BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تمیزالدین کیس کا حوالہ نہ دیں‘

’جوڈیشل کونسل ججوں کے احتساب کا آزاد ادارہ ہے اور کوئی عدالت اس کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی‘
سپریم کورٹ میں منگل کو جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست پر سماعت کے دوران تیرہ رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے کہا کہ ’خدارا ہمیں مولوی تمیز الدین کیس کا حوالہ نہ دیں یہ ہمارے لیے طعنہ بن چکا ہے۔‘

جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے یہ ’ریمارکس‘ اس وقت دیئے جب سرکاری وکیل ملک قیوم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں مولوی تمیز الدین کیس کے بعد موجودہ کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ سب سے اہم ہوگا۔


چیف جسٹس کی درخواست پر روزانہ سماعت ہو رہی ہے
جسٹس خلیل الرحمان نے کہا کہ مولوی تمیز الدین کیس میں جسٹس منیر کا فیصلہ عدلیہ کے لیے طعنہ بن گیا ہے اور اس کیس کا فیصلہ بھی کہیں یہی صورت نہ اختیار کر لے۔

پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی کو جب گورنر جنرل غلام محمد نے برطرف کر دیا تھا تو اس وقت اسمبلی کے سپیکر مولوی تمیز الدین نے سندھ ہائی کورٹ میں اس کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ نے قانون ساز اسمبلی کی برطرفی کو خلاف قانون قرار دیتے ہوئے فیصلہ مولوی تمیز الدین کے حق میں دیا تھا جس کے بعد گورنر جنرل کی طرف سے وفاقی عدالت یا سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی اور اس اپیل کو جسٹس منیر کی سربراہی میں قائم بنچ نے منظور کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ تکنکی بنیادوں پر کالعدم قرار دے دیا تھا۔

جسٹس منیر نے اپنے فیصلہ میں کہا تھا کہ جس قانون کے تحت سندھ ہائی کورٹ نے اسمبلی بحال کرنے کا فیصلہ سنایا ہے کیونکہ اس کو گورنر جنرل نے باضابط طور پر منظور نہیں کیا اس لیے اس کے تحت اسمبلی کو بحال نہیں کیا جاسکتا۔ اس قانون کے علاوہ دو سو کے قریب دوسرے قوانین پر بھی گورنر جنرل کے دستخط ہونا باقی تھے جس کی وجہ سے بعد میں پیش آنے والی قانونی دشواریوں کی بنا پر نظریہ ضرورت کی بنیاد پڑی۔

سپریم کورٹ میں منگل کو سماعت کے دوران افتخار محمد چودھری کے وکیل علی احمد کرد نے کہا کہ سارے ملک کی نگاہیں اس مقدمے پر لگی ہوئی ہیں اور سرکاری وکلاء عدالت کا وقت ضائع کررہے ہیں۔

سرکاری وکلاء گزشتہ چھ روز سے اس قانونی نقطے پر دلائل دے رہے ہیں کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے خلاف کسی درخواست پر سماعت کرنا سپریم کورٹ کے دائر اختیار سے باہر ہے۔

جسٹس ریٹائرڈ ملک قیوم سے قبل حکومتی وکلا کے پینل میں شامل سید شریف الدین پیرزادہ، اٹارنی جنرل مخدوم علی خان اور احمد رضا قصوری اس نکتے پر اپنے دلائل پیش کرچکے ہیں۔

ملک قیوم گزشتہ تین روز سے مسلسل اسی نکتے پر بحث کررہے ہیں۔ گزشتہ روز ان کا یہ استدلال تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ججوں کے احتساب کا آزاد ادارہ ہے اور کوئی عدالت اس کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری’اوپن ٹرائل کریں‘
معطل چیف جسٹس کا پہلا انٹرویو
چیف جسٹس افتخار چودھریجسٹس چودھری
آئینی درخواستوں کی سماعت کے لیے پانچ رکنی بینچ
مشرف’موزوں چیف جسٹس‘
مشرف کیلیے جسٹس افتخار بہتر: ملک قیوم
’اے کلاس قیدی‘
’جسٹس افتخار کو قیدی کی طرح رکھا جا رہا ہے‘
 جسٹس افتخارفیصلے کے محرکات
آخر جنرل مشرف نے ایسا کیوں کیا؟
اسی بارے میں
فل کورٹ میں سماعت آج سے
14 May, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد