قاضی حسین کی درخواست خارج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کی اس آئینی درخواست کو واپس کر دیا ہے جس میں انہوں نے عدالت سےاستدعا کی تھی کہ وہ حکم جاری کرے کہ جنرل پرویز مشرف بطور چیف آف آرمی سٹاف ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ چکے ہیں۔ قاضی حیسن احمد نے چند روز پہلے دائر کی جانی والی اس آئینی درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی تھی کہ وہ قرار دے کہ جنرل پرویز مشرف بطور چیف آف سٹاف ریٹائر ہو چکے ہیں اور وہ اس عہدے پر غیر قانونی طور پر قابض ہیں۔ قاضی حسین احمد کا موقف ہے کہ جنرل پرویز مشرف اگست دو ہزار تین میں ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ چکے تھے اور وہ غیر قانونی طور پر اس عہدے سے چپکے ہوئے ہیں۔ قاضی حسین احمد نے اپنی درخواست میں یہ بھی لکھا تھا کہ جنرل مشرف عوامی جلسوں سے خطاب کر کے قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی کی درخواست واپس کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے دفتر نے اپنے حکم میں لکھا ہے کہ درخواست گزار (قاضی حسین احمد) کا اس طرح کی درخواست دائر کا کوئی حق نہیں بنتا ہے۔ سپریم کورٹ آفس نےمزید کہا کہ اس درخواست میں صدر اور وزیر اعظم کو فریق بنایاگیا جبکہ قانون کے مطابق ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں تہمینہ کے وارنٹ گرفتاری17 May, 2007 | پاکستان الطاف حسین پر عمران کےالزامات19 May, 2007 | پاکستان ’بینظیر، نواز شریف نہیں آسکتے‘18 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||