وفاق، سندھ توہینِ عدالت کی زد میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں 12 مئی کو چیف جسٹس افتخار محمد چوھدری کے دورۂ کراچی کے موقع پر سندھ ہائی کورٹ کے حکم کے برخلاف مطلوبہ حفاظتی انتظامات نہ کرنے اور راستوں کی ناکہ بندی اور دیگر طریقوں سے چیف جسٹس کو اسلام آباد واپس جانے پر مجبور کرنے پر وفاقی اور صوبائی حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست داخل کی گئی ہے۔ یہ درخواست سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ابرار الحسن، پاکستان بار کونسل کے ممبر محمد یاسین خان آزاد، سندھ بار کونسل کے رکن صلاح الدین خان گنڈاپور اور کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر افتخار جاوید قاضی نے مشترکہ طور پر داخل کی ہے ۔ جس میں وفاقی سیکرٹری داخلہ سید کمال شاہ، چیف سیکرٹری سندھ شکیل درانی، بریگیڈئر غلام محمد محترم اور آئی جی پولیس سندھ نیاز احمد صدیقی اور کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر اظہر فاروقی کو مدعا علیہان بنایا گیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرمد جلال عثمانی اور علی سائیں ڈنو میتلو پر مشتمل ڈویژنل بینچ نے بدھ کو درخواست کی ابتدائی سماعت کے بعد مدعا علیہان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالت میں طلب کرلیا ہے اور درخواست کی سماعت کی تاریخ 18 مئی مقرر کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے 11 مئی کو پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی جانب سے داخل کردہ آئینی درخواست پر وفاقی اور صوبائی حکومت کو حکم دیا تھا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوھدری کے کراچی دورے کے موقع پر فول پروف حفاظتی انتظامات کیے جائیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ اپنے من پسند راستوں سے گزر سکیں۔ تاہم درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ 11 اور 12 مئی کی درمیانی شب پورے شہر کو ایسے مسلح لوگوں نے یرغمال بنا لیا تھا جو نہ تو پولیس یونیفارم میں تھے اور نہ وہ سرکاری گاڑیوں میں سوار تھے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’پوری شاہراہ فیصل کو نیپئر بیرکس سے قائد اعظم انٹرنیشنل ائرپورٹ تک کنٹینرز، منی بسیں اور دوسری گاڑیاں کھڑی کر کے بند کردیا گیا تھا اور ان کے ٹائروں کی ہوا نکال دی گئی تھی تاکہ ان کو ہٹایا نہ جاسکے۔‘ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسی طرح سندھ ہائی کورٹ، ڈسٹرکٹ کورٹس اور ملیر کورٹس جانے والے تمام راستے بھی بند کردیے گئے تھے اور عدالت کے مین گیٹ کو بھی کنٹینر کھڑا کر کے بند کردیا گیا تھا جس کی بناء پر اگلے دن 12 مئی کو وکلاء اور ججوں کو بھی عدالتوں میں داخل ہونے میں بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑا جس کی بناء پر چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو صوبائی سیکرٹری داخلہ اور آئی جی سندھ کو عدالت میں طلب کرنا پڑا۔
درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ آئی جی اور سیکرٹری داخلہ عدالت عالیہ کے احکامات کی تعمیل کرنے اور امن و امان کی خراب صورتحال پر قابو پانے کے بجائے ائرپورٹ پہنچ گئے اور چیف جسٹس کو عدالت تک پہنچنے کے لیے محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے کے بجائے انہیں زبردستی کار میں لے جانے کی کوشش کی اور پھر انہیں ہیلی کاپٹر میں بیٹھنے کا کہا جبکہ ان کے ہمراہ آنے والے وکلاء اور صحافیوں کو ائرپورٹ کے لاؤنج میں بٹھا دیا اور خود دروازے پر کھڑے ہوگئے تاکہ کوئی باہر نہ جاسکے۔ درخواست میں کہا گیا کہ اس دوران گورنر سندھ اور صوبائی وزراء سمیت دیگر حکام نے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سے رابطہ کرکے کہا کہ وہ پروگرام منسوخ کردیں اور چیف جسٹس کو کہیں کو وہ واپس چلے جائیں۔ درخواست گذاروں کے مطابق اسی دوران چیف جسٹس کے ساتھ ائرپورٹ کے لاؤنج میں بیٹھے ہوئے وکلاء کو ان کی صوبہ بدری کے نوٹس دیے گئے۔ اس طرح جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کیے گئے کہ چیف جسٹس کو واپس جانا پڑا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ مدعا علیہان نے دانستہ طور پر عدالت عالیہ کے احکامات کی خلاف ورزی کی ہے لہذا توہین عدالت کے جرم میں ان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا جائے۔ |
اسی بارے میں رینجرز: محافظ یا کاروباری کمپنی؟16 May, 2007 | پاکستان جنرل مشرف عوامی کٹہرے میں16 May, 2007 | پاکستان ’دعوت ملی تو پھر کراچی جائیں گے‘16 May, 2007 | پاکستان کراچی میں ہلاکتیں، اسمبلی میں ہنگامہ15 May, 2007 | پاکستان پولیس کوہتھیارنہ دینےکی ہدایت14 May, 2007 | پاکستان چیف جسٹس کی واپسی، ہنگاموں میں 34 ہلاک12 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||