’متحدہ پرالزام، ہڑتال کی حمایت‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات اور رکن قومی اسمبلی شیری رحمان نے حکمران جماعت متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے پیپلز پارٹی اور حزب اختلاف کی بعض دیگر جماعتوں پر عائد کردہ کراچی میں 12 مئی کو پرتشدد واقعات کے الزام کو رد کردیا ہے اور متحدہ کو ان واقعات کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ انہوں نے یہ بات اتوار کو بلاول ہاؤس کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں کہی جس میں انہوں نے صحافیوں کو مختلف ٹی وی چینلز سے 12 مئی کو نشر ہونے والی تشدد کے مناظر بھی دکھائے۔
متحدہ قومی موومنٹ نے گزشتہ روز ’کڑوا سچ‘ کے عنوان سے ایک ویڈیو سی ڈی جاری کی تھی جس میں 12 مئی کو ہونے والے تشدد کے واقعات کے مناظر فلمبند تھے اور حزب اختلاف کی بعض جماعتوں کے کارکنوں کو اسلحہ کی نمائش اور فائرنگ کرتے اور گاڑیاں نذر آتش کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ متحدہ نے اس وڈیو کی بنیاد پر تشدد کے ان واقعات کا الزام پیپلز پارٹی اور حزب اختلاف کی بعض دیگر جماعتوں پر عائد کیا تھا۔ شیری رحمان نے متحدہ کے اس اقدام پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت اور اسکے اتحادی کراچی کے زخموں پر مرہم رکھتے اور اپنی غلطیوں کی تلافی کرتے لیکن انہوں نے وہی روایتی الزام تراشی اور تہمت زنی شروع کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی پی نے کبھی تشدد اور جبر کی سیاست پر یقین نہیں رکھا اور نہ ہی ہمیں جبر کی بنیاد پر فیصلے کرانے ہوتے ہیں۔ متحدہ کی ویڈیو کے ایک منظر میں 12 مئی کے دن شاہراہ فیصل پر سی او ڈی کے مقام پر پی پی کے ایک جلوس شیری رحمان کو ایک جیپ نمبر بی ڈی-1820 میں نوید قمر اور دیگر کے ساتھ بیٹھے ہوئے دکھایا گیا اور وہ بتارہی تھیں کہ وہ لوگ دوطرفہ فائرنگ میں پھنس گئے ہیں اسی منظر میں ان کی گاڑی کے دروازے پر ایک شخص ہاتھ میں پستول تھامے لٹکا ہوا تھا۔
شیری رحمان نے تسلیم کیا کہ ویڈیو میں دکھائی گئی گاڑی انہی کی ہے لیکن وہ مسلح شخص ان کے جلوس میں شامل نہیں تھا اور نہ ہی وہ اسے جانتی ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے صحافیوں کو اسی منظر کا ایک فوٹو دکھایا جس میں ان کی گاڑی سے لٹکے ہوئے شخص کو اس کے قریب کھڑا ایک دوسرا شخص روک رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہاتھ کا اشارہ کرنے والا پی پی کا کارکن ہے جو ان کی گاڑی پر لٹکے مسلح شخص کو گاڑی سے اترنے کا کہہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا متحدہ نے اپنی ویڈیو میں اس منظر کو کاٹ پیٹ کر پیش کیا تاکہ اسکا تاثر بدل سکے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ 12 مئی کو پوری شاہراہ فیصل کے تمام پلوں پر متحدہ کے مسلح کارکن مورچہ بند تھے جنہوں نے چیف جسٹس کے استقبال کے لیے جانے والے غیرمسلح اور پرامن جلوسوں پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ انہوں نے کہا خود انہیں اور پی پی کے دیگر قائدین کو سی او ڈی کے مقام پر دو گھنٹے سے زیادہ یرغمال رکھا گیا جبکہ وہ فائرنگ سے زخمی اور جاں بحق ہونے والے پارٹی کارکنوں کو راستے بند ہونے اور مسلسل حملوں کی بناء پر اسپتال بھی نہیں پہنچا سکے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے آج، جیو اور سندھ ٹی وی چینلز سے نشر ہونے والی 12 مئی کو تشدد کے مختلف واقعات کی ویڈیو دکھائی جس میں متحدہ کے پرچم بردار لوگوں کے ساتھ مسلح افراد شاہراہ فیصل اور دیگر علاقوں میں مختلف مقامات پر مورچہ بند اور فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ و
شیری رحمان نے کہا کہ خود ان کی اور پی پی کے جلوس میں شریک کسی گاڑی کے اندر یا باہر سے کسی پر کوئی فائرنگ نہیں کی گئی اور میڈیا کے نمائندے اور پورا شہر جانتا ہے کہ تشدد کرنے والے کون تھے۔ شیری رحمان نے مطالبہ کیا کہ متحدہ سمیت حکمران اتحاد فوری مستعفی ہوجائے اور آزاد اور شفاف انتخابات کرانے کے لیے قومی اتفاق رائے سے عبوری حکومت تشکیل دی جائے۔ انہوں نے پختون ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی 25 مئی سے تین روزہ ہڑتال کی کال حمایت کا بھی اعلان کیا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کراچی میں تشدد پر لندن میں متحدہ کے قائد الطاف حسین کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کرے گی۔ اس موقع پر پی پی سندھ کے صدر سید قائم علی شاہ نے کہا کہ اخبارات میں شائع ہونے والے الطاف حسین کے کھلے خط میں 12 مئی کو جاں بحق ہونے والے جن افراد کی فہرست دی گئی ہے اور جنہیں متحدہ کا کارکن بتایا گیا ہے۔ اس میں دو افراد غلام سرور اور شہباز خان پی پی اور جہانزیب مسلم لیگ (ن) کے کارکن ہیں۔ اس پریس کانفرنس کو نجی ٹی وی چینل اے آر وائے ون ورلڈ براہ راست نشر کررہا تھا تاہم پریس کانفرنس شروع ہونے کے کچھ دیر بعد کراچی شہر میں اس چینل کی نشریات بند ہوگئی جو بعد میں بحال کردی گئی۔ |
اسی بارے میں کراچی: تیسرے دن نسبتاً پُرامن14 May, 2007 | پاکستان کراچی: خون سے اخبارات رنگے رہے13 May, 2007 | پاکستان ’لاڈلوں نے کراچی سے انتقام لیا‘13 May, 2007 | پاکستان کراچی: کشیدگی، ہلاکتیں، گرفتاریاں11 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||