رینجرز: محافظ یا کاروباری کمپنی؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندہ کے ضلع نوابشاہ میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کی خاطر عارضی طور پر طلب کی گئی رینجرز نے سرکاری پلاٹوں اور عمارتوں پر قبضہ کر کے مستقل بنیادوں پر کئی کاروبار شروع کر رکھے ہیں۔ رینجرز کےنوابشاہ میں بڑھتے ہوئے کاروبار میں پیٹرول پمپ، سی این جی سٹیشن، انڈس مارٹ نامی سپر سٹور اور شہر کا مہنگا ترین رینجرز پبلک سکول شامل ہیں۔ گزشتہ سال اکیس دسمبر کو ضلع اسمبلی نوابشاہ نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ سرکاری پلاٹوں اور عمارتوں سے رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے ادروں کا قبضہ ختم کرایا جائے۔یہ پاکستان میں کسی بھی ضلع کونسل کی طرف سے اس نوعیت کی پہلی قرارداد تھی۔ ضلع کونسل میں متفقہ طور پر جو قرارداد منظور کی گئی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان رینجرز نے نوابشاہ کی اہم عمارتوں اور پلاٹوں پر گذشتہ سولہ سالوں سے قبضہ کیا ہوا ہے۔
یہ قرارداد اکیس نومبر دو ہزار چھ کو ضلع کونسل کے ممبر سید منیر شاہ نے پیش کی تھی۔ نوابشاہ میں بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری کی بہن فریال ٹالپر دوسری بار ضلع ناظمہ بنی ہیں اور وہ اس وقت ضلع اسمبلی میں موجود تھیں جب یہ قرارداد منظور کی گئی۔ لیکن بعد میں انہوں نے ایک پریس بریفنگ کے دوران رینجرز کے کردار کی تعریف کی اور نوابشاہ میں ان کی موجودگی کو سراہا۔ ضلع کونسل نوابشاہ کے رکن سید منیر شاہ کے مطابق قراداد میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج نوابشاہ کے ہاسٹل، ضلع حکومت نوابشاہ کے آٹھ سرکاری بنگلے، کونسل کا ریسٹ ہاؤس، پبلک ہیلتھ انجنیئرنگ کے دفتر اور محکمہ آبپاشی کے پلاٹوں پر بنائے گئے رینجرز پبلک سکول اور انڈس مارٹ سے ناجائز اور غیر قانونی قبضہ فوری طور پر ختم کرا یا جائے۔ قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ عمارتیں اور پلاٹ ضلع حکومت نوابشاہ کو دلائے جائیں تا کہ ان پر عجائب گھر، ثقافتی مرکز، فیملی پارک اور دوسرے عوامی بہبود کے منصوبے شروع کیے جا سکیں۔ سندھ میں رینجرز کے ترجمان کپٹن فضل نے رابطہ کرنے پر بی بی سی کو بتایا کہ انہیں نوابشاہ میں رینجرز کےسی این جی سٹیشن یا پٹرول پمپ کا تو علم نہیں مگر وہاں انڈس مارٹ نامی سپر سٹور مقامی لوگوں کو معیاری اور سستی اشیاء فراہم کرنے کی خاطر کھولا گیا ہے۔ رینجرز کے ترجمان کے مطابق رینجرز پبلک سکول نوابشاہ جیسے، بقول ان کے پسماندہ علاقے، میں تعلیمی معیار بہتر بنانے کی خاطر بنا یا گیا ہے۔ اس سکول کی فیس سٹی سکول اور بیکن ہاؤس جیسے پاکستان کے مہنگے ترین سکولوں سے بھی زیادہ ہے۔ کپٹن فضل کا کہنا تھا کہ’ رینجرز سکول کا معیار بہتر بنانے کی خاطر فیس بڑھانا پڑتی ہیں۔آپ فیس پر نہیں سکول کے معیار پر نظر رکھیں۔‘
نوابشاہ کی ضلع ناظمہ فریال ٹالپور سے کئی مرتبہ رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر ان کے دفتر اور گھر سے بتایا گیا کہ وہ مصروف ہیں۔ سندھ میں رینجرز کی تعنیاتی تقریباً سولہ سال قبل تب کی گئی تھی جب سندھ میں ڈاکوؤں کی سرگرمیاں بڑھ گئی تھیں۔ کراچی اور دیگر شہروں میں رینجرز کی مزید نفری انیس سو پچانوے میں تب بلوائی گئی تھی جب حکومتِ وقت نے ایم کیو ایم کے مسلح کارکنوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا۔ واضح رہے کہ رینجرز کو سندھ کے گورنر نے بارہ مئی کے ہنگاموں کے بعد شرپسندوں کو گرفتار کرنے اور گولی مارنے کے اختیارات دے رکھے ہیں اور کراچی میں ہنگاموں سے نمٹنے کیے لیے رینجرز کے اندرون سندھ سے مزید دستے طلب کیے گئے ہیں۔ ضلع کونسل نوابشاہ کے رکن سید منیر شاہ کا کہنا ہے کہ نوابشاہ میں رینجرز کی کاروباری سرگرمیوں پر کراچی کے حالیہ ہنگاموں کا کوئی اثر نہیں پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کونسل سے قرارداد منظور کرانے کے بعد رینجرز کی طرف سے ان پر قرارداد واپس لینے اور تردید کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ |
اسی بارے میں ’فوج ہماری زمین پر قبضہ کر رہی ہے‘15 April, 2007 | پاکستان سندھ: قطر کےلئے دس ہزار ایکڑ زمین 17 April, 2007 | پاکستان گوادرمیں سرکاری زمین کی بندر بانٹ22 January, 2007 | پاکستان ہاری کی شکایت، زمیندارگرفتار20 July, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||