تنظیمیں فائرنگ کا نوٹس لیں: متحدہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ قومی موومنٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی اور حقوق نسواں کی تنظیمیں پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان کی گاڑی سے ہونے والی مبینہ فائرنگ کا سنگین نوٹس لیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما حیدر عباس اور فیصل سبزواری نے یہ مطالبہ صوبائی اور وفاقی وزرا اور اراکین اسمبلی کے ساتھ پیر کو تنظیم کے مرکز نائین زیرو پر ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رجحان معاشرے کے لئے انتہائی خطرناک ہے کہ جب جمہوریت کی دعویدار ایک تنظیم کی قیادت یوں فائرنگ کرے اور کروائے۔ متحدہ کے رہنماؤں نے پی پی پی رہنما شیری رحمان کی جانب سے عائد الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی خاتون رہنما نے ٹی وی چینلز پر آکر کہا ہے کہ اگر اگلی بار جب وہ حکومت میں آئے تو ایک نصیراللہ بابر کراچی میں تعینات کیا جائے گا، مگر انہیں یاد رکھنا چاہیئے کہ نصیراللہ بابر جیسے کردار ہی پی پی حکومت کو لے ڈوبے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر فاروق لغاری نے جن تین الزامات کے تحت پی پی حکومت کو برطرف کیا تھا اس میں کراچی کے نہتے لوگوں کے ماورائے عدالت قتل بھی تھےجس کی سپریم کورٹ نے بھی توثیق کی تھی۔
حیدر عباس کا کہنا تھا کہ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا اور کسی کی وضاحت نہ ہونے دینا، اس جیسا ماضی رکھنے کے بعد نصیراللہ بابر والی بات کرنا شیری رحمان کو زیب نہیں دیتا ہے۔ متحدہ کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ شیری رحمان کو تسلیم کرنا چاہیئے کہ انہوں نے اس ریلی کی قیادت کی جس میں وہ خود گاڑی چلا رہی تھی ان کی گاڑی میں پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت موجود تھی اور اس گاڑی میں سے ایم کیوایم کی ریلی پر فائرنگ کی گئی۔ حیدر عباس کا کہنا تھا کہ شیری رحمان کہتی ہیں کہ ان کی گاڑی سے فائرنگ کرنے والے نامعلوم بچے تھے اور حالات کی ستم ظریفی یہ کہ وہ مسلح بھی تھے، وہ اس بات کی کیا وضاحت کریں گی کہ ان کی گاڑی میں نامعلوم لوگ بھی آتے جاتے ہیں ؟ متحدہ کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ویڈیو ’کڑوا سچ پارٹ ٹو‘ میں باقی کارنامے دکھائیں گے۔ واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ نے گزشتہ دنوں پریس کو ایک ویڈیو فوٹج فراہم کی تھی جس میں ایک گاڑی میں سے فائرنگ ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور متحدہ نے اس سی ڈی کو کڑوا سچ کا نام دیا ہے۔ متحدہ کے رہنماؤں نے اپوزیشن رہنماؤں کو مخاطب ہوکر کہا کہ عوام کو دھوکے میں نہ رکھیں حقائق کو واضح طور پر بیان کریں اور کراچی کو امن اور سکون کا شہر رہنے دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چار پانچ سال سے ایم کیو ایم کی جدوجہد کی وجہ سے یہ شہر راتوں کو جاگ رہا تھا لیکن اپوزیشن کے رہنماؤں نے اس شہر کو برباد کیا ہے۔ متحدہ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ بارہ مئی کے واقعات کی غیرجانبدرانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں، پی پی اس کی حمایت کیوں نہیں کرتی؟ |
اسی بارے میں ’متحدہ پرالزام، ہڑتال کی حمایت‘21 May, 2007 | پاکستان قاضی حسین کی درخواست خارج21 May, 2007 | پاکستان کراچی: تیسرے دن نسبتاً پُرامن14 May, 2007 | پاکستان کراچی: خون سے اخبارات رنگے رہے13 May, 2007 | پاکستان ’لاڈلوں نے کراچی سے انتقام لیا‘13 May, 2007 | پاکستان کراچی: کشیدگی، ہلاکتیں، گرفتاریاں11 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||