BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 10 August, 2004, 09:47 GMT 14:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’چار سال میں بہت کچھ سیکھا ہے‘

صدر پرویز مشرف
صدر مشرف کا کہنا ہے کہ اگر انہیں ڈکٹیشن لینا پڑی تو وہ کرسی چھوڑ دیں گے
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان اپنی فوج عراق نہیں بھیج سکتا اور اس سلسلے میں ان پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز ایک اردو اخبار میں شائع ہونے والے انٹرویو میں کیا ہے۔

’عراق فوج بھیجنے کے لیے ہم پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔ دباؤ ہوتا تو میں آپ کو بتاتا۔ میں نے جنگیں لڑی ہیں۔ میں دبنے والا نہیں ہوں۔‘

صدر نے مزید کہا کہ انہیں چار سال قبل سفارتکاری نہیں آتی تھی اور وہ بہت اکھڑ تھے لیکن اب انہوں نے دو چیزیں سیکھ لی ہیں کہ دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کرنا چاہیے تھوڑا سا کھلا رکھنا چاہیے۔

صدر نے کہا ’ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم عراق فوج نہیں بھیجیں گے، لیکن یہ خراب ڈپلومیسی ہوگی کیونکہ جب وہاں سے امریکہ چلا جائے گا اور مسلم ممالک آئیں گے اور بھارت بھی چلا جائے گا تو ہم پچھتائیں گے کہ پاکستان نے ایسا فیصلہ کیوں کیا کہ فوج بالکل نہ بھیجی جائے۔‘

دباؤ
 عراق فوج بھیجنے کے لیے ہم پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔ دباؤ ہوتا تو میں آپ کو بتاتا
مشرف
انہوں نے کہا ہے کہ نئی عراقی حکومت سے ان کے اچھے تعلقات ہیں اور ایاد علاوی سے وہ ملے تھے اور ان سے فون پر بات بھی ہوتی رہتی ہے۔ لیکن جب تک ماحول ٹھیک نہیں ہوتا اس وقت تک پورا دروازہ کھولیں گے نہ بند کریں گے۔صدر نے بتایا ہے کہ جب بھی امریکی صدر بش اور وزیر خارجہ کولن پاول، برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر یا اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے ان سے بات کی ہے تو انہوں نے ان سے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت فوج عراق بھیجے گا جب:-

اوّل: عراق کے لوگ خود دعوت دیں۔
دوم: ہماری فوج عراق میں موجود اتحادی افواج کی توسیع نہ سمجھا جائے۔
سوم: جب دوسرے مسملمان ملک بھی فوجیں بھیجیں۔

صدر مشرف نے کہا کہ انہوں نے عالمی رہنماؤں سے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ پاکستان میں مقامی طور پر فضا عراق میں فوجیں بھیجنے کے حق میں نہیں ہے جب ہوگی تو سوچیں گے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ سے ڈکٹیشن لینے کے الزامات بے بنیاد ہیں ایسے الزامات سے ان کی دل شکنی ہوتی ہے اور ان کو وہ اپنی توہین سمجھتے ہیں اوراگر انہیں ڈکٹیشن لینا پڑی تو وہ کرسی چھوڑ دیں گے۔

پسینہ
 مجھے پسینہ بہت کم آتا ہے لیکن جب جوہری پھیلاؤ سے متعلق دستاویزات میرے سامنے رکھی گئیں تو مجھے واقعی پسینہ آگیا
صدر مشرف
ان کے مطابق ان پر دو مواقع پر سخت ترین دباؤ تھا۔ ’ایک گیارہ ستمبر کے فوری بعد اور دوسرا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی طرف سے ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی کے معاملے کے وقت۔ لیکن دونوں مواقع پر میں نے ڈکٹیشن نہیں لی۔‘

’مجھے پسینہ بہت کم آتا ہے لیکن جب تمام وہ امور (جوہری پھیلاؤ)، جن سے پاکستان انکار کرتا رہا ہے، سے متعلق دستاویزات میرے سامنے رکھی گئیں تو مجھے واقعی پسینہ آگیا۔‘

انہوں نے کہا کہ عام تاثر یہ ہے کہ فوجی افسران کی تقرریاں بھی امریکہ سے پوچھے بغیر نہیں ہوتیں، لیکن وہ حلفیہ کہتے ہیں کہ ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق امریکی سفیر نے کبھی نہیں پوچھا کہ کس افسر کو کہاں مقرر کیا جانا ہے۔

صدر مشرف کے شائع شدہ انٹرویو کے مطابق انہوں نے کہا ہے کہ کراچی میں کور کمانڈر کے قتل کا سرغنہ یا ’ماسٹر مائنڈ‘ عطاء الرحمٰن کو گرفتار کرلیا گیا ہے جو کہ جنداللہ کے سربراہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بم دھماکے کرنے والے چھوٹے لوگ ہیں، ان کے پیچھے بڑا آدمی ہے جو منصوبہ ساز ہے اور ان سب کا ماسٹر مائنڈ القاعدہ ہے۔ صدر کے مطابق بم دھماکہ کرنے والے کو پکڑ کر خوش نہیں ہونا چاہیے بلک سرغنہ کو پکڑنا ہے۔

صدر نے کہا ہے کہ قبائلی علاقے وانا میں ’دہشت گردی‘ کا سرچشمہ ہے جس پر وہ حملے کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پاکستانیوں کی تلاشی سخت ہوتی ہے کیونکہ جب بھی کوئی دہشت گردی ہوتی ہے تحقیقات میں پتہ چلتا ہے کہ وہ پاکستان یا افغانستان سے آئے ہیں۔

’ہم نے ان کے لیے(دہشت گردوں) ملک کو مہمان خانہ بنا رکھا ہے، تنزانیہ، افغانستان،ازبکستان اور ہر جگہ کے دہشت گرد یہاں سے برآمد ہورہے ہیں، نتیجے میں پاکستانیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد