ڈبلیو ٹی او: برازیل کی پیشکش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہانگ کانگ میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی کانفرنس میں برازیل نے کچھ غریب ترین ممالک سے اشیاء کی محصول کے بغیر درآمدات کے لیے اپنی منڈیاں کھولنے کی پیش کش کی ہے۔ برازیل کے وزیر خارجہ سیلسو اموریم کے مطابق برازیل اور کچھ دیگر ممالک پسماندہ ممالک، خاص طور پر افریقی ممالک کو، محصول اور کوٹے کی پابندیوں کے بغیر اپنی منڈیوں تک رسائی دینے کے لیے تیار ہیں۔ کانفرنس میں مزاکرات کار عالمی تجارت کو مزید آزاد کرنے کے لیے جاری مزاکرات میں پیش رفت کی کوششیں کر رہے ہیں۔ بات چیت میں غریب ممالک کو اپنی اشیا غیر ملکی منڈیوں میں فروخت کرنے کے مواقعوں کی فراہمی جیسے معاملات شامل ہیں۔ چار سال قبل ڈبلیو ٹی او کے مزاکرات کے آغاز پر ترقی پزیر ممالک کے تحفظات مرکزی حیثیت کے حامل تھے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اب ایسا نہیں ہے۔ تاہم اس بات پر کچھ پیش رفت ہوئی ہے کہ پسماندہ ممالک کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے۔ متعدد امیر اقوام اس بات پر اصولی طور پر متفق ہیں کہ غریب ممالک کو اپنی زیادہ تر اشیا غیر ملکی منڈیوں میں بنا کسی درآمدی ٹیکس اور کوٹے کی پابندیوں کے فروخت کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔ تاہم اس بات پر اتفاق نہیں ہو پایا ہے کہ کون کون سی اشیا کو اس قسم کی فہرست میں شامل کیا جائے اور آیا کہ یہ ترجیحی معاہدے عارضی ہوں یا مستقل۔ یورپی یونین اور امریکہ نے غریب ترین ممالک کے تجارتی معیار بڑھانے کے لیے اضافی امدادی رقوم فراہم کرنے کے اپنے منصوبے کا اعلان کر دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ رقوم موجودہ بجٹ سے ہی نکالی گئی ہیں اور کچھ کا کہنا ہے کہ یہ امدادی رقم غریب ممالک کو اس بات پر رضامند کرنے کے لیے استعمال ہوگی کہ وہ اپنی منڈیاں مزید درآمدات کے لیے کھول دیں۔ | اسی بارے میں مثبت پیشرفت کی ضرورت: عنان13 December, 2005 | آس پاس ڈبلیو ٹی او کے خلاف پہلا مظاہرہ 12 December, 2005 | آس پاس ہانگ کانگ مظاہروں کی تیاری11 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||