BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 May, 2007, 11:09 GMT 16:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وکلاء نےزبردستی کی: پولیس

فائل فوٹو
بارہ مئی کو جسٹس افتخار کی کراچی آمد پر ہنگامے پھوٹ پڑے تھے
کراچی پولیس نے چیف جسٹس کے دورے کے دن سٹی کورٹس جانے والے وکلاء پر فائرنگ، تشدد اور حبس بے جا میں رکھنے کی شکایت درج کرنے کے بعد جواباً وکلاء کے خلاف رپورٹ بھی درج کی ہے۔

رپورٹ میں وکلاء کی شکایت کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ بارہ مئی کو سٹی کورٹ تھانے کی حدود میں تشدد کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا تھا اور وکلاء نے دھونس اور دھمکی سے جھوٹی رپورٹ درج کرائی ہے۔

تھانہ سٹی کورٹ کے ایس ایچ او انسپکٹر زاہد حسین نے اپنے تھانے کے روزنامچے میں یہ جوابی شکایت درج کی ہے۔

جوابی شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کراچی کے سکریٹری جنرل نعیم قریشی تین چار سو وکلاء کے ساتھ 16 مئی کو تھانے آئے اور ڈیوٹی افسر اے ایس آئی نورالدین کو ڈرا دھمکا کر زبردستی جھوٹی رپورٹ درج کروائی۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وکلاء نے رپورٹ درج نہ کرنے کے صورت میں تھانے کو آگ لگانے کی دھمکی دی تھی۔

ایس ایچ او نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ اگرچہ بارہ مئی کو متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن سٹی کورٹ کے باہر گیٹ نمبر2 کے قریب جمع تھے لیکن نہ تو وہ مسلح تھے اور نہ ہی انہوں نے کسی وکیل کو زدوکوب کیا۔ اسی طرح لیڈیز بار روم میں آگ شارٹ سرکٹ کی بناء پر لگی تھی جسے بروقت بجھا دیا گیا تھا اور کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔

متحدہ نے تشدد کے واقعات میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے

پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 12 مئی کو پولیس افسران اپنے عملے کے ہمراہ سٹی کورٹ میں ڈیوٹی پر موجود تھے اور وکلاء کی بڑی تعداد بار روم میں موجود تھی، ایسی صورت میں کسی شرپسند کا اندر جانا ناممکن تھا جبکہ تھانہ سٹی کورٹ کی حدود میں اس دن فائرنگ کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

واضح رہے کہ کراچی بار کے سکریٹری نعیم قریشی گزشتہ روز وکلاء پر تشدد، فائرنگ اور انہیں حبس بے جا میں رکھنے کے واقعات کی ایف آئی آر درج کرانے تھانہ سٹی کورٹ گئے تھے تاہم پولیس نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا تھا اور صرف تھانے کے روزنامچے میں شکایتی رپورٹ درج کرنے پر اکتفا کیا تھا۔ نعیم قریشی نے اپنی شکایت میں تشدد کے واقعات کا الزام حکمران جماعت متحدہ قومی موومنٹ پر عائد کیا ہے جس کی متحدہ نے سختی سے تردید کی ہے۔

دریں اثناء نعیم قریشی نے جمعہ کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ضلع جنوبی کراچی ظہیرالدین لغاری کی عدالت میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 22 اے کے تحت ایک درخواست داخل کی ہے جس میں انہوں نے استدعا کی ہے کہ عدالت روزنامچے میں درج کی گئی ان کی شکایت کو ایف آئی آر میں تبدیل کرنے کا حکم جاری کرے۔

عدالت نے تھانہ سٹی کورٹ کے ایس ایچ او کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہفتہ کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

دیکھئیےسخت سیکورٹی
جسٹس کی آمد سے پہلے کراچی ائرپورٹ محفوظ
کراچیکراچی میں قتل
شہر میں تشدد: خصوصی ضمیمہ
دیکھئیےملک بھر میں ہڑتال
کراچی میں ہلاکتوں کے بعد مظاہرے
فوجی اہلکار ائرپورٹ ڈیوٹی پرکراچی خاموش
چیف جسٹس کی آمد پر حفاظتی انتظامات
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد