BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 July, 2004, 02:09 GMT 07:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان آسیان کا رکن بن گیا
اسیان کا اجلاس
پاکستان فورم کا چوبیسواں رکن ہے
جمعہ کے روز پاکستان کو جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کی تنظیم آسیان کے علاقائی فورم کا باضابطہ رکن بنا دیا گیا۔

پاکستان کی شمولیت ہندوستان کی طرف سے کی جانے والی مخالفت ختم ہونے کے بعد ممکن ہو سکی ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس یقین دہانی کے بعد کہ اس فورم پر مسلئہ کشمیر کو نہیں اٹھایا جائیگا بھارت نے گزشتہ برس سے اپنی مخالفت ترک کردی تھی۔

فورم 1994 میں آسیان کےدس رکن ملکوں کی ایشیا ئی اور یورپی یونین کے ملکوں سے سیاسی مفاہمت بڑھانے کی غرض سے قائم کیا گیا تھا۔ پندرہ رکنی آسیان علاقائی فورم کا اجلاس آج کل انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں ہو رہا ہے۔

جمعہ کے روز پاکستان اور ہندوستان کے وزراء خارجہ نے اجلاس کے موقع پر غیر رسمی بات چیت کی۔

ملاقات کے بعد ہندوستان کے وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے کہا کہ ملاقات کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ہونے والوں کی کوششوں کو آگے بڑھایا گیا ہے۔

’ہم نے ان کوششوں کو یہاں بھی آگے بڑھایا ہے اور اسلام آباد اور دلی میں ہونے والی ملاقاتوں میں بھی آگے بڑھائیں گے۔‘

پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید قصوری نے کہا کہ اگرچہ ایک ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کی بحالی کے لیے کچھ زیادہ پیش رفت نہیں ہو سکتی لیکن ہم نے اعتماد کا ایک فضا قائم کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے جو اس مقصد کے حصول میں مددگار ثابت ہو گی۔

تنظیم کے اجلاس میں شریک پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے اسے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان سلامتی اور سیاسی نکتہء نگاہ سے فورم میں شمولیت کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ اس سے جنوبی ایشیا میں امن وسلامتی کے فروغ میں مدد ملے گی۔ جو ایشیا کے وسیع تر مفاد میں ہے۔ کیونکہ اس خطے میں رونما ہونے والے حالات مشرقی ایشیا پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

مسعود خان نے کہا کہ پاکستان اس فورم کو جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے کےلئے استمعال کرے گا۔

تنظیم کے رکن ملکوں اور جنوب مشرقی ایشیا کے تین ہمسایہ ملکوں چین، جاپان اور جنوبی کوریا کے وزرائے خارجہ کا اجلاس جمعرات کو جکارتا ہو رہا ہے۔ ہمسایہ ملکوں کو اجلاس میں شرکت کی دعوت کا مقصد اقتصادی تعاون کو فورم کے دائرہ کار سے باہر فروغ دینا ہے۔

واضح رہے کہ جنوب مشرقی ایشیا ئی ملک برونائی ، کمبوڈیا، انڈونیشیا، لاؤس، ملائشیا، میانمار، سنگاپور، تھائی لینڈ، فلیپین، اور ویت نام اقتصادی تعاون فورم آسیان کے رکن ہیں۔تاہم پاکستان کا اس فورم کے اقتصادی مفادات سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد