BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 September, 2006, 16:13 GMT 21:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارت سے درآمد بڑھانے کا فیصلہ

سٹیل مل
جن نئے ٹیرف لائنز کی درآمد کی اجازت دی گئی ہے ان میں خام مال بشمول لوہا اور فولاد کی ایک سو گیارہ ٹیرف لائنیں ہوں گی
پاکستان نے بھارت سے خام مال، مشینری اور ادویہ سمیت درجنوں نئی اشیاء درآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

بدھ کو قومی اقتصادی رابطہ کونسل کے اجلاس کے بعد میڈیا کو اجلاس کے فیصلوں کی بریفنگ دیتے ہوئے اقتصادی امور کے مشیر اشفاق حسن خان نے کہا کہ کونسل نے بھارت سے درآمد کیے جانی والی اشیاء (ٹیرف لائنز) میں تین سو دو ٹیرف لائنوں کا اضافہ کردیا ہے۔

تاہم انہوں نے ٹیرف لائن کی تکنیکی اصطلاح کی وضاحت نہیں کی۔

مشیر نے کہا کہ ابھی تک پاکستان نے بھارت سے پندرہ سو ستائیس آئٹمز (ٹیرف لائنز) کی درآمد کی اجازت دے رکھی تھی جن کی تعداد اب اٹھارہ سو انتیس ہوگئی ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ فی الحال یہ نہیں بتا سکتے کہ یہ ٹیرف لائنز کتنی اشیاء یا مصنوعات پر مبنی ہیں۔ ابھی تک پاکستانی حکومت نے بھارت سے سات سو تہتر اشیاء درآمد کرنے کی اجازت دے رکھی تھی۔

انہوں نے کہا کہ جن نئے ٹیرف لائنز کی درآمد کی اجازت دی گئی ہے ان میں خام مال بشمول لوہا اور فولاد کی ایک سو گیارہ ٹیرف لائنیں اور مشینری جیسے ٹیکسٹائل مشینری، زرعی مشینری اور آلات و پرزے وغیرہ کی ایک سو بارہ لائنیں اور متفرق اشیاء جیسے سرجیکل آلات اور ہومیوپیتھک ادویہ کی انیس ٹیرف لائنیں شامل ہیں۔

اشفاق حسن خان نے کہا کہ درآمدی اشیاء کی فہرست میں اضافہ کرنے کا فیصلہ تمام متعلقہ فریقوں جیسے صنعت کاروں، برآمد کنندگان وغیرہ سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت سے خام مال درآمد کرنے سے ہماری معیشت کو فائدہ ہوگا کیونکہ ہم جو اشیاء دور دراز کے ملکوں سے منگواتے ہیں وہ ہم کم خرچ پر بھارت سے منگواسکیں گے۔

اس سے پہلے قومی اقتصادی کونسل کے فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم شوکت عزیز نے کہا کہ حکومت نے ڈی اے پی کھاد کی بوری کی قیمت میں ڈھائی سو روپے فی تھیلہ کمی کردی ہے جس کے لیے حکومت سبسڈی دے گی۔

اس طرح تقریباً پونے گیارہ سو روپے میں ملنے والی ڈی اے پی کھاد کا تھیلہ تقریباً سوا آٹھ سو روپے میں فروخت ہوگا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس اقدام کامقصد یہ ہے کہ ڈی اے پی کھاد کا استعمال بڑھے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

تاہم وزیراعظم نے کہا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود فی الحال پٹیرولیئم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہیں کی جارہی اور اس کا فیصلہ کچھ دیر بعد کیا جائے گا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں افراظ زر میں متواتر کمی ہورہی ہے اور یوٹیلیٹی اسٹورز پر اشیاء جیسے آٹا اور چینی وغیرہ کی فروخت میں تین سے چار گنا اضافہ ہوا ہے۔

وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ ایل پی جی گیس کی قیمتوں میں کیاگیا حالیہ اضافہ آج سے واپس لینے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

مشیر برائے اقتصادی امور اشفاق حسن خان نے کہا کہ کونسل نے غیر ملکی انشورنس کمپنیوں کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ کراچی کے قریب دبئی کی کمپنی عمار گروپ پورٹ قاسم کے ساتھ مل کر دو جزیروں پر تینتالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے نیا شہر بسائے گی جس کی اصولی منظوری دے دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس شہر کے لیئے زمین پورٹ قاسم مہیا کرے گا جبکہ پیسہ دبئی کا گروپ لگائے گا۔

پورٹ قاسم کو دبئی کی ایک کمپنی کے تعاون سے بی او ٹی بنیادوں پر تین سو ملین ڈالر کی لاگت سے ایک نیا کنٹینر ٹرمینل بنانے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔

یہ اعلان بھی کیا گیا کہ او جی ڈی سی نے کوہاٹ کے قریب معدنی تیل کے نئے ذخائر دریافت کیے ہیں جن سے ملک میں تیل کی پیداوار میں چار ہزار بیرل یومیہ اضافہ ہوگا۔ یہ پیداوار اب بڑھ کر ستر ہزار بیرل فی یوم ہوجائے گی۔

یہ بھی بتایا گیا کہ اس نئی دریافت سے بارہ ملین کیوبک فٹ قدرتی گیس بھی حاصل ہوگی جبکہ کوہاٹ میں ہی قدرتی گیس کا ایک اور ذخیرہ دریافت ہوا ہے جس کی مقدار کا تخمینہ چند ماہ تک لگایا جاسکے گا۔

قومی اقتصادی کونسل نے گوادر کے لیے ایران سے سوا چھ امریکی سینٹ فی یونٹ کے نرخ پر ایک سو میگا واٹ بجلی درآمد کرنے کی اجازت بھی دی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد