ڈبلیو ٹی او: زراعتی تعطل برقرار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہانگ کانگ میں جاری اجلاس کے اختتام میں ایک دن باقی ہے اور عالمی تجارتی تنظیم ڈبلیو ٹی او اعلامیہ کے مسودے پر غور کر رہی ہے اور مسودے کے متن سے ظاہر ہے کہ تنظیم برآمدی اعانت ختم کرنے کی حتمی تاریخ مقرر کرنے پر اختلافات ختم نہیں کر سکی۔ امریکہ اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک چاہتے ہیں کہ یہ اعانت 2010 کے اختتام تک جاری رہے لیکن یورپی ممالک کو اعتراض ہے اور ان کا کہنا ہے کہ جب تک دوسرے شعبوں میں پیش رفت نہیں ہوتی اس بارے میں بھی کوئی فیصلہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ بہر طور دولت مند ممالک نے مغربی افریقی ممالک کو کچھ رعایتیں دینے کے لیے کپاس پر برآمدی اعانت دو ہزار چھ میں ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ لیکن داخلی اعانتیں ختم کرنے کے بنیادی معاملے پر کسی پیش رفت کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ کچھ ترقی پذیر ممالک کے اعتراض کے باوجود خدمات کی منڈی کو آزاد ی دینے کا معاملہ حتمی اعلان کے مسودے میں موجود ہے۔ اجلاس اتوار کو ختم ہو رہا ہے لیکن ایک سو انچاس ممالک میں سے کچھ کے مندوبین نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کی تشویش کو اہمیت نے دی گئی تو وہ اجلاس سے احتجاجاً چلے جائیں گے۔ پیش رفت نہ ہونے کا واضح اظہار یورپی یونین کے تجارتی سربراہ کے اس بیان سے ہوتا ہے جس میں انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ بات چیت بے نتیجہ ثابت ہو سکتی ہے۔ برازیل پہلے ہی کہہ چکا ہے وہ اور کچھ دیگر پسماندہ ممالک، خاص طور پر افریقی ممالک کو، محصول اور کوٹے کی پابندیوں کے بغیر اپنی منڈیوں تک رسائی دینے کے لیے تیار ہیں۔ کانفرنس میں مذاکرات کار عالمی تجارت کو مزید آزاد کرنے کے لیے جاری مذاکرات میں پیش رفت کی کوششیں کر رہے ہیں اور امریکی مندوب کا کہنا ہے کہ اتوار کو مذاکرات ختم ہونے سے پہلے مجموعی مفاہمت کا امکان موجود ہے۔ | اسی بارے میں ’امیرممالک زرعی سبسڈی ختم کریں‘15 December, 2005 | آس پاس ڈبلیو ٹی او: برازیل کی پیشکش14 December, 2005 | آس پاس مثبت پیشرفت کی ضرورت: عنان13 December, 2005 | آس پاس ڈبلیو ٹی او کے خلاف پہلا مظاہرہ 12 December, 2005 | آس پاس ہانگ کانگ مظاہروں کی تیاری11 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||