BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرمایہ کاری متاثر نہیں ہوگی

کراچی
سرمایہ کاروں کو اس عارضی مندی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خریداری اور سرمایہ کاری کرنی چاہئے تاکہ وہ مستقبل میں زیادہ نفع حاصل کر سکیں۔
سرمایہ کاری کے دو معروف بین الا قوامی اداروں نے کراچی میں بارہ مئی کو ہونے والے واقعات کے بارے میں اپنی تحقیقاتی رپورٹیں جاری کی ہیں جن میں خدشات ظاہر کیے گئے ہیں کہ تشدد کی یہ لہر آئندہ انتخابات تک جاری رہ سکتی ہے۔

تاہم دونوں امریکی کمپنیاں گولڈمین سیکس اور جے پی مورگن نے ان واقعات کے حوالے سے بلکل متضاد نتائج اخذ کیے ہیں۔ گولڈمین نے ان پر تشدد واقعات کو صدر مشرف اور ملک کے لیے برا شگون قرار دیتے ہوئے سرمایہ کاروں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اگلے انتخابات اور نئی حکومت کے اقتدار سنبھالنے تک پاکستان میں سرمایہ کاری سے گریز کریں۔

لیکن جے پی مورگن کا کہنا ہے کہ تشدد کے باعث مارکیٹ عارضی گراوٹ کا شکار ہے لہذا سرمایہ کاروں کے لیے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ ان کم نرخوں پر خریداری کر کے آنے والے دنوں میں خوب نفع کمائیں۔

ان سرمایہ کار کمپنیوں کے تحقیقاتی شعبوں نے کراچی کے واقعات کے لیے یہ خصوصی تجزیاتی اور تحقیقاتی رپورٹس مقامی ذرائع استعمال کر کے تیار کی ہیں۔

سرمایہ کار منہ موڑ سکتے ہیں
 محض ایک واقعے کی بنیاد پر کسی ملک میں سرمایہ کاری کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا البتہ امن و امان کی صورتحال مستقل بنیادوں پر بگاڑ کا شکار ہو گئی تو پھر سرمایہ کار پاکستان سے منہ موڑ سکتے ہیں
ڈاکٹر اے آر کمال
گولڈمین سیکس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہےکہ کراچی میں سیاسی تشدد مزید متشدد واقعات کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے لیکن اس موقع پر جنرل مشرف کے اقتدار کو براہ راست کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا، گو کہ حزب اختلاف کی جماعتیں چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کو ان کے دور اقتدار کے سنگین ترین سیاسی بحران میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہیں۔

سیاسی حالات کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ’ویسے توطویل مدت میں پاکستان کے بارے میں مثبت رائے دینا مناسب ہوگا لیکن فی الحال ہم سرمایہ کاروں کو یہ صلاح دیتے ہیں کہ وہ آئندہ انتخابات اور نئی حکومت کے اقتدار سنبھالنے تک محتاط رویہ اختیار کریں کیونکہ کراچی میں ہونے والا تشدد آنے والے ہفتوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے‘۔

دوسری جانب جے پی مورگین نے اپنی رپورٹ میں اختتامِ ہفتہ پر ہونے والے کراچی کے واقعات کو جنرل مشرف کی اقتدار پر گرفت کی مضبوطی کا باعث قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس افتخار چودھری کی آمد کے موقع پر ہونے والے تشدد کے واقعات اور ان کے ہائی کورٹ بار سے خطاب کیے بغیر واپس لوٹ آنے سے حزب اختلاف کی سبکی ہوئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں بالخصوص نواز شریف اور بینظیر بھٹو چیف جسٹس کے معاملے کو انتخابات سے قبل ملک میں سیاسی فضا کو اپنے حق میں کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ تاہم کراچی کے واقعات نے جنرل مشرف کے مقابلے میں حزب اختلاف کی سیاسی کمزوریوں کو مزید اجاگر کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انتخابات سے قبل حزب اختلاف کی طرف سے ہڑتالوں کی مزید اپیلیں کی جائیں گی اور مزید تشدد بھی بعید از قیاس نہیں لیکن کراچی میں تشدد کے بعد حزب اختلاف کے مقابلے میں جنرل مشرف اخلاقی طور پر زیادہ مضبوط ہوئے ہیں لہذا وہ آئندہ ہڑتالوں اور مظاہروں سے بہتر طور پر نمٹنے کی پوزیشن میں ہیں۔

 گولڈمین نے ان پر تشدد واقعات کو صدر مشرف اور ملک کے لیے برا شگون قرار دیتے ہوئے سرمایہ کاروں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اگلے انتخابات اور نئی حکومت کے اقتدار سنبھالنے تک پاکستان میں سرمایہ کاری سے گریز کریں
تجزیہ کاروں نے آنے والے دنوں میں جنرل مشرف کی ملکی سیاست میں اہمیت اور مقبولیت کو بڑھتے ہوئے دکھایا ہے کیونکہ انتخابات سے قبل حکمران جماعتیں اور انکے حلیف صدر مشرف کو عوامی حمایت اور مقبولیت حاصل کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ استعمال کریں گے۔

رپورٹ کے آخری حصے میں اپنے تبصرے میں تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ ’گو کہ تشدد اور غیر یقینی سیاسی صورتحال کے باعث پاکستان فوری طور پر سرمایہ کاروں کی دلچسپی کا مرکز نہیں ہے لیکن چونکہ جنرل مشرف کی اقتدار پر گرفت مضبوط ہے لہذا سرمایہ کاروں کو اس عارضی مندی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خریداری اور سرمایہ کاری کرنے چاہیے تاکہ وہ مستقبل میں زیادہ نفع حاصل کر سکیں‘۔

تاہم مقامی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ کراچی کے واقعات ملکی معیشت یا سرمایہ کاری پر براہ راست فوری منفی اثرات مرتب نہیں کر سکے جس کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ معیشت دان ڈاکٹر اے آر کمال کا اس بارے میں کہنا ہے کہ محض ایک واقعے کی بنیاد پر کسی ملک میں سرمایہ کاری کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا البتہ امن و امان کی صورتحال مستقل بنیادوں پر بگاڑ کا شکار ہو گئی تو پھر سرمایہ کار پاکستان سے منہ موڑ سکتے ہیں۔

دعوے کھوکھلے؟
معاشی ترقی کے دعوؤں پرماہرین مشکوک ہیں
پیسے سے بھرا بیگاس سال کی معیشت
تجارتی خسارے کی وجہ سے قرض لینا ہو گا
معاشی ترقی کا واہمہ
’گیارہ ستمبرکے بعد کا ہنی مون ختم ہوچکاہے‘
دن پھرے امیروں کے
معیشت قدرے بہتر لیکن صرف امیروں کے لیے
بلو چستانبلوچ کہانی: 16
بلوچوں کی معاشی زندگی پر اثرات
اسی بارے میں
بنیادی شرح سود میں اضافہ
29 July, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد