہوں گا۔ انشاء اللہ جب 27 تاریخ کو ہم سپریم کورٹ میں جواب داخل کریں گے تو اس میں یہ ساری تفصیل بتادیں گے۔‘

انہوں نے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے علاقے سے لاپتہ ہونے والے افراد اور جنوبی افریقہ سے پاکستان کے حوالے کیے گئے دہشتگردی کی شبہے میں زیرحراست پاکستانی شہری خالد محمود رشید کے بارے میں بات کرنے سے انکار کیا۔ انہوں نے حکومت کے اس موقف کو دہرایا کہ زیادہ تر افراد ذاتی وجوہ یا جہادی تنظیموں سے تعلق ہونے کی بناء پر کہیں چلے جاتے ہیں تو ان کے بارے میں یہ الزام لگادیا جاتا ہے کہ خفیہ ادارے انہیں اٹھاکر لے گئے ہیں۔

جب ان سے دریافت کیا گیا کہ لاپتہ ہونے کے بعد آزاد ہونے والے بعض افراد نے عدالتوں میں حلف نامے جمع کرائے ہیں جن میں انہوں نے دوسرے لاپتہ افراد کی نشاندہی کی ہے جو ان کے ساتھ خفیہ اداروں کی حراست میں تھے تو کیا وزارت داخلہ ان افراد سے بھی کوئی مدد حاصل کرے گی، تو انہوں نے جواب دیا کہ ’اگر اس سلسلے میں ہمیں کسی نے ایسا کوئی حلف نامہ دیا یا اس طرح کی کوئی بات چیت کی تو ہم اس پر بھی غور کریں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ ملک کی اعلی ترین عدالت ہے اور وہ اس سلسلے میں جو بھی معلومات مانگے گی ہم فراہم کریں گے۔

واضح رہے کہ لاپتہ افراد کے مقدمے کی گزشتہ سماعت کے موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل پاکستان راجہ ارشاد نے مقدمے میں حکومت کی پیروی کرنے سے یہ کہہ کر معذوری ظاہر کردی تھی کہ وزارت داخلہ اس بارے میں معلومات فراہم کرنے میں ان سے کوئی تعاون نہیں کررہی اس لیے وہ عدالت کی مدد کرنے سے قاصر ہیں۔

شاہی قلعہابتداء پنڈی کیس سے
پاکستان میں سیاسی گمشدگیوں کی تاریخ
لاپتہ افراد کے لواحقین
لواحقین کی جدوجہد
شیرپاؤ’رابطہ کریں‘
لاپتہ افراد کی تلاش کر رہے ہیں: آفتاب شیرپاؤ
’آزاد‘ کشمیر میں لاپتہ۔۔۔لاپتہ ’آزاد‘ کشمیری
’چار ماہ سے ابو کی شکل نہیں دیکھی‘
لاپتہ افراد کے اہل خانہلاپتہ افراد
اسلام آباد میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ کا مظاہرہ
احتجاجاسلام آباد میں مظاہرہ
لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کے احتجاج کی تصاویر
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد