معاشی صورت حال اور حکومتی دعوے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں گزشتہ سال معاشی ترقی کے حکومتی بلند بانگوں دعویوں سے قطع نظر اقتصادی ماہرین بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے اور بجلی کی پیداواری صلاحیت میں عدم توسیع کے تناظر میں آئندہ چند برسوں میں معاشی مشکلات کی پیشن گوئی کررہے ہیں۔ اقتصادی ماہرین کے لیئے پاکستان کا تجارتی خسارہ جو پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر سے زیادہ ہو گیا ہے اور گزشتہ سات سالوں میں ملک کی بجلی کی کل پیداواری صلاحیت میں ایک میگاواٹ کا اضافہ بھی نہیں ہوا دو ایسے اہم عناصر ہیں جو ملک کی معشیت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تاہم حکومتی ماہرین کے خیال میں گزشتہ سالوں میں حاصل کردہ معاشی ترقی کی رفتار برقرار رہے گی اور اس میں ملک کی صنعتی ترقی اہم کردار ادا کرے گی۔ مشہور ماہر اقتصادیات قیصر بنگالی کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کے دورِ اقتدار میں بجلی کی پیداوار میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا جس کی بنا پر توانائی کا شدید بحران پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کا یہ بحران آنے والے موسم گرما میں شدت اختیار کرجائے گا اور شہریوں کو طویل لوڈشیڈنگ بھگتنا پڑے گی اور اس کے ساتھ ہی صنعتی پیداوار بھی متاثر ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کی کوئی معیشت توانائی کے وسائل کے بغیر ترتی نہیں کر سکتی اور خاص طور پر موجودہ ترقی یافتہ دور میں۔ انہوں نے کہا اسے حکومتی کی ناکامی کہیں یا نااہلی کہیں کہ اس نے بجلی کی پیداوار میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔ انیس سو اکانوے میں پاکستان کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت آٹھ ہزار میگاواٹ تھی جو انیس سو نناوے میں بڑھ کر پندرہ ہزار میگاواٹ ہو گئی اور غازی بروتھا پاور پراجیکٹ کے شروع ہونے کے بعد یہ صلاحیت سترہ ہزار میگاواٹ تک پہنچ گی۔ حکومتی ماہر اقتصادیات سلمان شاہ کا کہنا ہے کہ حکومت توانائی کے شعبہ پر بھرپور توجہ دے رہی ہے اور صدر اور وزیر اعظم اس کے لیے خصوصی اجلاس کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے میں ایک کمپنی بجلی کا کارخانہ لگا رہی ہے اور اس کا ’فائنیشل کلوز‘ ہو گیا ہے۔ انہوں نے صنعتی ترقی کے دعووے کرتے ہوئے کہا کہ اس کا ثبوت پاکستان میں بجلی کی طلب میں اضافے کی شرح ہے جو دس عشاریہ پانچ فیصد سالانہ ہے۔ قیصر بنگالی نے کہا کہ پاکستان میں بینکوں کی طرف سے عام لوگوں یا صارفین کو ’کنزیومر لونز‘ دینے کی وجہ سے گاڑیوں، موٹرسائکلوں اور گھریلوں برقی سازوسامان کی وجہ سے ان صنعتوں کی پیدوار میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی اثاثوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صنعتیں زیادہ تر پزہ جات بیرون ملکوں سے درآمد کرتی ہیں جس سے بھی درآمدات پر دباؤ بڑھ ہے۔ سلمان شاہ نے بینکوں کی طرف سے عام صارفین کو فراہم کیئے جانے والے قرضوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں قرضوں کی سہولت صرف بڑے صنعت کاروں کو ہی حاصل تھی۔ انہوں نے کہا کہ ساری دنیا میں عام صارفین کو قرضے فراہم کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور بھارت میں اکتیس فیصد قرضے عام صارف کو دیئے جاتے ہیں جبکہ امریکہ اور مغربی ملکوں میں یہ شرح پچاس فیصد سے زیادہ ہے۔ سلمان شاہ نے کہا کہ ملک میں نئی سرمایہ بھی بڑے پیمانے پر ہورہی ہے اور صرف چکوال میں تین نئی سیمنٹ فیکٹریاں لگائی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ کراچی میں خلیج سے تعلق رکھنے والی ایک کمپنی سٹیل ملز لگا رہی ہے۔ | اسی بارے میں ’مالیاتی خطرہ پیدا ہوسکتا ہے‘02 December, 2006 | پاکستان اقتصادی سروے: غربت کم ہو گئی04 June, 2006 | پاکستان سونے کے نرخ میں ریکارڈ اضافہ12 May, 2006 | پاکستان بھارت سے درآمد بڑھانے کا فیصلہ27 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||