مثبت پیشرفت کی ضرورت: عنان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے ڈبلیو ٹی او اجلاس میں شریک مذاکرات کاروں کو بات چیت کومثبت طور پر آگے بڑھانا چاہیے ورنہ دنیا کے ان کروڑوں افراد کو مایوسی ہوگی جو غربت کے چنگل سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بیان ڈبلیو ٹی او کے چھ روزہ اجلاس کے آغاز کے موقع پر دیا جو کہ ہانگ کانگ میں مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپوں کے درمیان شروع ہوا۔ اجلاس کے آغاز پر ایک سو انچاس ممالک کے نمائندوں نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ اور گلوبلائزیشن کے مخالف مظاہرین نے اس موقع پر ایک بہت بڑا بینر آویزاں کیا جس پر تحریر تھا کہ ’ برے معاہدے سے معاہدے کا نہ ہونا بہتر ہے‘۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس اجلاس کے دوران ڈبلیو ٹی او کے رکن ممالک ایک ایسے سمجھوتے پر دستخط کریں گے جس سے دنیا کے غریب ممالک کی اجناس اور مصنوعات کی امیر ممالک کی مارکیٹوں تک رسائی ممکن ہو سکے گی۔ تاہم اس سمجھوتے کے باوجود ڈبلیو ٹی او کے اراکین زراعت کے مسئلے پر اختلافات کا شکار ہیں۔ دنیا کے غریب ممالک کا کہنا ہے کہ امیر ممالک کی جانب سے اپنے ملک کے کسانوں کو دی جانے والی سبسڈی کی وجہ سے وہ بین الاقوامی منڈی میں امیر ممالک کی سستی اشیاء کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اس معاملے پر اگرچہ یورپی یونین کو شدید تنقید کا سامنا ہے کیونکہ امریکہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک کا کہنا ہے کہ وہ یورپی یونین زراعت کے معاملے پر مزید رعایتیں دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ امریکہ موجودہ نظام میں تبدیلیوں کی تجاویز دے چکا ہے مگر یورپی یونین کا کہنا ہے کہ وہ غریب ممالک سے مزید رعاتیں چاہتی ہے۔ زراعت کے علاوہ اس چھ روزہ اجلاس میں خدمات اور صنعتی منڈیوں کا معاملہ بھی زیرِ بحث آئے گا۔ یورپی یونین کے ٹریڈ کمشنر پیٹر مینڈلسن کا کہنا ہے کہ انہیں ہانگ کانگ اجلاس کے دوران ان معاملوں میں محدود پیمانے پر بہتری کی امید ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ اس اجلاس کے دوران صرف زراعت ہی نہیں بلکہ تمام شعبوں میں صحیح سمت میں مذاکرات کیے جائیں‘۔ | اسی بارے میں ڈبلیو ٹی او کے خلاف پہلا مظاہرہ 12 December, 2005 | آس پاس ہانگ کانگ مظاہروں کی تیاری11 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||