ہانگ کانگ مظاہروں کی تیاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے اجلاس کےخلاف احتجاج کے لیے ہزاروں مظاہرین ہانگ کانگ میں جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ان مظاہروں کا انعقاد منگل سے شروع ہونے والے اجلاس کے موقع پر کیا جا رہا ہے اور یہ مظاہرے اتوار تک جاری رہیں گے۔ ان مظاہروں میں شرکت کے لیے قریباً دس ہزار افراد ہانگ کانگ پہنچ رہے ہیں۔ یہ مظاہرے ایک ہفتے جاری رہنے والے’ ہانگ کانگ پیپلز ایکشن ویک‘ کی پہلی کڑی ہیں۔ ان مظاہروں میں شریک افراد نے’ ڈبلیو ٹی او کو دفن کرو‘ اور ’حکومت اور کاروبار میں تصادم بند کرو‘ جیسے نعروں والی قمیضیں پہن رکھی ہیں۔ مظاہرین میں زیادہ تر انڈونیشیا اور فلپائن کے تارکین وطن شامل ہیں اور وہ ہانگ کانگ کے مرکز میں واقع حکومتی دفاتر تک مارچ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہانگ کانگ کے حکام نے اس اجلاس کے موقع پر نو ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا ہے۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے اس اجلاس میں دنیا بھر کے 150 غریب اور امیر ممالک شریک ہیں اور مظاہرین کا کہنا ہے کہ ایسے اجلاسوں سے امیر ممالک کو ہی فائدہ پہنچتا ہے۔ تاہم اجلاس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی تجارتی سمجھوتے سے اربوں ڈالر پیدا ہوتے ہیں جنہیں غربت کے خاتمے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ | اسی بارے میں بش اور آزاد تجارت کے خلاف مظاہرے04 November, 2005 | آس پاس امریکہ، چین: ٹیکسٹائل مذاکرات 04 June, 2005 | آس پاس کاٹن سبسڈی ، امریکہ کی ہار04 March, 2005 | آس پاس انڈیا کو فائدہ، بنگلہ دیشی بےروزگار16 December, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||