شرح نمومیں اضافے سےمہنگائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقتصادی اور سماجی ترقی سے متعلق اقوام متحدہ کمیشن نے کہا ہے کہ پاکستان میں اقتصادی شرح نمو میں اضافہ مہنگائی کا باعث بن رہا ہے اور آنے والے دنوں میں حکومت کو ایسے اقدامات کرنے ہوں گے کہ معیشت میں ترقی ایسے طریقوں سے آئے جن سے افراط زر اور مہنگائی پر منفی اثر نہ پڑے۔ بدھ کے روز ایشیا اور بحرالکاحل کے ممالک کے اقتصادی اور سماجی حالات کے بارے میں جاری ہونے والے سروے میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی شرح نمو اور قیمتوں میں استحکام کے درمیان توازن برقرار رکھنا، معیشت کی ترقی کے دور رس نتائج حاصل کرنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں بیک وقت جاری ہونے والے اس سروے میں ایشیائی اور بحرالکاحل کے ممالک میں گزشتہ ایک برس کے دوران ہونے والی معاشی سرگرمیوں کا مفصل جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ جبکہ سماجی شعبے میں اس سال سروے کا موضوع جنس کی بنیاد پر تفریق کو رکھا گیا تھا۔ پاکستان سے متعلق معاشی پالیسیوں کے جائزے میں بعض ان اقدامت کی افادیت پر بھی بحث کی گئی ہے جنہیں حکومت اپنی معاشی کامیابیوں کی مثال کے طور پر پیش کرتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑے ترقیاتی منصوبے یا ’میگا پرجیکٹس’ بھی اقتصادی شرح نمو میں تو اضافے کا باعث بنتے ہیں لیکن عوام کو براہ راست فائدہ دیہی علاقوں میں چھوٹے چھوٹے منصوبوں مثلاً سڑک کی تعمیر سے ہوتا ہے لہزا ان میگا پراجیکٹس کے ساتھ دیہی علاقوں میں انفراسٹرکچر سے متعلق منصوبے شروع کرنے پر بھی غور کیا جانا چاہئے۔ غربت کے خاتمہ کے لئے شروع کئے گئے سرکاری منصوبوں پر بحث کرتے ہوئے سروے میں کہا گیا ہے کہ جہاں نہایت غریب لوگوں کو دی جانے والی براہراست مالی امداد ضروری ہے وہیں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ان کے علاقوں میں روزگار کی فراہمی کے لئے شروع کئے گئے منصوبے غربت کے خاتمے میں زیادہ موثر ہوتے ہیں۔ بھارت میں کئے جانے والے اس طرح کے ایک تجربے کی مثال دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے زریعے خرچ ہونے والی رقوم براہراست مالی امداد کے مقابلے میں غربت کے خاتمے میں سات فیصد زیادہ موثر رہتی ہیں۔ رپورٹ کو صحافیوں کے سامنے پیش کرتے ہوئےاقوام متحدہ سے منسلک اقتصادی ماہر ڈاکٹر سرفراز قریشی نے کہا کہ پاکستان میں اقتصادی شرح نمو میں اضافہ ایسے زرائع سے ہو رہا ہے جو معیشت کے ساتھ ساتھ مہنگائی اور افراط زر میں بھی اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ دیہات میں بجلی پہنچانے کے حکومتی عزائم کے بارے میں سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زیادہ علاقوں میں بجلی پہنچنے سے زیادہ ضروری جن لوگوں کے پاس بجلی پہنچ چکی ہے ان کے لیے اس کا استعمال ممکن بنانا ہے۔
ڈاکٹر قریشی نے کہا کہ پاکستان میں بجلی اس قدر مہنگی ہے کہ بہت سے دیہات میں ہونے کے باوجود لوگ اس کے استعمال سے کتراتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں لوگوں کو فوڈ سٹیمپ کی طرز پر بجلی کے بل جمع کروانے کے لیے کوپن فراہم کئے جائیں تاکہ وہ اس سہولت کو معاشی بہتری کے لیے استعمال کر سکیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین کو تعلیم اور روزگار کے مواقعے میسر نہ ہونے کے باعث ایشیا کے ترقی مذیر ممالک کی معیشت کوسالانہ پنتالیس ارب روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ معاشرے کا ایک بڑا طبقہ پیداواری عمل کوئی کردار ادا نہیں کر رہا۔ | اسی بارے میں معاشی ترقی کا واہمہ01 June, 2005 | پاکستان سات برس: افراطِ زر میں سو فیصد اضافہ24 May, 2005 | پاکستان مہنگائی کی نئی لہر02 July, 2005 | پاکستان اقتصادی سروے: غربت کم ہو گئی04 June, 2006 | پاکستان معاشی صورت حال اور حکومتی دعوے28 December, 2006 | پاکستان آزادانہ تجارت یا امریکی تسلط 15 June, 2006 | پاکستان بجٹ: پراعتماد مگرغریب پرور نہیں 07 June, 2005 | پاکستان ’مالیاتی خطرہ پیدا ہوسکتا ہے‘02 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||