حماد رضا قتل، تحقیقات شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد کے ڈسٹرک اینڈ سیشن جج مرزا رفیع الزمان نے سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار حماد امجد رضا کے قتل کی عدالتی تحقیقات شروع کردی ہے۔ ڈسٹرکٹ جج نے جمعرات کو اسلام آباد کے سیکٹر جی ٹین میں واقع مقتول کی رہائش گاہ کا تفصیلی معائنہ کیا اور جمعہ کو بعض متعلقہ پولیس اہلکاروں کے بیان قلمبند کیے جائیں گے۔ حماد رضا کے ساتھیوں نے ہائی کورٹ کے جج سے جانچ کا مطالبہ کیا تھا لیکن وزیراعظم کی ہدایت پر بدھ کو حکومت نے اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو عدالتی تحقیقات کے لیے نامزد کیا تھا۔ حماد رضا کو چودہ مئی کی فجر کے وقت نامعلوم افراد نے گھر میں گھس کر قتل کردیا تھا۔ مقتول کے اہلیہ اور والد نے کہا تھا کہ یہ ایک ’ٹارگٹ کلنگ‘ ہے جبکہ پولیس نے واقعہ کے فوری بعد کہا تھا کہ ان کا قتل ڈکیتی کی واردارت کے دوران ہوا ہے۔ مقتول کے اہل خانہ نے پولیس کے موقف کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ڈکیتی ہوتی تو قاتل گھر سے کوئی چیز لوٹے بنا کیسے چلے گئے۔ وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ نے بھی’ٹارگٹ کلنگ‘ کے متعلق مقتول کے اہل خانہ کا موقف رد کرتے ہوئے ڈکیتی کے دوران قتل کے پولیس کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا تھا کہ مقتول کے گھر سے زیوارت اور نقدی بھی لوٹی گئی ہے۔ جبکہ اہل خانہ نقدی اور زیوارت کے لوٹنے کی سختی سے تردید کرچکے ہیں۔ اس بارے میں جب قتل کی تفتیش کرنے والی پولیس ٹیم کے سربراہ ایس پی اشفاق احمد سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ تفتیش مکمل ہونے تک کچھ نہیں کہہ سکتے۔ حکومت، پولیس اور مقتول کے اہل خانہ کے متضاد موقف سے حماد رضا کے قتل کے بارے میں کئی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ تین بچوں کے والد حماد امجد رضا کا تعلق ڈسٹرکٹ مینیجمنٹ گروپ یعنی ڈی ایم جی سے تھا اور اس گروپ کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران کی تنظیم نے ہائی کورٹ کے جج سے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ اسلام آباد میں ڈی ایم جی ایسو سی ایشن کے بدھ کو منعقد کردہ اجلاس میں ٹاپ گریڈ کے کچھ حاضر سروس افسران کے ساتھ ساتھ مختلف گریڈوں کے سینیئر افسران شریک ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ دن دیہاڑے ایک ایماندار افسر کے قتل سے ان کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے اور اگر ان کے قاتلوں کو سزا نہیں ملی تو بیورو کریسی کے لیے فرائض سرانجام دینا مشکل ہوگا۔ ادھرصوبہ پنجاب کے صدر مقام لاہور میں بھی ڈی ایم جی ایسو سی ایشن کا اجلاس ہوا تھا جس میں وزیراعلیٰ پنجاب کے پرنسپل سیکریٹری سمیت متعدد سینئر افسران شریک ہوئے۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ کے سیکریٹری نے مقتول کے اہل خانہ کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے پچیس لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا تھا۔ جبکہ ایسوسی ایشن کی جانب سے ڈی سی کالونی گجرانوالہ میں میں مقتول کے اہل خانہ ایک کنال کا پلاٹ دینے کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔ لاہور میں ایسو سی ایشن کے اجلاس میں یہ وضاحت بھی کی گئی تھی کہ مقتول حماد رضا کو اپنی قابلیت کی بنا پر سپریم کورٹ میں ایڈیشنل رجسٹرار مقرر کیا گیا تھا کسی شخصیت کی ایما پر نہیں۔ واضح رہے کہ حماد رضا بلوچستان میں تعینات تھے اور انہیں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سپریم کورٹ مں تعینات کیا تھا۔ چیف جسٹس جب اپنے سٹاف افسر کے قتل کے فوری بعد ان کے گھر پہنچے تھے تو حماد رضا کی اہلیہ نے کہا تھا کہ ان کے شوہر کو چیف جسٹس کی وجہ سے قتل کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوانداس نے عدالت اعظمیٰ کے دو سینئر ججوں کو حماد رضا کے قتل کی ہونے والی پولیس تحقیقات کو مانیٹر کرنے پر مامور کیا ہے۔ متعلقہ ججوں نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ روزانہ ایک بجے دوپہر تک پیش رفت کے بارے تحریری طور پر انہیں مطلع کریں۔ |
اسی بارے میں اب نہ بحث نہ تبصرے نہ نعرے،سب توہینِ عدالت09 May, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد کے لیے مظاہرے14 May, 2007 | پاکستان ’جسٹس افتخار دورہ ملتوی کر دیں‘09 May, 2007 | پاکستان فل کورٹ میں سماعت آج سے14 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||