BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 June, 2005, 17:39 GMT 22:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ، چین: ٹیکسٹائل مذاکرات
گوٹیرز اور بو ایکسلائی
چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی مذاکرات شروع
امریکی تجارتی نمائندوں نے بیجنگ میں چینی حکام سے ٹیکسٹائل کے تنازعے کو طے کرنے کے لیے مذاکرات کیے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان جھگڑا امریکہ میں چین کی بڑھتی ہوئی ٹیکسٹائل درآمدات کے بارے میں ہے۔ جنوری 2005 میں ٹیکسٹائل کے لیے عالمی کوٹہ کا نظام ختم ہونے کے بعد چین کی درآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکہ نے اس صورتحال سے نپٹنے کے لیے چین کی برآمدات پر کئی پابندیاں لگائی ہیں۔ چین نے اس کے جواب میں 80 سے زیادہ برآمداتی ٹیرفز کو ختم کر دیا ہے۔

امریکہ کا الزام ہے کہ چین جان بوجھ کر کرنسی کی قیمت کم رکھتا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ کرنسی کی قیمت کم کرنے سے چین اپنی درآمدات بڑھا رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ چینی ین کی قیمت امریکی ڈالر کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ امریکہ بیجنگ پر زور دے رہا ہے کہ وہ چیزوں کی جعل سازی کے خلاف اقدام لے۔

اس جھگڑے کے بارے میں بات چیت کرنے کے لیے امریکہ کے تجارت کے وزیر کارلوس گوٹیرز نے چین کے وزیرِ تجارت بو ایکسلائی سے سنیچرکوملاقات کی۔

امریکی وزیرِ تجارت سے اپنی پہلی ملاقات کے بعد چینی وزیرِ تجارت بو ایکسلائی نے مثبت خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’چین امریکہ کا تیسرا بڑا تجارتی حلیف ہے اور کچھ مشکلات کا ابھرنا ایک قدرتی عمل ہے۔ ہم نے ٹیکسٹائل کے مسئلے پر کھلے دل سے بات چیت کی ہے‘۔

چینی نائب وزیرِاعظم وو یی سے مزید مذاکرات کے لیے گوٹیرز کے ساتھ امریکی تجارت کے نمائندے رابرٹ پورٹمین بھی ہوں گے۔ چینی نائب وزیرِاعظم تجارت کے معاملات کی نگرانی کرتے ہیں۔

امریکی وزیرِ تجارت گوٹیرز نے اس سے قبل پُر زور امریکی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ چین میں اس دباؤ کو مناسب انداز میں محسوس نہیں کیا جا رہا جس کا امریکہ کو باہمی تعلقات کی وجہ سے سامنا ہے۔

چینی وزیرِ تجارت بو ایکسلائی نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ درآمدات پر امریکی پابندیاں تجارت کی عالمی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قدم آزاد تجارت کے خلاف ہے۔

پورٹمین نے چین کے الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ امریکی اقدام عالمی تجارتی قوانین کے مطابق ہیں۔

گوٹیرز نے واضع کیا کہ چین کو اپنی کھلی تجارت کے وعدوں پر عمل کرنا چاہیے ورنہ امریکہ میں اس کے خلاف مخالفت بڑھ سکتی ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ بیجنگ کاپی رائٹ کی خلاف ورزیوں کو ختم کر نے کے لیے مزید کوششیں کرے۔ امریکی انڈسٹری کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ چین میں تین اعشاریہ آٹھ بلین مالیت کی موسیقی، فلمیں اور سافٹ وئیر کی جعل سازی ہوتی ہے۔

امریکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ چین اپنی کرنسی، ین، کی قیمت بڑھائے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس وقت ایک ڈالر کی قیمت آٹھ اعشاریہ دو آٹھ ین ہے جو تناسب کے اعتبار سے کم ہے اور اس سے چینی درآمدات کو غیر ضروری فائدہ ہوتا ہے۔

چین کے وزیرِ تجارت بو ایکسلائی کا کہنا ہے کہ کرنسی اور ٹیکسٹائل کے معاملات کو ایک دوسرے سے الگ رکھا جانا چاہیے۔

بیجنگ میں بی بی سی کے نمائندہ ڈینیل گرفتھس نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے بہت سے مفادات داؤ پر لگے ہوئے ہیں اس لیے مذاکرات کی کامیابی دشوار دکھائی دیتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد