سرمایہ کاری متاثر نہیں ہوگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرمایہ کاری کے دو معروف بین الا قوامی اداروں نے کراچی میں بارہ مئی کو ہونے والے واقعات کے بارے میں اپنی تحقیقاتی رپورٹیں جاری کی ہیں جن میں خدشات ظاہر کیے گئے ہیں کہ تشدد کی یہ لہر آئندہ انتخابات تک جاری رہ سکتی ہے۔ تاہم دونوں امریکی کمپنیاں گولڈمین سیکس اور جے پی مورگن نے ان واقعات کے حوالے سے بلکل متضاد نتائج اخذ کیے ہیں۔ گولڈمین نے ان پر تشدد واقعات کو صدر مشرف اور ملک کے لیے برا شگون قرار دیتے ہوئے سرمایہ کاروں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اگلے انتخابات اور نئی حکومت کے اقتدار سنبھالنے تک پاکستان میں سرمایہ کاری سے گریز کریں۔ لیکن جے پی مورگن کا کہنا ہے کہ تشدد کے باعث مارکیٹ عارضی گراوٹ کا شکار ہے لہذا سرمایہ کاروں کے لیے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ ان کم نرخوں پر خریداری کر کے آنے والے دنوں میں خوب نفع کمائیں۔ ان سرمایہ کار کمپنیوں کے تحقیقاتی شعبوں نے کراچی کے واقعات کے لیے یہ خصوصی تجزیاتی اور تحقیقاتی رپورٹس مقامی ذرائع استعمال کر کے تیار کی ہیں۔
سیاسی حالات کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ’ویسے توطویل مدت میں پاکستان کے بارے میں مثبت رائے دینا مناسب ہوگا لیکن فی الحال ہم سرمایہ کاروں کو یہ صلاح دیتے ہیں کہ وہ آئندہ انتخابات اور نئی حکومت کے اقتدار سنبھالنے تک محتاط رویہ اختیار کریں کیونکہ کراچی میں ہونے والا تشدد آنے والے ہفتوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے‘۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں بالخصوص نواز شریف اور بینظیر بھٹو چیف جسٹس کے معاملے کو انتخابات سے قبل ملک میں سیاسی فضا کو اپنے حق میں کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ تاہم کراچی کے واقعات نے جنرل مشرف کے مقابلے میں حزب اختلاف کی سیاسی کمزوریوں کو مزید اجاگر کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انتخابات سے قبل حزب اختلاف کی طرف سے ہڑتالوں کی مزید اپیلیں کی جائیں گی اور مزید تشدد بھی بعید از قیاس نہیں لیکن کراچی میں تشدد کے بعد حزب اختلاف کے مقابلے میں جنرل مشرف اخلاقی طور پر زیادہ مضبوط ہوئے ہیں لہذا وہ آئندہ ہڑتالوں اور مظاہروں سے بہتر طور پر نمٹنے کی پوزیشن میں ہیں۔ رپورٹ کے آخری حصے میں اپنے تبصرے میں تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ ’گو کہ تشدد اور غیر یقینی سیاسی صورتحال کے باعث پاکستان فوری طور پر سرمایہ کاروں کی دلچسپی کا مرکز نہیں ہے لیکن چونکہ جنرل مشرف کی اقتدار پر گرفت مضبوط ہے لہذا سرمایہ کاروں کو اس عارضی مندی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خریداری اور سرمایہ کاری کرنے چاہیے تاکہ وہ مستقبل میں زیادہ نفع حاصل کر سکیں‘۔ تاہم مقامی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ کراچی کے واقعات ملکی معیشت یا سرمایہ کاری پر براہ راست فوری منفی اثرات مرتب نہیں کر سکے جس کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ معیشت دان ڈاکٹر اے آر کمال کا اس بارے میں کہنا ہے کہ محض ایک واقعے کی بنیاد پر کسی ملک میں سرمایہ کاری کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا البتہ امن و امان کی صورتحال مستقل بنیادوں پر بگاڑ کا شکار ہو گئی تو پھر سرمایہ کار پاکستان سے منہ موڑ سکتے ہیں۔ |
اسی بارے میں شرح نمومیں اضافے سےمہنگائی 18 April, 2007 | پاکستان معاشی صورت حال اور حکومتی دعوے28 December, 2006 | پاکستان بنیادی شرح سود میں اضافہ29 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||