قوم پرستوں کی ہڑتال کی حمایت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں ایک کل جماعتی کانفرنس نے بارہ مئی کے واقعات کے لیے صدر پرویز مشرف، متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت، گورنر سندھ اور مشیر داخلہ کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ کل جماعتی کانفرنس نے جمعہ کی اپوزیشن اور قوم پرست جماعتوں کی ہڑتال کی حمایت کا بھی اعلان کیا ہے۔ کراچی میں بدھ کے روز جماعت اسلامی کی جانب سے کل جماعتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں سوائے پاکستان پیپلز پارٹی کے مسلم لیگ نواز، تحریک انصاف، جے یو آئی، جے یوپی، سندھ نیشنل فرنٹ، عوامی تحریک، سندھ ترقی پسند پارٹی اور دیگر مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے اعلامیے میں سندھ کے گورنر اور مشیر داخلہ کی برطرفی اور صدر پرویز مشرف کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کو انٹرپول کی مدد سے پاکستان لانے اور ان پر مقدمہ چلانے کا بھی مطالبہ کیا۔ کانفرنس سے پروفیسر غفور احمد، مولانا اسداللہ بھٹو، سینیٹر خالد محمود سومرو، رسول بخش پلیجو، سلیم ضیا، صدیق راٹھوڑ، امیر بھنبھرو، گل محمد جکھرانی، زبیر خان اور دیگر نے خطاب کیا۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ کراچی کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں کا شہر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جنرل پرویز مشرف اور فوج مزید اقتدار میں رہی تو یہ ملک کے لئے سیکیورٹی رِسک ہوگا۔ پروفیسر غفور احمد نے واضح کیا کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف ہیں، مہاجر لفظ کے خلاف نہیں۔ جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے رہنما ڈاکٹر خالد محمود سومرو کا کہنا تھا کہ حکمران حالات کو خراب کرنے میں خود ملوث ہیں، جب کراچی میں لاشیں گرائی جا رہی تھیں اس وقت پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے بغلیں بجائی جارہی تھیں اور جنرل پرویز مشرف ڈھولوں کی تھاپ پر لوگوں کے سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف کو اتنی بھی توفیق نہ ہوئی کہ صرف اتنا کہتے کہ کراچی میں بے گناہ لوگ مارے گئے ہیں، ڈھول بجانا بند کرو۔ الٹا انہوں نے یہ کہا کہ ’ یہاں پر بھی میری طاقت دیکھو اور مُکا لہراتے ہوئے کہا کہ کراچی میں بھی آپ نے میری طاقت دیکھ لی‘ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید جنرل مشرف ایم کیو ایم کے حلف یافتہ رکن ہیں۔ خالد محمود سومرو کا کہنا تھا کہ بارہ مئی سے لیکر آج تک صدر اور وزیراعظم ملزمان کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ قوم پرست رہنما رسول بخش پلیجو کا کہنا تھا کہ کراچی دہشت گردوں اور پاکستان سے غداری کرنے والوں کا شہر نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ منتخب نمائندہ نہیں ہیں، یہ جرائم پیشہ لوگ ہیں، ان کے پاس کوئی مینڈیٹ نہیں ہے۔ یہ سامراج کی پیرا ملٹری فورسز ہیں۔‘ مسلم لیگ نواز کے رہنما سلیم ضیاء کا کہنا تھا کہ ’بارہ مئی ڈرامے کے اصل ڈائریکٹر جنرل پرویز مشرف تھے، اگر وہ چاہتے تو یہاں پرسکون طریقے سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری آجاتے اور ان کا شاندار استقبال بھی ہوجاتا، راستے میں کسی قسم کا کوئی جھگڑا بھی نہیں ہوتا مگر جنرل پرویز مشرف بضد رہے۔‘ تحریک انصاف کے رہنما زبیر خان نے بتایا کہ ان کی تنظیم کے سربراہ عمران خان جون کے پہلے ہفتے میں لندن جارہے ہیں جہاں وہ بارہ مئی کے تمام ثبوتوں کے ساتھ الطاف حسین کے خلاف مقدمہ دائر کریں گے۔ کل جماعتی کانفرنس میں اپوزیشن اور قوم پرست جماعتوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف دائر ریفرنس واپس لیا جائے اور انہیں بحال کیا جائے اور ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات منعقد کراوئے جائیں۔ |
اسی بارے میں وکلاء نےزبردستی کی: پولیس18 May, 2007 | پاکستان متحدہ کے کارکنوں کیخلاف شکایت17 May, 2007 | پاکستان سینیٹ کی کارروائی پِھر ٹھپ18 May, 2007 | پاکستان وکلاء پر ’تشدد‘، تفتیش رک گئی19 May, 2007 | پاکستان ’متحدہ پرالزام، ہڑتال کی حمایت‘21 May, 2007 | پاکستان ’تسلی نہیں تو بات چیت بھی نہیں‘21 May, 2007 | پاکستان تنظیمیں فائرنگ کا نوٹس لیں: متحدہ21 May, 2007 | پاکستان ’ہڑتال تو ہو گی، فیصلہ جمعہ کو‘ 21 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||