فوج کبھی اقتدار سے پیچھے ہٹے گی؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فوجی امور کی تجزیہ کار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی نئی کتاب ’ملٹری انکارپوریٹڈ: انسائیڈ پاکستانز ملٹری اکانومی‘ فوج کے کاروباری مفادات پر ایک وسیع اور گہری نظر ہے۔ اس کتاب میں وہ کئی پس پردہ حقائق کا ایک اچھوتا رخ پیش کرتی ہیں۔ آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کے زیر اہتمام چھپنے والی اس کتاب کی تقریب رونمائی جمعرات اکتیس مئی کو اسلام آباد میں ہو رہی ہے۔ مصنفہ اپنی کتاب میں لکھتی ہیں: ’دفاعی اسٹیبلشمنٹ کا مثبت امیج بنانے کی کوشش پاکستان کے فوجی صدر کی اس تقریر میں نمایاں تھی جو انہوں نے کراچی ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے کھارے پانی کو قابل استعمال بنانے کے پلانٹ کے افتتاح کے موقع پر کی۔ ان کا کہنا تھا: ’پھر ہمارے پاس آرمی ویلفیئر ٹرسٹ ہے، ہمارے پاس فوجی فاؤنڈیشن ہے۔ ہاں، یہ بینکنگ کا کام کر رہے ہیں ۔۔۔ یہ کام کر رہے ہیں ۔۔۔ ہمارے پاس فرٹیلائزر (کے کارخانے) ہیں ۔۔۔ ہم دوائیں تک تیار کر رہے ہیں۔ ہم نے سیمنٹ پلانٹ لگائے ہوئے ہیں ۔۔۔ تو پھر مسئلہ کیا ہے اگر یہ ادارے معیشت میں حصہ لے رہے ہیں اور اچھے طریقے سے چلائے جا رہے ہیں؟ ہمارے پاس بہترین بنک ہیں۔ ہمارے سیمنٹ کے کارخانے کی کارکردگی غیر معمولی طور پر اچھی ہے۔ ہمارے کھاد کے کارخانے غیر معمولی طور پر اچھے چل رہے ہیں۔ تو کسی کو حسد کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ لوگ کیوں جلتے ہیں اگر ریٹائرڈ فوجی افسران یا ان کے ساتھ سویلین پاکستان کی معیشت کو بہتر بنا رہے ہیں اور اچھا کام کر رہے ہیں‘
’تاہم پاکستان کے سیاسی نظام کی نزاکت کو فوج کے سیاسی مفادات پر تخقیق کیے بغیر سمجھا نہیں جا سکتا۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ فوج کبھی اقتدار سے پیچھے ہٹے گی؟ پاکستان کی مسلح افواج یا کوئی بھی فوج جس کے گہرے معاشی مفادات موجود ہیں، سیاسی طبقے کو حقیقی اقتدار منتقل کرے گی؟ یہ ملک ان ریاستوں کی نمائندگی کرتا ہے جہاں سیاسی طور پر طاقتور فوجیں اپنی بالادستی قائم کرکے ریاست اور معاشرے کو کنٹرول کرتی ہیں۔ ایسا ریاست، معاشرے اور معیشت میں دور تک رسائی حاصل کرکے کیا جاتا ہے۔
معاشرے اور معیشت میں بگڑی ہوئی مداخلت دفاعی سٹیبلشمنٹ کا ریاست پر کنٹرول قائم کرتی ہے۔ مالیاتی خودمختاری، معاشی دخل اندازی اور سیاسی اختیار ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور ایک شیطانی چکر کا حصہ ہیں۔ آج پاکستان کی فوج کی داخلی معیشت بہت وسیع ہے۔ نتیجہ ہے کہ فوج ایک اہم معاشی کھلاڑی بن چکی ہے۔ مل بس کا سب سے نمایاں اور جانا پہچانا حصہ چار فلاحی فاؤنڈیشنں ہیں: فوجی فاؤنڈیشن (ایف ایف)، آرمی ویلفیئر ٹرسٹ (اے ڈبلیو ٹی)، شاہین فاؤنڈیشن (ایس ایف) اور بحریہ فاؤنڈیشن (بی ایف)۔ یہ فاؤنڈیشنں دفاعی سٹیبلشمنٹ کے ذیلی ادارے ہیں جن میں فوجی اور سویلین دونوں طرح کے ملازمین کام کرتے ہیں۔ یہ کاروبار اپنی نوعیت کے اعتبار سے بہت متنوع ہیں جن میں بیکری، فارم، سکول اور نجی سکیورٹی اداروں سے لے کر بنکوں، بیمہ کمپنیوں، ریڈیو اور ٹیلی ویژن چینلز یا کھاد، سیمنٹ اور اجناس کی تیاری کے کارخانوں تک کے کاروبار شامل ہیں۔‘ ’تاہم یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ اداراتی سطح پر فوج اپنے چھوٹے اور درمیانے کاروباروں میں براہ راست شریک ہے۔ یہ سب سے کم شفاف حصوں میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے فوج کی داخلی معیشت کی اصل قدر کا حساب لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان میں شاہراہوں اور موٹروے پر محصول اکٹھا کرنے سے لے کر پٹرول پمپ، شاپنگ مال اور دوسرے کاروبار چلانا تک شامل ہیں۔ آخر میں یہ کہ ریٹائر ہونے والے ملازمین کو کئی طرح کے فائدے پہنچائے جاتے ہیں جن میں شہری اور دیہی زمین یا ملازمت اور کاروبار کے مواقع شامل ہیں۔ سرکاری زمینیں دینا ملکی وسائل کو منافع کمانے کے لیے افراد کے حوالے کرنے کی ایک مثال ہے۔ دوسری جانب کاروبار کے مواقع سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کس طرح افراد ادارے کا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے پیسہ بناتے ہیں، ان کاروبار کرنے والے فوجیوں کا فوج سے تعلق ان کے لیے نجی شعبے کے لوگوں کی نسبت زیادہ راستے کھولتا ہے۔ انفرادی نوازشیں بھی وسائل کی غیرشفاف تقسیم کو ظاہر کرتی ہیں جس سے مالیاتی وسائل اور موقع متاثر ہوتے ہیں۔ اگر فوج کے پاس سیاسی اور تنظیمی قوت نہ ہوتی تو مندرجہ بالا معاشی جاگیریں قائم نہیں کی جا سکتیں یا روپیہ کمانے کے مواقع نہ مل سکتے۔‘
مصنفہ کے بقول: ’پاکستان میں مل بس یا (ملٹری بزنس) کا آغاز فوج کے سیاسی میدان میں داخل ہونے کے ساتھ ساتھ ہوا۔ اگرچہ بعض سرگرمیاں مثلاً افسروں اور سپاہیوں کو زمینیں عطا کرنا آزادی سے پہلے کی نوآبادیاتی فوج سے ورثے میں ملی تھیں، لیکن انیس سو چوون کے بعد فوج کی داخلی معیشت نے غیرمعمولی ترقی کی۔ فوجی افسران کی مقامی نسل نے، جس نے انیس سو اکیاون کے آس پاس تینوں افواج کی اعلٰی تر کمان سنبھالی، فیصلہ سازی میں اپنا عمل دخل بڑھا کر اور ادارے کی مالیاتی خودمختاری کے ذریعے سیاسی اختیار حاصل کرنے کو اپنا ہدف بنایا۔ انفرادی طور پر فوجیوں تک خوشحالی پہنچانے کا کام مل بس کے ذریعے کیا گیا جو مراعات اور نوازشات بانٹنے کا ایک طریقہ بن گیا۔ اس طرح ادارے کی قومی وسائل پر تصرف حاصل کرنے کی صلاحیت بڑے منظم انداز میں بڑھتی گئی اور ادارے اور افراد دونوں کی مالیاتی اور معاشی طاقت میں بہت اضافہ ہو گیا۔ یہ کام مسلح افواج کے زیرِ اختیار کاروبار قائم کرکے کیا گیا۔‘ ’پاکستان اور ہندوستان دونوں میں فوج کی کمان سنبھالنے کے لیے جونیئر افسروں کی جلد ترقیوں نے ان کے فوجی ادارے کے معیار کو بحیثیت مجموعی متاثر کیا۔ تاہم، پاکستان میں ایک اور عنصر یہ بھی موجود تھا کہ فوج پر سیاسی کنٹرول ڈھیلا تھا جس نے فوج کے اعلیٰ ترین حلقوں میں سیاسی عزائم پیدا کیے۔ دوسری طرف ہندوستان کی سیاسی قیادت نے سیاسی طبقے اور سول بیوروکریسی کی بالادستی قائم کرنے کے لیے اقدامات کیے۔‘ ’نتیجہ یہ ہوا کہ پاکستانی فوج نے کمزور سیاسی طبقے کو ایک طرف دھکیل کر خود کو حکمرانی کا کنٹرول براہِ راست سنبھالنے کی جانب بڑھایا۔ پہلا مارشل لاء انیس سو اٹھاون میں نافذ کیا گیا۔ اس وقت سے فوج اقتدار کی سیاست میں اپنے آپ کو بحیثیت برتر قوت کے مستحکم کرتی چلی گئی۔ مل بس کا سب سے نمایاں اور جانا پہچانا حصہ چار فلاحی فاؤنڈیشنں ہیں: فوجی فاؤنڈیشن (ایف ایف)، آرمی ویلفیئر ٹرسٹ (اے ڈبلیو ٹی)،
ملک کی تاریخ کے اٹھاون برسوں میں فوج نے چار مرتبہ براہِ راست حکومت کی ہے اور حکومت پر براہِ راست کنٹرول نہ ہونے کی صورت میں بھی اختیارات کے استعمال کے طریقے سیکھ گئی ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بار بار یہ رجحان دکھائی دیتا ہے کہ سات سے دس برس کی سویلین حکومت کے بعد تقریباً دس برس کی فوجی حکومت آتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ سول سوسائٹی اور سیاسی ادارے کمزور رہتے ہیں۔‘ ’فوج کی طاقتور پوزیشن نے اسے سیاست میں بھی ایک مراعات یافتہ پوزیشن دلا دی۔ یہ ادارہ ایک برتر طبقہ بن گیا جسے معاشرے، سیاست اور معیشت میں خاصا اثرورسوخ حاصل تھا۔ فوج کی اپنی اقدار ہیں، تجارتی کلچر اور کاروباری ضوابط ہیں۔ اس کے طے شدہ کاروباری مفادات ہیں اور اسے مالیاتی خودمختاری حاصل ہے اور اس نے اپنے ادارے میں داخلے پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ فوج کے عہدیداران سول بیوروکریسی میں عہدے حاصل کر سکتے ہیں لیکن کسی بھی سویلین ادارے کا کوئی فرد مسلح افواج میں کوئی عہدہ حاصل کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس قسم کی پابندیوں کی وجہ فوج کی پیشہ ورانہ نوعیت بھی ہے اور یہ بھی کہ فوج اپنے ادارے میں داخلے کی سختی سے نگرانی کرتی ہے۔ انیس سو ستتر کے بعد فوج نے خود کو ایک ایسے الگ پیشہ ورانہ اور سماجی طبقے کی شکل دینے کی واضح کوششیں کیں جو ملک کے کسی بھی دوسرے طبقے کی طرح اپنے مفادات کے لیے جدوجہد کی طاقت رکھتا ہو۔ فوج نے جو سب سے بڑا ادارہ ہے اور سیاسی اعتبار سے سب سے زیادہ بارسوخ ہے انیس سو پچاسی میں سویلین حکومت کو مجبور کیا کہ آئین میں اس متنازعہ ترمیم کی منظوری دے جس کے تحت صدر کو پارلیمنٹ کو برطرف کرنے کا اختیار مل گیا۔ یہ قانونی انتظام ان حکومتوں کو برطرف کرنے کے لیے ایک حفاظتی والو کی حیثیت رکھتا تھا جو فوج کی اتھارٹی پر سوال اٹھائیں یا جن پر فوج کو اعتماد نہ ہو۔ آگے چل کر جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت نے دو ہزار چار میں قومی سلامتی کونسل قائم کر دی جس نے فوج کی حیثیت پالیسی کی تعمیل کے ایک ذریعے سے بدل کر ایک بے حد طاقتور ادارے کی کر دی جو حکمران اشرافیہ کے ایک مساوی حصہ دار کی حیثیت سے اپنے مفادات کا تحفظ کر سکتا ہے۔ قومی سلامتی کونسل کے قیام کی تجویز انیس سو ستتر سے مسلسل پیش کی جاتی رہی تھی۔ ترکی اور چلی کی قومی سلامتی کونسل کے نمونے پر قائم کی گئی کونسل نے مسلح افواج کو پالیسی سازی کے محض ایک آلہ کار سے بڑھا کر سول اور سیاسی سوسائٹی کے ایک مساوی شراکت دار کا درجہ دے دیا۔ ایک اہم دلیل یہ دی جاتی ہے کہ معاشی مفادات یا مالیاتی خودمختاری نے فوجی اشرافیہ کو اپنے ادارے کے لیے خودمختار مقام دلوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ خودمختار معاشی طاقت نے نہ صرف سینئر فوجی افسروں کی خوداعتمادی میں اضافہ کیا بلکہ انہیں ایک طرح کا احساسِ برتری بھی عطا کیا۔ اس طرح سیاسی اور معاشی خودمختاری ایک ایسی فوج کے لیے مہلک ہتھیاروں کی حیثیت رکھتے ہیں جو حکومت پر قبضہ کا رجحان رکھتی ہو۔‘
عائشہ صدیقہ لکھتی ہے کہ ’میں نے اس کتاب کے لیے بنیادی اور ثانوی دونوں ذرائع استعمال کیے ہیں۔ ریسرچ کے دوران مجھے یہ بھی پتہ چلا کہ میڈیا اور سول سوسائٹی کی طرف سے فوج کی معاشی ایمپائر کو اجاگر کرنے میں ناکامی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دستیاب اعدادوشمار مثلاً بعض کمپنیوں کی مالیاتی رپورٹوں کا تجزیہ کرنے کی کوئی باقاعدہ کوششیں نہیں کی گئیں۔ مندرجہ بالا چاروں فاؤنڈیشنوں کی جانب سے چلائے جانے والے چھیانوے منصوبوں میں سے صرف نو سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے پاس رجسٹرڈ ہیں۔ میں نے ان فوجی کمپنیوں کی رپورٹوں کو اخبارات کی رپورٹوں کے ساتھ ثانوی معلوماتی ذرائع کے طور پر استعمال کیا ہے۔ جبکہ بنیادی معلوماتی ذرائع میں سے ایک سے زائد انٹرویو ہیں جو کاروباری حضرات، سیاستدانوں، ریٹائرڈ فوجی افسران اور سیاسی اور دفاعی تجزیہ نگاروں سے کیے گئے۔‘ وہ کہتی ہے کہ ’میں بعض تاریخی حقائق کو ان فاؤنڈیشنز کے موجودہ اور سابقہ مینجروں سے انٹرویوز کے ذریعے یکجا کر پائی۔ اگرچہ ان کے انکشافات محدود تھے، اس سے کچھ اندازہ لگانا ممکن تھا کہ وہ فوج کے معیشت اور سیاست میں عمل دخل کو کس طرح دیکھتے ہیں۔ یہ کوئی حیران کن بات نہیں تھی کہ زیادہ تر سابق فوجی افسران نے اپنے ادارے کے کاروبار میں ملوث ہونے کی مکمل طور پر تردید کی۔‘ عائشہ صدیقہ کی کتاب کے مزید اقتباسات منگل کو شائع کیے جائیں گے۔ |
اسی بارے میں ’فوج کا کوئی سیاسی کردار نہیں‘02 April, 2005 | پاکستان ’آئین افضل ہے یا فوجی ڈکٹیٹر‘04 April, 2005 | پاکستان فوج کے خلاف رائے پر شدید ردِ عمل 02 March, 2005 | پاکستان ’فوج کی ساکھ کو خطرہ ہے‘16 January, 2005 | پاکستان ’فوج لاپتہ فوجیوں کو تلاش کرے‘13 March, 2005 | پاکستان بری فوج ترقیاں، تبادلےاور تقرریاں 03 October, 2004 | پاکستان فوج: دو افسران کی تقرری کا مطلب؟03 October, 2004 | پاکستان فوج میں اہم تقرریاں02 October, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||