BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 May, 2007, 13:42 GMT 18:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی کی روشنیاں لوٹادی جائیں:اسفندیارولی
بارہ مئی کو تشدد کے واقعات میں چالیس لوگ ہلاک ہو گئے تھے
کراچی میں بارہ مئی کے بعد جاری کشیدگی کے خاتمے کے لئے سندھ کےگورنر عشرت العباد نے بدھ کو عوامی نیشنل پارٹی ، متحدہ قومی موومنٹ اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں سےملاقاتیں کی ہیں۔

گورنر سندھ نے مردان ہاؤس میں اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی سے ملاقات کی اور کارکنوں کی ہلاکت پر تعزیت کی۔ گورنر سندھ کو اسفند یار ولی ، ڈاکٹر فاروق ستار اور پروفیسر غفور احمد نے بحالی امن کے لئے کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے کہا کہ وہ کوئی بات طے کرنے نہیں آئے تھے ایک حادثہ ہوا ہے اور جو لوگ جان بحق ہوئے ہیں وہ ان کی فاتحہ کے لئے آئے ہیں۔ بارہ مئی کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ سب کے لئے ایک تکلیف دہ امر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ولی خان اور الطاف حسین کی دانشمندی تھی کہ انہوں نے ایک ہم آہنگی کی فضا پیدا کی تھی۔ ایسا نہیں ہونا چاہیئے کہ ان کی محنت اور کاوش کو نقصان پہنچے اس لئے وہ خود ان کے پاس آئے ہیں۔

 ایم کیو ایم عدم تشدد کی پالیسی پر کاربند ہے وہ شہر میں امن امان کے خلاف ہونے والی ہر سازش کو ناکام بنائے گی۔متحدہ کے خلاف اشتعال انگیزی کا سلسلہ جاری ہے لیکن اس کے باوجود ہم نے کارکنوں کو پرامن رہنے کی ہدایت کی ہے۔
ڈاکٹر فاروق ستار
گورنرسندھ نے واضح کیا کہ انہوں نے کسی بھی مسئلے پر بات چیت نہیں کی وہ یہاں صرف تعزیت کے لئے آئے تھے۔ مگر ان کا پیغام یہ تھا کہ بھائی چارے اور امن کو برقرار رکھا جائے اور ہم سب مل کر کام کریں۔

ڈاکٹر عشرت کا کہنا تھا کہ کشیدگی کا ماحول ختم ہوجائےگا۔ اور اس کے لیے باہر سے کوئی نہیں آئےگاہم نے ہی ان کو ٹھیک کرنا ہے ۔

اسفند یار ولی کا کہنا تھا کہ وہ گورنر سندھ کی آمد کو خوش آئند سمجھتے ہیں اورپشتون روایت کے مطابق جب کوئی فاتحہ کے لئے آتا ہے تو اس سے کسی اور معاملے پر بات نہیں کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب لوگوں کے مفاد میں ہے کہ کراچی کو دوبارہ اس کی روشنیاں لوٹا دی جائیں ، سیاسی اختلافات ہوتے ہیں مگر انہیں سیاسی پلیٹ فارم سے حل کرنا چاہیئے ۔

اسفند یار کا کہنا تھا کہ اے این پی کی تو ساری زندگی عدم تشدد کی فکر کے تحت گزری ہے۔ یہ سیاسی مسائل ہیں انہیں سیاسی طریقے سے حل کریں گے اور اگر جدوجہد کرنی بھی پڑی تووہ سیاسی جدوجہد ہوگی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہڑتال کی کال عوامی نیشنل پارٹی نے نہیں بلکہ پشتون ایکشن کمیٹی نے دی ہے اور اس کے بارے میں کسی بھی فیصلے کا اختیار وہ ہی رکھتی ہے۔

بعد میں گورنر سندھ متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز ’نائین زیرو‘ گئے جہاں انہوں نے رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر انور عالم اور ڈاکٹر فاروق ستار سے بات چیت کی۔

متحدہ کے پارلیمانی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ بارہ مئی کے واقعات پر وہ اشک بار ہیں اور ان کی جماعت اس دکھ میں برابر کے شریک ہے۔

انہوں نےمزید کہا کہ ایم کیو ایم عدم تشدد کی پالیسی پر کاربند ہے وہ شہر میں امن امان کے خلاف ہونے والی ہر سازش کو ناکام بنائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ متحدہ کے خلاف اشتعال انگیزی کا سلسلہ جاری ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے کارکنوں کو پرامن رہنے کی ہدایت کی ہے۔

ڈاکٹر عشرت العباد نے بعد میں جماعت اسلامی کے نائب امیر پروفیسر غفور سے ان کی رہائش گاہ پر جاکر ملاقات کی ۔پروفیسر غفور کا کہنا تھا کہ کچھ معاملات پر ان کی ہم آہنگی ہوئی ہے جن کو وہ میڈیا پر نہیں لانا چاہتے۔ مگر جماعت اسلامی کراچی میں قیام امن کے لئے اپنا کردار ادا کرے گی۔

متحدہ کی وڈیو
وڈیو کراچی میں 12 مئی کے تشدد پر مبنی ہے
سازش میں اہم کردار
ایم کیو ایم کا فوج کے ہاتھوں استعمال
پشتون علاقہ اور پتلون
پتھر دکھائے گئے تو ہیلی کاپٹر چلا گیا
’جنگ‘ کس نے جیتی
’کراچی کی لڑائی سب ہی ہار گئے‘
کراچیکراچی تشدد
کون معصوم ہے اور کون قصور وار
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد