’تمیزالدین کیس کا حوالہ نہ دیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ میں منگل کو جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست پر سماعت کے دوران تیرہ رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے کہا کہ ’خدارا ہمیں مولوی تمیز الدین کیس کا حوالہ نہ دیں یہ ہمارے لیے طعنہ بن چکا ہے۔‘ جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے یہ ’ریمارکس‘ اس وقت دیئے جب سرکاری وکیل ملک قیوم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں مولوی تمیز الدین کیس کے بعد موجودہ کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ سب سے اہم ہوگا۔
پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی کو جب گورنر جنرل غلام محمد نے برطرف کر دیا تھا تو اس وقت اسمبلی کے سپیکر مولوی تمیز الدین نے سندھ ہائی کورٹ میں اس کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ سندھ ہائی کورٹ نے قانون ساز اسمبلی کی برطرفی کو خلاف قانون قرار دیتے ہوئے فیصلہ مولوی تمیز الدین کے حق میں دیا تھا جس کے بعد گورنر جنرل کی طرف سے وفاقی عدالت یا سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی اور اس اپیل کو جسٹس منیر کی سربراہی میں قائم بنچ نے منظور کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ تکنکی بنیادوں پر کالعدم قرار دے دیا تھا۔ جسٹس منیر نے اپنے فیصلہ میں کہا تھا کہ جس قانون کے تحت سندھ ہائی کورٹ نے اسمبلی بحال کرنے کا فیصلہ سنایا ہے کیونکہ اس کو گورنر جنرل نے باضابط طور پر منظور نہیں کیا اس لیے اس کے تحت اسمبلی کو بحال نہیں کیا جاسکتا۔ اس قانون کے علاوہ دو سو کے قریب دوسرے قوانین پر بھی گورنر جنرل کے دستخط ہونا باقی تھے جس کی وجہ سے بعد میں پیش آنے والی قانونی دشواریوں کی بنا پر نظریہ ضرورت کی بنیاد پڑی۔ سپریم کورٹ میں منگل کو سماعت کے دوران افتخار محمد چودھری کے وکیل علی احمد کرد نے کہا کہ سارے ملک کی نگاہیں اس مقدمے پر لگی ہوئی ہیں اور سرکاری وکلاء عدالت کا وقت ضائع کررہے ہیں۔ سرکاری وکلاء گزشتہ چھ روز سے اس قانونی نقطے پر دلائل دے رہے ہیں کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے خلاف کسی درخواست پر سماعت کرنا سپریم کورٹ کے دائر اختیار سے باہر ہے۔ جسٹس ریٹائرڈ ملک قیوم سے قبل حکومتی وکلا کے پینل میں شامل سید شریف الدین پیرزادہ، اٹارنی جنرل مخدوم علی خان اور احمد رضا قصوری اس نکتے پر اپنے دلائل پیش کرچکے ہیں۔ ملک قیوم گزشتہ تین روز سے مسلسل اسی نکتے پر بحث کررہے ہیں۔ گزشتہ روز ان کا یہ استدلال تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ججوں کے احتساب کا آزاد ادارہ ہے اور کوئی عدالت اس کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ |
اسی بارے میں چیف جسٹس سپریم کورٹ میں سائل18 April, 2007 | پاکستان ’فل کورٹ بینچ کا مطالبہ بدنیتی ہے‘03 May, 2007 | پاکستان تشدد کی ذمہ دار حکومت ہے: اعتزاز12 May, 2007 | پاکستان فل کورٹ کی ہیئت کیا ہوسکتی ہے؟07 May, 2007 | پاکستان ڈکٹیشن نہیں لیں گے: سپریم کورٹ07 May, 2007 | پاکستان ’دعوت ملی تو پھر کراچی جائیں گے‘16 May, 2007 | پاکستان فل کورٹ میں سماعت آج سے14 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||