سونے کے نرخ میں ریکارڈ اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں سونے کی قیمت ملکی تاریخ کی انتہائی بلند سطح پر پہنچ گئی ہے اور مقامی مارکیٹ میں چوبیس قیراط کے دس گرام سونے کے نرخ تیرہ ہزار سات سو روپے کی حد عبور کرگئے ہیں۔ مقامی ماہرین کا کہنا ہے کہ نرخوں میں اس اضافے سے ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قدر میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار سونے کے نرخ میں تیز ترین اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت مقامی صرافہ مارکیٹ میں ایک تولہ سونے کے نرخ 15,950 روپے ہیں، جبکہ اس سال یکم جنوری کو چوبیس قیراط فی تولہ سونے کے نرخ 11,700 روپے تھے۔ یکم جنوری 2006 ء سے اب تک نرخوں میں 6,500 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ قیمت میں حالیہ اضافہ پہلی بار سب سے بلند سطح پر اس سال 18 اپریل کو پہنچا جب دس گرام سونے کے نرخ 12000 روپے کی حد عبور کرگئے۔ اضافے کا سبب 17 اپریل کو سونے کی عالمی منڈی میں ہونے والا وہ اضافہ تھا جس سے گزشتہ ساڑھے پچیس برس بعد قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ شروع ہوا اور فی اونس سونے کے نرخ 593 سے 616 امریکی ڈالر تک جا پہنچے۔
اس وقت عالمی منڈی میں سونا فی اونس 700 امریکی ڈالر کی حد عبور کررہا ہے جو گزشتہ ہفتے 662 امریکی ڈالر فی اونس تک تھا۔ 1980 میں عالمی منڈی میں فی اونس سونے کے نرخ تاریخ کی ریکارڈ سطح 850 امریکی ڈالر فی اونس تک جاپہنچے تھے، تاہم پاکستانی ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستانی روپے اور ڈالر کی قدر کے درمیان نمایاں فرق نہیں تھا اس لیے اس اضافے سے ملک میں نرخوں پر اس کا بہت زیادہ اثرنہیں پڑآ۔ واضح رہے کہ یکم جنوری 2005 ء کو پاکستان میں فی تولہ سونے کے نرخ 9,900 روپے تھا۔ سونے کی تجارت سے وابستہ تاجروں کا کہنا ہے کہ سونے کے نرخوں میں گزشتہ کئی ماہ سے متواتر جاری اضافہ عالمی منڈی میں ہونے والے چڑھاؤ کے سبب ہے اور اس اضافے کے پسِ پردہ ملکی منڈی کے حوالے سے کوئی پوشیدہ اسباب نہیں ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مستقبلِ قریب میں سونے کی قیمت میں قابلِ قدر کمی کے امکانات زیادہ روشن نہیں ہیں۔ اگرچہ ملک میں ناپ تول کے لیے اعشاری نظام مستعمل ہے تاہم مقامی سطح پر زیادہ تر سونے کی خرید و فروخت پرانے نظام ’تولہ‘ کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ ملکی تاریخ میں دس گرام سونے کے آج تک کے یہ سب سے زیادہ نرخ ہیں۔ ملک میں1999ء کے دوران دس گرام چوبیس قیراط سونے کی قیمت پانچ سے سوا پانچ ہزار روپے ، جبکہ2001ء کے آخر تک چھ سے ساڑھے چھ ہزار روپے کے درمیان رہے تھی۔
ملک میں صرافہ کاروبار کے حوالے سے اعداد و شمار بالعموم دستیاب نہیں ، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں صرافہ بازار کی سطح پر روزانہ اوسط کی بنیاد پر تیس تا پینتیس ہزار تولہ سونا فروخت ہوتا ہے۔ آل پاکستان جیمز جیولرز مرچنٹ ایسوسی ایشن کے چئرمین مظہر علی کا کہنا ہے کہ ’سونے کے نرخوں میں تیز رفتار اضافہ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کا سبب بن سکتا ہے۔‘ سونے کی تجارت سے وابستہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں قیمتوں میں اس حالیہ تیز رفتار اضافے کے سبب بڑی مقدار میں سرمایہ کار اپنا سرمایہ محفوظ رکھنے کے لیے خریداری کررہے ہیں تاہم صرافہ تاجر اس اضافے سے متذبذب ہیں اور وہ بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ کراچی میں صرافہ بازار کے تاجر محمد علی کے مطابق ’قیمتوں میں اس حالیہ اضافے سے پرچون کی سطح پر زیورات کی فروخت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ خریداری کے لیے آنے والوں کا محدود بجٹ ہوتا ہے اور قیمتوں میں روزانہ اضافے سے عام خریدار دکانوں کا رخ نہیں کررہا ہے۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||