BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 July, 2004, 13:50 GMT 18:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اعتماد کی بحالی ضروری ہے: مشرف

وزیر اعظم شجاعت حسین
سارک وزراء خارجہ کے اجلاس کا افتتاح وزیر اعظم شجاعت حسین نے کیا
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم ’سارک‘ کے ذریعے رکن ممالک کے درمیاں اعتماد کی بحالی کے ایسے اقدامات اٹھانے چاہیے کہ رکن ممالک کے درمیاں تنازعات ختم کیے جا سکیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز سارک ممالک کے وزراء خارجہ سے ملاقات کے دوران کیا، جنہوں نے ان سے ایوان صدر میں ملاقات کی۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے وفد پر زور دیا کہ سارک کے کردار کو خطے کی حوشحالی کے لیے فعال کرنا چاہیے تاکہ یہ تنظیم موثر کردار ادا کر سکے۔

قبل ازیں جنوبی ایشیائی تنظیم سارک ممالک کے وزرائے خارجہ کا پچیسواں اجلاس منگل کے روز اسلام آباد میں شروع ہوا جس کا افتتاح پاکستان کے وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین نے کیا۔

سارک
اجلاس میں سارک کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شرکت کررہے ہیں

دو روزہ اجلاس کے دوران سارک ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے اور سارک کو زیادہ موثر تنظیم بنانے پر غور کیا جائے گا اور رواں سال جنوری میں سارک سربراہ اجلاس کے موقع پر سارک بینک کے قیام سمیت کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔

اجلاس میں سارک کے رکن ممالک ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان، سری لنکا اور مالدیپ کے وزرائے خارجہ شرکت کررہے ہیں۔

وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین نے افتتاحی اجلاس میں اپنی تقریر میں کہا کہ خطے کی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرے۔

چودھری شجاعت حسین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہندوستان کے ساتھ اختلافات کو دور کرنے کے لیے امن کوششوں کو جاری رکھے گا۔

’میں دنیا، خاص طور پر سارک ملکوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ پاکستان ہندوستان کے ساتھ امن مذاکرات کے عمل کو جاری رکھنے میں بہت سنجیدہ ہے۔‘

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزراء کونسل کے چیئرمین خورشید محمود قصوری کا کہنا تھا کہ سارک کو فعال بنا کر رکن ممالک باہمی تعاون اور وسائل کے استعمال سے جنوبی ایشیا میں بسنے والے ایک ارب چالیس کروڑ انسانوں کی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سارک کے دیگر عالمی تنظیموں سے تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول گزشتہ چھ ماہ سے سارک ایک نئے عزم کے ساتھ فعال ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی ایشیا کی صدی ہے جس کے لیے خطے سے تمام باہمی تنازعات کو ختم کرنا ہوگا۔

بعد میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاک بھارت مذاکرات کو آگے بڑھانے کے متعلق بھارتی حکومت کے بیانات خوش آئند ہیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ فیصلے سیاسی قیادت کو ہی کرنے پڑیں گے بیورو کریٹس کچھ نہیں کرسکیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی قیادت کو جرات کا مظاہرہ کرنا ہوگا اگر ایسا نہ ہوا تو اگلے ستاون برس تک بھی مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا۔

بھارتی وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے دو روزہ اجلاس سے خطاب میں سارک کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور سارک کو فعال کرنے کی تجاویز سے اتفاق کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ سب کو مایوسی کے ساتھ تسلیم کرنا ہوگا کہ سارک دیگر علاقائی تنظیموں کی نسبت خاصی کمزور ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر جنوبی ایشیا کو کھلی سرحدوں کا خطہ بنانا ہے تو ’دہشت گردی، پر سمجوتا نہیں کرنا ہوگا۔

بعد میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاک بھارت مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں اور انتظار کریں کہ چیزیں آہستہ آہستہ کیسے کھلتی ہیں۔

واضح رہے کہ بھارتی وزیر خارجہ نٹور سنگھ صدر جنرل پرویز مشرف، وزیراعظم چودھری شجاعت حسین اور وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کے ساتھ دو طرفہ امور پر بات چیت کے لیے ملاقاتیں بھی کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد