BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 May, 2007, 15:07 GMT 20:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: تیسرے دن نسبتاً پُرامن

 کراچی تشدد کے تیسرے دن
رینجرز نے دعویٰ کیا ہے کہ سپر ہائی وے سے پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے
کراچی میں کرفیو کا سماں ہے، گزشتہ دو دنوں کے مقابلے میں سوموار کو نسبتاً صورتحال پر امن رہی تاہم شہر کے کچھ مقامات پر سوموار کو بھی فائرنگ اور پتھراؤ کے واقعات ہوئے۔ گزشتہ تین روز سے بازار اور مارکیٹیں بند ہونے کی وجہ سے شہر کو اشیائے خورد نوش کی کمی کا سامنا ہے ۔

شہر میں صبح سے ہی تمام کاروبار معطل اور سڑکیں ویران ہیں۔ پشتون آبادی والے علاقوں لانڈھی، قائد آباد، قصبہ کالونی، بنارس اور سہراب گوٹھ کو حساس قرار دیا گیا ہے جہاں چوکیاں قائم کر دی گئی ہیں اور بڑی تعداد میں رینجرز تعینات ہیں۔

حکومت صوبے میں جلسے جلوسوں پر پابندی عائد کر چکی ہے اور رینجرز کو اختیار حاصل ہے کہ اگر کوئی شخص ان کے روکنے پر نہ رکے تو وہ اس پرگولی چلا سکتے ہیں۔

شہر میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کی موجودگی دکھانے کے لیے رینجرز نے شہر میں فلیگ مارچ کیا جس میں تیس کے قریب گاڑیوں اور 300 جوانوں نے حصہ لیا۔

رینجرز کے ترجمان کے مطابق شہر میں رینجرز کی 13 ہزار نفری تعینات کی گئی ہے اور مزید تین ہزار نفری کراچی کے باہر سے طلب کی گئی ہے جسے حساس مقامات پر تعینات کیا جائےگا۔’

ترجمان کیپٹن فضل کریم کا کہنا تھا کہ رینجرز ایک غیر جانبدار ادارہ ہے اور وہ تمام سیاسی اور نسلی امتیاز سے بالاتر ہوکر قانون توڑنے والوں سے نمٹے گا۔

صبح کو شہر کے حساس علاقوں کے داخلی اور خارجی مقامات پر کنٹینر رکھ کر راستے بند کر دیے گئے ہیں تاکہ ممکنہ کشیدگی کو روکا جا سکے۔

ادھر سہراب گوٹھ کے علاقے میں نوجوانوں نے ٹولیوں کی صورت میں نکل کر گاڑیوں پر پتھراؤ کیا ہے جس کے بعد وہاں ٹریفک معطل ہوگیا۔

رینجرز نے دعویٰ کیا ہے کہ سپر ہائی وے سے پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن میں دو مسلح افراد بھی شامل ہیں۔

کراچی تیسرے دن
پشتون آبادی والے علاقوں کو حساس قرار دیا گیا ہے اور رینجرز تعینات ہیں

سہراب گوٹھ میں موجود لوگوں سے جب حالات کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ علاقہ پر امن ہے، جب سے گورنر نے رینجرز کو گولی مارنے کا اختیار دیا ہے صورتحال بہتر ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اتوار کو کچھ پتھراؤ ہوا تھا مگر پیر کو کچھ بھی نہیں ہوا ہے۔

لیاری، قائد آباد اور ملیر کے علاقوں میں بھی فائرنگ کی آواز سنی گئی ہے جبکہ لیاری کے علاقے پیر آباد میں دو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ پولیس نے مختلف مقامات سے دس افراد کو حراست میں بھی لیا ہے۔

بنارس اور قصبہ کالونی کے علاقے میں سب سے زیادہ کشیدگی پائی جاتی ہے جہاں تین دن سے آنے جانے والے راستے بند ہیں۔

بنارس چوک پر نامعلوم افراد کی فائرنگ کی وجہ سے کراچی میں بجلی کی فراہمی کے ادارے کے ای ایس سی کے پی ایم ٹی ناکارہ ہوگئے جس وجہ سے علاقے میں دو روز سے بجلی نہیں ہے۔

محمد علی نامی ایک شخص نے بتایا کہ گزشتہ روز اس علاقے میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی تھی اور اس وقت بھی کشیدگی موجود ہے۔ جب لوگوں سے یہ بات چیت کی جا رہی تھی اس وقت ہلاک ہونے والے دو افراد کی میتیں پولیس کی نفری کے ساتھ تدفین کے لیے لے جائی جا رہی تھیں۔

رحمت خان نامی ایک شخص کا کہنا تھا کہ یہ علاقہ ’ علاقہ غیر‘ بن چکا ہے کوئی کسی کو روکنے والا نہیں جو جیسا چاہ رہا ہے، کر رہا ہے سب کو آزادی ہے نہ کوئی پوچھنے اور نہ ہی کوئی دیکھنے والا۔

اس علاقے سے ایک کلومیٹر کے مفاصلے پر علی گڑھ کالونی کے رہائشیوں کو شکایت تھی کہ علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے اور پولیس اور رینجرز موجود نہیں ہیں۔

کراچی تیسرے دن شارع فیصل
کراچی میں کرفیو کا سماں ہے، گزشتہ دو دنوں کے مقابلے میں سوموار کو نسبتاً صورتحال پر امن رہی

ان کا کہنا تھا کہ اتوار کو اسے علاقے میں دوبدو فائرنگ ہو رہی تھی مگر کوئی یہاں آنے کی ہمت نہیں کر رہا تھا۔ جب دکانیں جلائی گئیں تو ہم نے فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کے لیے ٹیلی فون کیا مگر کوئی بھی یہاں آنے کے لیے تیار نہیں تھا۔

ریفریجریٹر بنانے والے مستری محمد ادریس نے کہا کہ تین دن سے کشیدگی کی وجہ سے کھانے کو بھی نہیں مل رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹیں بند پڑی ہیں سبزی منڈی سے بھی سامان نہیں آ رہا ہے۔

ویڈیو فلمیں بنانے والے محمد آصف کا کہنا تھا کہ ’ہم سب بھائی بھائی ہیں یہ سیاسی رہنما آپس میں لڑواتے ہیں۔ ہمارا کاروبار پٹھانوں سے بھی ہے اور ان کا ہم سے واسطہ ہے رات کو ایسے ہی کشیدگی تھی لیکن کل صبح ٹھیلے کھل جائیں گے اور محسوس ہوگا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا‘۔

ہڑتال کے باعث اندرون ملک سے آنے والے مسافروں کو شہر سے باہر اتار دیا گیا جاس کی وجہ سے انہیں باقی سفر پیدل طے کرنا پڑا۔ جب کہ اندرون ملک ٹرینوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہونے کی وجہ سے مسافروں کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔

اندرون سندھ سے بھی ہڑتال کی اطلاعات ہیں اور حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، دادو، نوابشاہ، میرپورخاص، عمرکوٹ سمیت بڑے چھوٹے شہر مکمل بند ہیں اور کئی مقامات پر جلوس نکالے جا رہے ہیں۔

بات سے بات’قصور‘ جسٹس کا
’حکومت بہرحال حکومت ہی ہوتی ہے‘
کراچیکراچی تصویروں میں
احتجاج اور سوگ کے ساتھ تشدد کا دوسرا دن
رینجرزکراچی اور رینجرز
سڑکوں پر تشدد کے وقت رینجرز کہاں تھے؟
’جنگ‘ کس نے جیتی
’کراچی کی لڑائی سب ہی ہار گئے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد