انڈیا: باہمی تجارتی معاہدے پر غور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کا کہنا ہے کہ عالمی تجارتی مذاکرات کی ناکامی کے بعد وہ مختلف ملکوں کے ساتھ باہمی تجارت کے معاہدے کرنے پر غور کر رہا ہے۔ صنعت و تجارت کے وزير کمل ناتھ نے کہا ہے کہ ہندوستان نے یورپی یونین اور جاپان سے اس سلسلے میں بات چـیت شروع کردی ہے۔ مسٹر کمل ناتھ جینوا میں عالمی تجارتی مذاکرات میں شرکت کے لیئے جینیوا گئے تھے۔ بات چیت ناکام ہونے کے بعد کمل ناتھ نے کہا کہ جہاں تک بھارت کا سوال ہے تو اس نے تجارت کے باہمی معاہدے کیے ہیں اور وہ دو طرفہ تجارت پر ہی توجہ دے گا۔ مسٹر کمل ناتھ نے مزید کہا کہ بھارت یوروپی یوئین کے ساتھ اقتصادی تعاون پر غور کر رہا ہے اور اسی طرح جاپان سے بھی ایک معاہدہ چاہتا ہے۔ تقریبا سب ہی ایشائی ملکوں کے درمیان دو طرفہ تجارت کا سمجھوتہ ہے اس سے بھارت کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچا ہے۔ جینیوا میں عالمی تجارتی مذاکرات میں ایشائی ممالک کا مطالبہ تھا کہ امریکہ کسانوں کو دینے والی رعایتیں کم کر دے لیکن امریکہ اس بات پر راضی نہیں ہوا اور بالاخر یہ بات چیت ناکام ہو گئی۔ دنیا کے کئی ممالک امریکہ سے رعایتیں کم کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور یورپی یونین کا بھی کہنا تھا کہ امریکہ کو اپنے رویہ میں لچک لانی چاہيے۔ جینیوا بات چیت کے ناکام ہونے کے بعد ہی بھارت نے دو طرفہ تجارتی معاہدوں پر زور دینے کی بات کہی ہے لیکن حال ہی میں جنوب مشرق کے کئی ممالک نے بھارت کے ساتھ آزادانہ تجارت پر بات چیت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ملائیشیا، انڈونیشیا اور سنگا پور جیسے ممالک کا کہنا ہے کہ بھارت تجارت کے لیئے اپنے بازار کھولنے پر ہچکچا رہا ہے۔ مسٹر کمل ناتھ کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی ناکامی کا اثر ہندوستان کی معیشت پر نہیں پڑے گا جو اس وقت آٹھ فیصد کی شرح سے ترقی کر ر ہی ہے۔ | اسی بارے میں ڈبلیو ٹی او کے خلاف پہلا مظاہرہ 12 December, 2005 | آس پاس ڈبلیو ٹی او: زراعتی تعطل برقرار 17 December, 2005 | آس پاس ہندوستان تیسری بڑی معیشت29 January, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||