BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 13 March, 2005, 12:27 GMT 17:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فوج لاپتہ فوجیوں کو تلاش کرے‘

News image
فوج کا کہنا ہے کہ تلاش موسم میں بہتری آنے کے بعد دوبارہ شروع کی جائے گی
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں گزشتہ ماہ برف باری میں لاپتہ ہونے والے چوبیس فوجیوں کے لواحقین نے الزام لگایا ہے کہ فوج نے ان کی لاشیں تلاش کرنے کا کام مؤخر کر دیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان فوج کا کہنا ہے کہ ان کی تلاش فوج کی اخلاقی اور پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے جوکہ علاقے میں موسم میں بہتری آنے کے بعد دوبارہ شروع کی جائے گی۔

گزشتہ ماہ کی نو تاریخ کو افغان سرحد پر واقع خیبر ایجنسی کے دور دراز پہاڑی علاقے تیراہ میں امدادی مشن پر بھیجی جانے والی فوجیوں کی ایک اکتیس رکنی ٹیم برف باری میں لاپتہ ہوگئی تھی۔ ان میں سے چند کو بچا لیا گیا تھا لیکن چوبیس فوجیوں کے بارے میں آج تک کچھ معلوم نہیں وہ کہاں ہیں۔

چند روز قبل تک فوجی حکام کا کہنا تھا کہ ان کی تلاش کا کام جاری ہے البتہ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان لاپتہ فوجیوں کے لواحقین کا کہنا تھا کہ یہ کام مئی تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ حکومت نے اس علاقے میں ان کا داخلہ بھی بند کر دیا ہے۔

ان چوبیس لاپتہ فوجیوں میں سے چودہ کا تعلق نیم فوجی فرنٹیر کور سے بتایا جاتا ہے۔ ان چودہ میں گیارہ سپاہیوں کا تعلق خیبر ایجنسی کے آفریدی، ایک کا بنگش جبکہ باقی کا دیگر قبیلوں سے ہے۔

لاپتہ ہونے والے ایک خیبر رائفلز کے ایک سپاہی کے بھائی مختیار گل کوکی خیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہمارے شہدا کو جنگلی جانوروں کی خوراک کے لئے چھوڑنا کہاں کا انصاف ہے؟’

ان ورثاء نے جن میں صاحبزادہ، عثمان آفریدی، حاجی عنایت اور دیگر شامل تھے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے انتہائی خراب موسمی حالات میں ان سپاہیوں کو اس خطرناک راستے پر بھیجنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خراب موسم بھی محض ایک بہانہ ہے جبکہ کئی دنوں سے تیراہ میں موسم صاف ہے۔

انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ان کی لاشیں برآمد کرنے کے لئے جلد کارروائی شروع نہ کی گئی تو وہ ہتھیار اٹھانے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔

دوسری جانب فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا تھا کہ فوج ان افراد کو بھولنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔

’ان افراد کی تلاش ہماری اخلاقی اور پیع ورانہ ذمہ داری ہے۔ موسم کے بہتر ہوتے ہی ان کی تلاش دوبارہ شروع کر دی جائے گی۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد