BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 December, 2005, 00:38 GMT 05:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فوجی ہیڈکوارٹر یا جرنیلی رہائش ‘

 فوجی ترجمان
فوجی ترجمان نے فوجی ہیڈ کوارٹر کے بارے بات کرنے سے انکار کر دیا۔
پاکستان کے دارالحکومت میں پاک فوج کے لیے دو عشاریہ چار ارب ڈالر کی لاگت سے ڈیفنس سروسز کمپلکس کے نام سے ایک نیا ہیڈکواٹر تعمیر کیا جارہا ہے جو کہ دنیا کا سب سے بڑا فوجی ہیڈ کواٹر ہو گا۔

پاکستان مسلم لیگ کے رہنماؤں نے جمعہ کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاک فوج کے اس منصوبے پر تشویش کا اظہار کیا اور اسے پاکستان کی تاریخ کا سب سے مہنگا ترین منصوبہ قرار دیا۔

مسلم لیگ کے رہنماؤں نےجن میں خواجہ سعد رفیق، ظفر علی شاہ اور مشاہداللہ شامل تھے اس مشترکہ پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ فوج کے ہیڈ کوارٹر کے نام پر دراصل جرنیلوں کے لیے یہ ایک بہت بڑا رہائشی منصوبہ تعمیر کیا جا رہا ہے۔

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان سے جب ان الزامات اور اس منصوبے کے تعمیراتی اخراجات کے حوالے سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس سلسلے میں کوئی بات کرنے سے انکار کردیا۔

اسلام آباد فوجی ہیڈکوارٹر
 اس فوجی ہیڈ کواٹر میں چھ بیڈ روم والے نوے بنگلے، چار بیڈ روم والے تین سو بنگلے اور چودہ ہزار سات سو پچاس لگژی اپارٹمنٹس تعمیر کیے جا رہے ہیں۔
خواجہ سعد رفیق

انہوں نے کہا کہ صدر اس سلسلے میں پہلے کئی دفعہ بات کر چکے ہیں اور میں اس پر مزید بات کرنا ضروری نہیں سمجھتا۔

خواجہ سعد رفیق نے منصوبے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ کمپلکس دو ہزار چار سو پچاس ایکٹر پر رقبے پر تعمیر کیا جا رہا ہے اور یہ رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا فوجی ہیڈ کواٹر بن جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس کی تعمیر پر دو عشاریہ چار ارب کے اخراجات کا جو تخمینہ ہے اس میں زمین کی قیمت شامل نہیں ہے جو کہ قانون کے مطابق فوج کو دارالحکومت کے ترقیاتی ادارے کیپٹل ڈویلپمنٹ سوسائٹی کو دینی ہے۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اس فوجی ہیڈ کواٹر کو یہ اعزاز بھی حاصل ہوگا کہ اس میں جرنیلوں کے لیے بنگلے، لگژری اپارٹمنٹس اور کمرشل علاقہ بھی تعمیر کیا جائے گا۔

اس فوجی ہیڈ کواٹر میں چھ بیڈ روم والے نوے بنگلے، چار بیڈ روم والے تین سو بنگلے اور چودہ ہزار سات سو پچاس لگژی اپارٹمنٹس تعمیر کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا اس کے لیے پینتالیس ایکٹر پر کمپلیکس کے اندر تین جھیلیں بنائی جائیں گی۔

اس کے علاوہ اس کمپلیکس کے اندر بارہ سکول اور دو کالج بھی بنائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کمپلیکس کے کل رقبے میں صرف دو سو ایکٹر پر دفاتر بنائے جائیں گے۔

ا

اسی بارے میں
’فوجی نے کہا ملک چھوڑ دو‘
07 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد