BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 December, 2006, 11:38 GMT 16:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مالیاتی خطرہ پیدا ہوسکتا ہے‘

شمشاد اختر
رواں سال اہم فصلوں کی پیداوار میں غیر متوقع کمی ہوئی ہے: شمشاد اختر
پاکستان کے مرکزی بینک نے کہا ہے کہ اگر اخراجات میں ضروری اضافے کو محصولات میں اضافے سے ہم آہنگ نہ کیا گیا تو اس صورت میں بڑا مالیاتی خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔

یہ بات سٹیٹ بینک کی سالانہ رپورٹ میں بیان کی گئی ہے جو کہ بینک کی گورنر ڈاکٹر شمشاد اختر نے سنیچر کو ایک پریس کانفرنس میں جاری کی۔

مالی سال دو ہزار چھ میں ملک کی حقیقی مجموعی قومی پیداوار ساڑھ چھ فیصد سے زائد رہی ہے جو کہ اس شرح سے زیادہ ہے جس کی پاکستان کو خواہش ہے۔ بینک کے تخمینوں کے مطابق مالی سال دو ہزار سات میں یہ اضافہ سات فیصد تک پہنچ جائےگا۔

حقیقی مجموعی قومی پیداوار میں اس اضافے کے ساتھ ساتھ برآمدات اور پرائیویٹ سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے جس سے ممکن ہے کہ غربت کم کرنے میں مدد ملی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال دو ہزار سات میں توسیعی مالیاتی پالیسی سے معشیت کو لاحق خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔ ایک جانب زبردست طلب کے باعث اس سے افراط زر کا دباؤ بڑھے گا جبکہ دوسری جانب حکومت کی زائد سرمائے کی ضرورت کے باعث سود کی شرحوں میں اضافے کے لئے دباؤ بڑھ سکتا ہے تاکہ معیشت پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم سے کم کیا جاسکے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال میں مالیاتی خسارے کی شرح مجموعی قومی پیداوار کا چار اعشاریہ دو (4.2) تھی جبکہ گزشتہ سال یہ شرح 3.3 فیصد تھی۔ اس خسارے کا ایک بڑا حصہ مرکزی بینک سے قرضوں کے ذریعے پورا کیا گیا تھا۔

صنعتی ترقی میں کمی
 رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال میں صنعتی ترقی کی شرح 5.9 فیصد رہی، جو گزشتہ سال کی 11.4 فیصد کی شرح سے کم ہے۔ یہ کمی جزوی طور بجلی کی پیداواری قیمتوں میں اضافے اور گیس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو پہنچنے والے نقصانات اور بلوچستان میں بے چینی کے باعث ہوئی ہے۔ جس سے گیس کمپنیوں کے نیٹ ورک میں توسیع کے اثرات بھی زائل ہوگئے۔

بینک کے مطابق رواں سال اہم فصلوں کی پیداوار میں غیر متوقع کمی ہوئی ہے۔گندم اور گنے کی پیداوار مقررہ ہدف سے کم رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال میں صنعتی ترقی کی شرح 5.9 فیصد رہی، جو گزشتہ سال کی 11.4 فیصد کی شرح سے کم ہے۔ یہ کمی جزوی طور بجلی کی پیداواری قیمتوں میں اضافے اور گیس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو پہنچنے والے نقصانات اور بلوچستان میں بے چینی کے باعث ہوئی ہے۔ جس سے گیس کمپنیوں کے نیٹ ورک میں توسیع کے اثرات بھی زائل ہوگئے۔

بینک کے مطابق رواں سال پاکستان کے مجموعی قرضے اور واجبات میں مسلسل دوسرے سال بھی معمولی اضافہ ہوا۔ اس سال مجموعی قرضہ 6.1 سے بڑہ کر 6.3 ہوگیا ہے ، رواں سال پاکستان نے 3.4 بلین ڈالرز کا نیا طویل المدت قرضہ حاصل کیا ہے جس میں 673 ملین ڈالرز کے قرضے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے لیے مختص کیے گئے۔

سالانہ رپورٹ کے مطابق تیل کی عالمی قیمتوں اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ مجموعی طلب میں اضافے کے باعث رواں سال پاکستان کا بیرونی کھاتہ بدستور دباؤ کا شکار رہا۔ گزشتہ سال اس کھاتے کا خسارہ 1.5 بلین ڈالرز تھا جو اس سال بڑہ کر پانچ بلین ڈالرز ہوگیا ہے۔ یہ اب تک ہونے والے خساروں میں سب سے بلند سطح ہے۔

نٹ ویئر نٹ ویئر کا بحران
برآمدات میں 11 سے 15 فیصد کمی کا خدشہ
بجٹآپ کیا کہتے ہیں
بجٹ، آپ کی جیب اور باورچی خانہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد