سندھ حکومت کو جواب کیلیے نو دن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس انور ظہیر جمالی اور جسٹس اطہر سعید پر مشتمل ڈویژنل بینچ نے داخلہ کے وفاقی و صوبائی سیکریٹریز، چیف سیکریٹری سندھ، آئی جی سندھ اور کراچی پولیس کے سربراہ کو توہین عدالت کی درخواست پر جواب داخل کرنے کے لیے نو دن کی مہلت دی ہے۔ توہین عدالت کی یہ درخواست کراچی میں 12 مئی کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے دورۂ کراچی کے موقع پر ’سندھ ہائی کورٹ کے حکم کے برخلاف مطلوبہ حفاظتی انتظامات نہ کرنے اور راستوں کی ناکہ بندی اور دیگر طریقوں سے مبینہ طور پر چیف جسٹس کو اسلام آباد واپس جانے پر مجبور کرنے پر وفاقی اور صوبائی حکومت کے خلاف ہے‘۔ یہ درخواست سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ابرار الحسن، پاکستان بار کونسل کے ممبر محمد یاسین خان آزاد، سندھ بار کونسل کے رکن صلاح الدین خان گنڈاپور اور کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر افتخار جاوید قاضی نے مشترکہ طور پر داخل کر رکھی ہے۔ منگل کو درخواست کی سماعت کے موقع پر وفاقی سیکریٹری داخلہ سید کمال شاہ، چیف سیکریٹری سندھ شکیل درانی، سیکریٹری داخلہ سندھ بریگیڈئر (ر) غلام محمد محترم، آئی جی پولیس سندھ نیاز احمد صدیقی اور کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر اظہر فاروقی اپنے وکلاء سمیت عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت سے درخواست میں لگائے گئے الزامات پر جواب داخل کرنے کے لیے مہلت طلب کی جبکہ سید کمال شاہ نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں مصروفیات کی بنا پر آئندہ سماعت پر ذاتی طور پر پیش ہونے سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔
درخواست گزاروں کے وکیل منیرالرحمن نے اس کی مخالفت کی جس پر عدالت نے ان کی یہ درخواست مسترد کردی اور جواب داخل کرنے کے لیے مہلت دیتے ہوئے شنوائی یکم جون تک ملتوی کردی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے 11 مئی کو پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی جانب سے داخل کردہ آئینی درخواست پر وفاقی اور صوبائی حکومت کو حکم دیا تھا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے کراچی دورے کے موقع پر فول پروف حفاظتی انتظامات کیے جائیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ اپنے من پسند راستوں سے گزر سکیں۔ تاہم درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ 11 اور 12 مئی کی درمیانی شب پورے شہر کو ایسے مسلح لوگوں نے یرغمال بنا لیا تھا جو نہ تو پولیس یونیفارم میں تھے اور نہ سرکاری گاڑیوں میں سوار تھے۔ درخواست میں کہا گیا ہے: ’پوری شاہراہ فیصل کو نیپئر بیرکس سے قائد اعظم انٹرنیشنل ائرپورٹ تک کنٹینرز، منی بسیں اور دوسری گاڑیاں کھڑی کر کے بند کردیا گیا تھا اور ان کے ٹائروں کی ہوا نکال دی گئی تھی تاکہ ان کو ہٹایا نہ جاسکے۔‘ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ آئی جی اور سیکرٹری داخلہ عدالت عالیہ کے احکامات کی تعمیل کرنے اور امن و امان کی خراب صورتحال پر قابو پانے کے بجائے ائرپورٹ پہنچ گئے اور چیف جسٹس کو عدالت تک پہنچنے کے لیے محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے کے بجائے انہیں زبردستی کار میں لے جانے کی کوشش کی اور پھر انہیں ہیلی کاپٹر میں بیٹھنے کا کہا جبکہ ان کے ہمراہ آنے والے وکلاء اور صحافیوں کو ائرپورٹ کے لاؤنج میں بٹھا دیا اور خود دروازے پر کھڑے ہوگئے تاکہ کوئی باہر نہ جاسکے۔ درخواست میں کہا گیا کہ اس دوران گورنر سندھ اور صوبائی وزراء سمیت دیگر حکام نے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سے رابطہ کرکے کہا کہ وہ پروگرام منسوخ کردیں اور چیف جسٹس کو کہیں کو وہ واپس چلے جائیں۔ درخواست گزاروں کے مطابق اسی دوران چیف جسٹس کے ساتھ ائرپورٹ کے لاؤنج میں بیٹھے ہوئے وکلاء کو ان کی صوبہ بدری کے نوٹس دیے گئے۔ اس طرح جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کیے گئے کہ چیف جسٹس کو واپس جانا پڑا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ مدعا علیہان نے دانستہ طور پر عدالت عالیہ کے احکامات کی خلاف ورزی کی ہے لہذا توہین عدالت کے جرم میں ان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا جائے۔ |
اسی بارے میں پولیس، انتظامیہ کو توہین کے نوٹس02 April, 2007 | پاکستان وفاق، سندھ توہینِ عدالت کی زد میں16 May, 2007 | پاکستان توہین عدالت کی درخواست16 May, 2007 | پاکستان اب نہ بحث نہ تبصرے نہ نعرے،سب توہینِ عدالت09 May, 2007 | پاکستان توہین عدالت ، میجر ضمانت پر رہا24 January, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||