BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 July, 2004, 14:38 GMT 19:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امن مذاکرات پر غور ہوگا: مسعود

نٹور سنگھ اور قصوری
بھارتی وزیرخارجہ نٹور سنگھ اور پاکستان وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری میں پہلے ملاقات ہو چکی ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے کہا ہے کہ سارک وزراء کونسل کے اجلاس کے موقعہ پر پاکستان اور بھارت کے وزراء خارجہ میں دو طرفہ معاملات کے بارے میں بھی ملاقات ہوگی جس میں مذاکرات کے عمل کو آگےبڑھانے پر غور ہوگا۔

پیر کے روز ہفتہ وار بریفنگ کے موقعہ پر ان کا کہنا تھا کہ بیس اور اکیس جولائی کو اسلام آباد میں سارک وزراء کونسل کا اجلاس ہوگا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان کے وزیر خارجہ کا مسئلہ کشمیر پر لچک ظاہر کرنے کے بیان سے کیا مراد تھی؟

اس پر ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے متعلق یکطرفہ لچک کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کشمیر ایک تنازعہ ہے اس پر دونوں فریقین کو لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
ترجمان کہہ رہے تھے کہ خارجہ سیکرٹریز کی سطح پر مذاکرات کو سنجیدگی کے ساتھ پائیدار بنانے اور آگے بڑھانے پر بات چیت ہوئی تھی جو کہ ان کے بقول اچھا آغاز ہے۔

کراچی اور بمبئی میں قونصلیٹ کھولنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ طریقہ کار طے کیا جا رہا ہے تاہم تاریخوں کا تعین ابھی نہیں ہوا۔

کنٹرول لائن پر باڑ کی تعمیر کے بارے میں سوال پر ترجمان کا کہنا تھا کہ باڑ کی تعمیر کے بارے میں پاکستان نے رضامندی ظاہر نہیں کی۔ ان کے بقول پاکستان نے بارہا بھارت سے کہا ہے کہ باڑ تعمیر نہ کی جائے اور اقوام متحدہ کو بھی آگاہ کردیا ہے۔

جب انہیں باڑ کے معاملے پر سیکرٹری خارجہ کا موقف یاد کرایا گیا تو ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کی بات بھی سیکرٹری سے مختلف نہیں ہے کیونکہ ان کے بقول سیکرٹری نے کہا تھا کہ باڑ کا مسئلہ کوئی آخری بات نہیں ہے۔ ترجمان کا دعویٰ تھا کہ باڑ کی تعمیر عالمی اصولوں کے منافی ہے۔

افغانستان میں امریکی سفیر ظلمے خلیل زاد کے تازہ بیان پر، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ پاکستان طالبان اور القاعدہ کے لیے محفوظ جنت ہے، ترجمان نے مایوسی ظاہر کی اور کہا کہ امریکی سفیر کے بیانات وہ نہیں ہیں جو کچھ ان کے بقول امریکی قیادت کے ہیں ۔

مسعود خان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی سفیر کے بیانات پاکستانی عوام کی توہین کرنے کے مترادف ہیں کیونکہ ان کے بقول دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کا بڑا حصہ ہے۔

انہوں نے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور وائٹ ہاؤس پر زور دیا کہ وہ ان بیانات کو دیکھیں کیوں کہ ان کے بقول ایسے بیانات پاکستان کے امریکہ اور افغانستان سے بہتر تعلقات کے لیے مددگار نہیں ہوسکتے۔

حال ہی میں عراق سے اغوا ہونے والے پاکستانی ڈرائیور کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی لین دین کے بغیر رہا ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد