’تسلی نہیں تو بات چیت بھی نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ کراچی کی روشنیوں کو بحال رکھنے کے لئے وہ اور ان کی جماعت اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی تاہم اس سلسلے میں حکومت کو صرف اے این پی سے نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں اور طبقوں کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ کراچی سب کا شہر ہے۔ پیر کو کراچی ڈسٹرکٹ بار اور بعد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 12 مئی کو حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کو یہ احساس دلایا گیا کہ کراچی ایم کیوایم کا شہر ہے اور اس میں کسی کو سیاست کا حق نہیں ہے۔ ’جب تک حکومت یہ تسلی نہیں کراتی کہ یہ صرف ایم کیو ایم کا نہیں بلکہ یہاں بسنے والے ہر فرد کا شہر ہے تب تک بات چیت کی گنجائش ہی نہیں ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’یہ سیاسی مسئلہ ہے، لسانی مسئلہ نہیں ہے اور حکومت کو صرف ہم سے نہیں بلکہ ہر سیاسی جماعت اور طبقے سے اس سلسلے میں بات کرنا ہوگی۔‘
متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں کہا کہ یہ سوال تو میڈیا سے ہونا چاہیے جن کی آنکھ سے پورے ملک نے کراچی میں ہونے والے تشدد کو دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ بارہ مئی کو تشدد کے دوران ٹی وی پر جو سرکاری گاڑی دکھائی گئی، جس سے اسلحہ تقسیم ہورہا تھا، وہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے لوگوں میں اسحہ تقسیم نہیں کر رہی تھی۔انہوں نے کہا کہ متحدہ کی ویڈیو میں پی پی کی رہنما شیری رحمان کی گاڑی پر لٹکے ہوئے مسلح شخص کے منظر کے بارے میں کہا کہ سب نے دیکھا کہ مسلح شخص کی پستول کا رخ اوپر کی جانب ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ اوپر سے فائرنگ ہورہی تھی اور اوپر سے ہونے والی فائرنگ کے دفاع میں پستول اٹھایا ہوا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کسی بھی ویڈیو میں جو چاہیں تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نجی ٹی وی چینلز سے نشر ہونے والے مناظر دیکھ لیں اور خود فیصلہ کرلیں کہ تشدد میں کون ملوث تھا۔ اسفندیار ولی نے وزیر اعلی سندھ کے مشیر داخلہ کے اس بیان پر کڑی تنقید کی جس میں انہوں نے بارہ مئی کے واقعات سے صوبائی حکومت کو بری الذمہ قرار دیا اور اس کی ذمہ داری حزب اختلاف پر عائد کی۔
انہوں نے سوال کیا کہ ’بارہ تاریخ کی ریلی کے لئے کیا دس مئی کو کراچی کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ نہیں کی گئی؟ چالیس، پچاس تھانیداروں اور ایک سوسے زیادہ ڈاکٹروں کے تبادلے نہیں ہوئے؟ میں اس صورتحال میں کیسے یہ مان لوں کہ جو کچھ ہوا صوبائی حکومت کا اس میں کوئی ہاتھ نہیں تھا۔‘ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماء نے کہا کہ ’ہم تو ایک ایسی قوم ہیں جن کے پاس جب لوگ آجاتے ہیں اور اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں تو ہم جرگے میں سب کچھ معاف کردیتے ہیں۔‘ انہوں نے لال مسجد کے مسئلے کے بارے میں کہا کہ یہ حکومتی شوشہ ہے اس کا مقصد بارہ مئی کے واقعات اور فوجی راج کے خلاف بڑھتے ہوئے عوامی ردعمل سے لوگوں کی توجہ ہٹانا ہے۔ ’یہ اس اضطراب کی علامت ہے جس ہر آمر اپنے دور کے انجام سے پہلے گزرتا ہے۔‘ اسفندیار ولی نے تمام سیاسی جماعتوں سے کہا کہ وہ فوج اور ایجنسیوں کے ملکی سیاست میں کردار کو ختم کرنے کے لئے متحد ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ آخری جنگ ہوگی اور اگر سیاسی قوتیں اس وقت اس پر متحد نہیں ہوتیں تو وہ ملک کے عوام اور جمہوریت، عدلیہ اور شہری آزادیوں کے جاری جدوجہد سے غداری ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی تمام سیاسی قوتوں سے اس سلسلے میں رابطے کرے گی۔ اے این پی کے صدر نے کہا کہ اقتدار اعلی عوام کے پاس نہیں جرنیلوں کے پاس ہے اور جب تک اقتدار اعلٰی عوام کو منتقل نہیں کیا جاتا اسی طرح ایک کے بعد دوسرا بحران آتا رہے گا۔ |
اسی بارے میں ’متحدہ پرالزام، ہڑتال کی حمایت‘21 May, 2007 | پاکستان قاضی حسین کی درخواست خارج21 May, 2007 | پاکستان کراچی: تیسرے دن نسبتاً پُرامن14 May, 2007 | پاکستان کراچی: خون سے اخبارات رنگے رہے13 May, 2007 | پاکستان ’لاڈلوں نے کراچی سے انتقام لیا‘13 May, 2007 | پاکستان کراچی: کشیدگی، ہلاکتیں، گرفتاریاں11 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||